کشمیر ایکشن کمیٹی سے وابستہ باغی رہنما کون؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری حالیہ احتجاجی تحریک نے کئی ایسی شخصیات کو قومی سطح پر موضوعِ بحث بنا دیا ہے جو چند برس قبل تک مقامی سطح پر تاجر رہنما، وکلا، کاروباری افراد یا طلبہ تنظیموں کے کارکن سمجھے جاتے تھے۔ مبصرین کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ یہ وہ چہرے ہیں جو کبھی تعلیمی اداروں میں طلبہ حقوق، مقامی مسائل اور سیاسی نظریات کی نمائندگی کرتے دکھائی دیتے تھے، مگر آج حکومت کی جانب سے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: آخر یہ رہنما طلبہ سیاست اور سماجی سرگرمیوں سے ریاستی سطح پر مطلوب شخصیات کیسے بن گئے؟
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے اور اس کے رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے انعامات مقرر کیے جانے کے بعد ان شخصیات کی سیاسی جدوجہد کا سفر ایک نئی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کا تعلق مظفر آباد سے ہے۔ وہ ابتدا میں تاجروں کے مسائل، ٹیکس پالیسیوں اور مقامی کاروباری مشکلات کے حوالے سے آواز بلند کرتے رہے۔ ان کی شناخت ایک کاروباری شخصیت کے طور پر تھی، تاہم مہنگائی، آٹے کی قیمتوں اور بجلی کے نرخوں کے خلاف شروع ہونے والی عوامی مہم نے انہیں احتجاجی سیاست کے مرکزی کردار میں تبدیل کر دیا۔”سستا آٹا، سستی بجلی” کے نعرے سے شروع ہونے والی تحریک وقت کے ساتھ ایک وسیع عوامی پلیٹ فارم میں بدل گئی اور شوکت نواز میر اس کے نمایاں چہرہ بن کر ابھرے۔
اسی طرح راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے عمر نذیر کشمیری عملی زندگی میں کاروبار سے وابستہ رہے۔ طالب علمی کے زمانے میں وہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ سے متاثر رہے، تاہم بعد ازاں عوامی ایکشن کمیٹی کے بانی ارکان میں شامل ہوگئے۔کمیٹی کے بیشتر اہم اعلانات اور مذاکراتی عمل میں ان کا کردار نمایاں رہا۔ ستمبر 2025 میں حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں بھی ان کا نام شامل تھا۔ حالیہ کشیدگی کے دوران ان پر حملے اور ان کے ساتھی کی ہلاکت نے احتجاج کو مزید شدت دی۔
ڈڈھیال سے تعلق رکھنے والے خواجہ مہران ارشد پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ جامعہ پنجاب میں طالب علمی کے دوران وہ کشمیری طلبہ سیاست سے وابستہ رہے۔ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے علاقے میں عوامی مسائل کے حل کے لیے مقامی سطح پر سرگرمیاں شروع کیں۔بعد ازاں وہ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور قیادت کا حصہ بن گئے اور مختلف احتجاجی تحریکوں میں فعال کردار ادا کیا۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے ہی ایک اور کور کمیٹی ممبر سردار امان کا تعلق ضلع سدھنوتی سے ہے۔ کراچی یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ طلبہ سیاست میں متحرک رہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی علاقے واپس آکر کاروبار شروع کیا، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں سے ان کی وابستگی بڑھتی گئی۔اگرچہ وہ مرکزی قیادت کا حصہ نہیں سمجھے جاتے، لیکن ضلعی سطح پر ان کا کردار خاصا مؤثر رہا ہے اور ان کے خلاف مختلف مقدمات بھی درج کیے جا چکے ہیں۔
کشمیر میں جاری کشیدہ صورتحال بارے حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض رہنما ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی، امنِ عامہ میں خلل اور دیگر سنگین الزامات میں ملوث ہیں، اسی بنیاد پر تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔دوسری جانب ایکشن کمیٹی اور اس کے حامی ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد عوامی حقوق، مہنگائی کے خاتمے، مقامی اختیارات اور آئینی مطالبات کے لیے ہے، اور اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے قانونی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
مبصرین کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے ان رہنماؤں کی کہانی دراصل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے کی عکاس ہے۔ ان میں سے کئی افراد نے اپنی سیاسی شناخت طلبہ تنظیموں، مقامی کاروباری حلقوں یا سماجی سرگرمیوں سے حاصل کی، مگر وقت کے ساتھ وہ ایک ایسی تحریک کا حصہ بن گئے جو اب ریاست اور احتجاجی قیادت کے درمیان شدید محاذ آرائی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ "طلبہ رہنما سے انتہائی مطلوب تک” کا سفر محض چند شخصیات کی داستان نہیں، بلکہ ایک ایسے خطے کی سیاسی کشمکش کی علامت ہے جہاں عوامی مطالبات، ریاستی اختیارات اور احتجاجی سیاست ایک پیچیدہ موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔
