کشمیر میں کشیدگی برقرار، راولاکوٹ میں کرفیو اور مظفرآباد میں ہڑتال

آزاد کشمیر میں احتجاجی صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جہاں راولاکوٹ میں کرفیو اور مظفرآباد میں شٹر ڈاؤن برقرار ہے۔ دوسری جانب مختلف علاقوں سے آنے والے مظاہرین کے قافلے راولاکوٹ کے نواحی علاقے دریک میں موجود ہیں۔ لانگ مارچ میں شریک مظاہرین نے دریک میں پڑاؤ ڈال رکھا ہے۔ خطے میں کشیدگی کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے تیسرے روز پونچھ ڈویژن کے مرکزی شہر راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ایک بار پھر جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں ایک نوجوان کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔حالیہ ہلاکت کے بعد گزشتہ پانچ روز سے جاری کشیدگی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت جان سے ہاتھ دھونے والے افراد کی مجموعی تعداد 12 سے تجاوز کر گئی ہے۔خطے بھر میں مسلسل چھٹے روز بھی موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں، جبکہ بڑے شہروں میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے جمعرات کو ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جے اے اے سی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جا رہے۔ ان کے مطابق جن افراد کے خلاف قانونی کارروائی بنتی ہے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ غیر قانونی سرگرمیوں اور امن عامہ کو متاثر کرنے والے اقدامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق جمعرات کی صبح راولاکوٹ میں اس وقت صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی جب رینجرز کے دستوں نے یونیورسٹی کے تراڑ کیمپس کی جانب پیش قدمی کی۔ مظاہرین نے فورسز کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی، جس کے دوران شیلنگ اور مبینہ فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ابتدائی جھڑپوں کے بعد رینجرز کے اہلکار سدھن ایجوکیشن کانفرنس کے دفتر تک پہنچ گئے، جہاں مبینہ طور پر مارچ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم مظاہرین کی مزاحمت کے بعد فورسز کی گاڑیاں چنار ہوٹل چوک کی جانب واپس چلی گئیں۔

تازہ واقعات میں ضلع پلندری سے تعلق رکھنے والے نوجوان شعبان عارف کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کا بھی بتایا جا رہا ہے۔ بعدازاں مرحوم کی نماز جنازہ ادا کر کے ان کی میت آبائی علاقے دیوان گوراہ روانہ کر دی گئی۔کمشنر پونچھ سردار وحید نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز ایک گرفتاری کے سلسلے میں گئی تھیں، جہاں یہ صورتحال پیدا ہوئی، تاہم ان کے بقول اس وقت حالات قابو میں ہیں۔ڈپٹی کمشنر پونچھ ممتاز کاظمی کے مطابق راولاکوٹ میں نافذ کرفیو بدستور برقرار ہے اور کسی بھی بیرونی شخص کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد ہے۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تازہ جھڑپوں کے بعد فی الحال شہر میں سکون ہے، تاہم کرفیو کے باعث بازار بند اور سڑکیں سنسان ہیں۔

دوسری جانب میرپور، کوٹلی اور پلندری سے آنے والے مظاہرین کے قافلے راولاکوٹ کے نواحی گاؤں "دریک” کے عیدگاہ گراؤنڈ میں موجود ہیں۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب منعقد ہونے والے اجتماع سے ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار عمر نذیر نے خطاب کرتے ہوئے شرکا کو وہیں قیام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔اطلاعات کے مطابق ایکشن کمیٹی کا منصوبہ مختلف قافلوں کو راولاکوٹ میں یکجا کرنے کے بعد دارالحکومت مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کرنا ہے۔

لانگ مارچ کی متوقع منزل مظفرآباد میں صورتحال تاحال کشیدہ ہے، جہاں دفعہ 144 کے تحت اجتماعات اور ریلیوں پر پابندی برقرار ہے۔شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے جبکہ سکیورٹی فورسز کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ بحران مئی کے اختتام پر آٹے پر سبسڈی اور بجلی کے نرخوں میں ریلیف سے متعلق مذاکرات کی ناکامی کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا۔ بعدازاں حکومت نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے اہم رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کرنے اور گرفتاریوں کے احکامات جاری کیے تھے۔دوسری جانب کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

 

Back to top button