شہباز شریف ہتک عزت کیس: سپریم کورٹ نے عمران خان کا حق دفاع بحال کردیا

 

 

 

 

عمران خان اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ہتک عزت کیس میں سپریم کورٹ نے عمران خان کا حق دفاع بحال کر دیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے دائر کیےگئے ہرجانہ کیس میں سپریم کورٹ نے عمران خان کا حقِ دفاع بحال کرنے کی نظرثانی اپیل دو ججز کی اکثریت سے منظور کی جب کہ ایک جج نے حق دفاع ختم رکھنے کے حق میں اختلافی نوٹ تحریر کیا۔

اس کیس میں ٹرائل کورٹ نے عمران خان کا حق دفاع ختم کردیا تھا اور پھر لاہور ہائی کورٹ نے بھی حق دفاع ختم کرنے کا فیصلہ بحال رکھا تھا جس کےبعد عمران خان نے حق دفاع ختم کرنے کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مختصر فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے سنایا، جس کے مطابق عمران خان کا حقِ دفاع ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیاگیا اور ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی گئی ہےکہ وہ حق دفاع بحال کرکے قانون کےمطابق کارروائی آگے بڑھائے۔اکثریتی فیصلے میں کہاگیا ہےکہ 2017 میں عمران خان نے موجودہ وزیراعظم شہباز شریف پر پانامہ کیس واپس لینے کےلیے رقم کی پیشکش کا الزام عائد کیا تھا،جس پر شہباز شریف نے ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا۔

فیصلے کےمطابق یہ مقدمہ گزشتہ آٹھ سال سے ٹرائل کورٹ میں زیر التوا ہے، جب کہ شہباز شریف بطور وزیراعظم ہر سماعت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوتےرہے۔

عدالت نے نوٹ کیاکہ عمران خان نے ٹرائل کورٹ میں 70 سے زائد مرتبہ التوا طلب کیا اور چار سال کی تاخیر سے جواب جمع کرایا،جس کےبعد ٹرائل کورٹ نے ان کا حقِ دفاع ختم کردیا تھا،جسے بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

خیال رہے کہ عمران خان نے حقِ دفاع ختم کرنے کے فیصلے کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔اس سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل تین رکنی بینچ نے اپیل کی سماعت کی تھی،جہاں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان نے حق دفاع ختم کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا جب کہ جسٹس عائشہ ملک نے اختلاف کیا تھا۔

بعد ازاں نظرثانی اپیل جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے سنی،جس میں جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے اور دو ایک کی اکثریت سے عمران خان کا حقِ دفاع بحال کردیا گیا۔

گنڈاپور کی بغاوت، PTIرہنماؤں کو ڈکٹیٹرز قرار دے دیا

29 دسمبر 2022 کو جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان نے عمران خان کا حق دفاع ختم کرنے کا ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

 

 

Back to top button