فوجی فاؤنڈیشن کا پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو خریدنے کا فیصلہ

 

 

 

 

فوجی فاؤنڈیشن نے تین دیگر کمپنیوں کے ساتھ مل کر پی آئی اے خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔ حکومت کی جانب سے ڈیڈ لاک کا سبب بنی والی تمام رکاوٹیں دور کرنے کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن یعنی پی آئی اے کی نجکاری کا عمل آخرکار اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن سمیت چار بڑے کاروباری گروپوں پر مشتمل ایک کنسورشیم نے قومی ایئر لائن کے 60 فیصد حصص خریدنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ حکومت نے 200ارب سے زائد کےخسارے میں رعایت دینے اور ملازمین کے مستقبل سے متعلق شرائط میں نرمی کا اعلان کر دیا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری نہ صرف حکومت کے لیے آئی ایم ایف شرائط پوری کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے بلکہ قومی ایئر لائن کے مستقبل کے حوالے سے بھی فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ کنسورشیم سے کامیابی کے ساتھ ڈیل پایہ تکمیل تک پہنچنے کی صورت میں جہاں پی آئی اے کے مالی خسارے کا بوجھ کم ہوگا وہیں قیمتی لینڈنگ سلاٹس کے بہتر استعمال سے قومی ایئر لائن کو دوبارہ عالمی ایوی ایشن انڈسٹری میں اپنی ساکھ بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ تاہم، یہ سب کچھ خریدار گروپوں کی حکمت عملی اور حکومت کی پالیسی پر منحصر ہے کہ آنے والے برسوں میں پی آئی اے ایک بار پھر بلندیوں کو چھوتی ہے یا نجکاری کے باوجود اپنے مسائل میں جکڑی رہتی ہے۔

خیال رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا آغاز گزشتہ برس اس وقت بحران کا شکار ہو گیاتھا جب ریئل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی بلیو ورلڈ سٹی نے پی آئی اے کی صرف دس ارب روپے کی ناقابلِ یقین حد تک کم بولی لگا دی تھی، حالانکہ حکومت نے قومی ائیر لائن کی کم از کم قیمت 85 ارب روپے مقرر کی تھی۔ مزید یہ کہ بلیو ورلڈ سٹی کی بولی واحد تھی، جس نے یہ واضح کر دیا کہ مارکیٹ میں پی آئی اے کو خریدنے کے لیے کوئی اور تیار نہیں۔ یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے نجکاری کا عمل ڈیڈ لاک کا شکار ہو گیا تھا۔

 

تاہم بعد ازاں حکومت نے مختلف سرمایہ کاروں سے رابطے شروع کیے، یہاں تک کہ مسلم لیگ نون کے قریب سمجھے جانے والے ایک بڑے بزنس ٹائیکون سے بھی بات چیت آگے بڑھی اور وہ قومی ائیر لائن کی خریداری پر تیار ہو گئے تاہم اسی دوران چار بڑے بزنس گروپوں یعنی ٹبا گروپ، عارف حبیب گروپ، ایئر بلیو اور فوجی فاؤنڈیشن پر مشتمل کنسورشیم سامنے آیا اور انہوں نے پی آئی اے خریدنے کی حامی بھر لی۔ ذرائع کے مطابق ٹبا گروپ پی آئی اے کی خریداری میں زیادہ دلچسپی دکھا رہا ہے جبکہ فوجی فاؤنڈیشن اور اس کا ذیلی ادارہ آرمی ویلفیئر ٹرسٹ ایئرلائن آپریٹنگ سرٹیفکیٹ رکھنے کے باعث قومی ائیر لائن کی انفرادی خریداری میں بھی سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق کنسورشیم کی جانب سے قومی ائیر لائن کی خریداری کے حوالے سے پیشکش سامنے آنے کے بعد حکومت نے بھی اپنی شرائط نرم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ابتدائی طور پر خریدار پر پی آئی اے کے 200 ارب روپے کے خسارے کی ذمہ داری ڈالنے اور دو برس بعد کارکردگی کی بنیاد پر ملازمین کو فارغ کرنے کا اختیار دینے کی شرائط رکھی تھیں۔ لیکن اب کنسورشیم کو قائل کرنے کے لیے دونوں شرائط میں نرمی کر دی گئی ہے۔ شرائط میں نرمی کے بعد پی آئی اے کا سارا خسارہ حکومت خود برداشت کرنے کو تیار ہوگئی ہے جبکہ کارکردگی کی بنیاد پر دو سال بعد ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے یا رکھنے بارے شرط بھی حکومت نے ختم کر دی ہے اب قومی ایئر لائن کے کسی ملازم کو نہیں نکالا جائے گا۔۔ اس رعایت کے بعد کنسورشیم نے خریداری کے عمل پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

 

زرائع کے مطابق معاہدہ طے پانے کے بعد پی آئی اے کے دیگر اثاثہ جات کے ہمراہ حکومت کی جانب سے خریدار کمپنی یعنی کنسورشیم  کو کروڑوں ڈالرز مالیت کے قیمتی درجنوں لینڈنگ سلائس بھی فراہم کیے جائیں گے۔ صرف ہیتھرو ایئر پورٹ کے ایک لینڈنگ سلاٹ کی قیمت پچاس لاکھ امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے، قومی ایئر لائن کے پاس لندن میں دس سلائس تھے، پی آئی اے پروازوں پر پابندی کے باعث ان میں سے سات دو غیر ملکی فضائی کمپنیوں کوکوڈ شیئرنگ معاہدے کے تحت دے دیے گئے ہیں تا کہ سلاٹ کسی دوسری فضائی کمپنی کے پاس نہ چلے جائیں۔ جو اب ان کمپنیوں سے واپس لے کر کنسورشیم کو دئیے جائیں گے اسی طرح پی آئی اے کے پاس ریاض ، عرب امارات، دوحہ، ٹورنٹو کے ایسے لینڈنگ سلائس موجود ہیں جن کے حصول کیلئے دنیا کی بڑی فضائی کمپنیاں ایئر پورٹ اتھارٹیز کی منتیں کرتی ہیں۔ قومی ایئر لائن کے شعبہ ریونیو مینجمنٹ کے افسران کے مطابق ان کے دنیا بھر میں درجنوں لینڈنگ سلائس انتہائی قیمتی نوعیت کے ہیں، لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ کے دس لینڈنگ سلائس کئی دھائیوں سے قومی ایئر لائن کے استعمال میں ہیں۔ صرف ہیتھرو ایئر پورٹ کے سلائس کی قیمتیں پانچ ملین ڈالر تک ہیں، کنسورشیم کو پی آئی اے کے قیمتی سلاٹس کی دستیابی سے خریدار کمپنی کی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں ہو گا اور وہ صرف سلاٹس سے ہی لاکھوں ڈالر کمائی کر سکے گی۔

Back to top button