FBR کا پاکستان بھر میں ٹیکس چور مار آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ

ایف بی آر نے ملک میں کھربوں روپے کی ٹیکس چوری اور محصولات کی وصولی کو یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جہاں ایک طرف ٹیکس چوری میں ملوث اداروں اور شخصیات کی فہرستیں تیار کر لی ہیں وہیں ان کی آمدن اور اخراجات کا آڈٹ بھی شروع کر دیا ہے جس کے بعد اگلے ماہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چور مار کارروائیاں شروع کئے جانے کا امکان ہے۔
ناقدین کے مطابق پاکستان میں ٹیکس چوری ایک دائمی مسئلہ بن چکی ہے۔ بڑے بڑے صنعتکار، تاجر اور بعض اوقات سیاسی شخصیات بھی دانستہ طور پر اپنے اصل منافع اور آمدنی کو چھپاتے ہیں، جبکہ عام شہریوں پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ اس دوہرے معیار نے نہ صرف ٹیکس کے نظام پر عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہے بلکہ ریاست کی ریونیو کلیکشن کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی خطے کے کئی ممالک سے کم ہے، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ملکی معیشت کی ترقی کے خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا کبھی بھی ممکن نہیں ہو گا۔ ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ کمزور نگرانی، پیچیدہ قوانین، کرپشن اور جدید ٹیکنالوجی کے فقدان کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال تقریباً سات کھرب روپے ٹیکس چوری کی نذر ہو جاتے ہیں، جو مجموعی ترقیاتی بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔
تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس چوری کن طریقوں سے کی جاتی ہے اور اس میں ملوث عناصر کون ہیں؟ ناقدین کے مطابق پاکستان میں طاقتور طبقات قانون کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں اور ٹیکس نیٹ میں عام شہری ہی پھنسا رہتا ہے اور اسے بھاری ٹیکسز کی صورت میں ٹیکس چوری کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق ملک میں ٹیکس چوری کئی طریقوں سے کی جاتی ہے۔ درآمد کنندگان عموماً انڈر انوائسنگ کے ذریعے اصل مال کی قیمت کم ظاہر کرتے ہیں، تاکہ ڈیوٹی اور ٹیکس کم ادا کیا جا سکے۔ اسی طرح ٹیکس چور سمگلنگ کے ذریعے بغیر کسی ٹیکس یا ڈیوٹی کےبڑی مقدار میں سامان پاکستان لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح بعض کاروباری حلقے جعلی یا فرضی انوائسز کے ذریعے سیلز ٹیکس ریفنڈز کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ایسے ہیں جو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں اور اپنی پیداوار پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ فیکٹریوں کی سطح پر بھی بعض ادارے اپنی اصل پیداوار کم ظاہر کر کے سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔تاہم ذرائع کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی ٹیکس چوری کو روکنے کیلئے اب ایف بی آر نے کمر کس لی ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے فیکٹریوں میں پیداوار کی براہِ راست نگرانی کیلئے ان لینڈ ریونیو افسران کو فیکٹریوں اور پروڈکشن یونٹس میں تعینات کیا جارہا تاکہ ٹیکس چور انڈسٹری مالکان پر شکنجہ کسا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی ایف بی آر کے 40 تفتیش کاروں کی ٹیم پر مشتمل ’لائف سٹائل مانیٹرنگ سیل‘نے بھی انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر پوسٹوں کو کھنگالنا شروع کر دیا ہے تاکہ ایسے بااثر افراد، سلیبریٹیز، پراپرٹی ڈیلرز اور کاروباری شخصیات کی نشاندہی کی جا سکے جن کی آمدن کے گوشوارے ان کے طرزِ زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس چوری پکڑنے کے لیے مالدار لوگوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال شروع کردی، نئے قائم کردہ مانیٹرنگ سیل کے ذریعے انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر پرتعیش تقاریب کی پوسٹوں کا متعلقہ افراد کے ٹیکس گوشواروں سے موازنہ کیا جا رہا ہے جبکہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹوں کو بطور ثبوت ریکارڈ کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ان سے ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔
کیا پاک سعودی دفاعی معاہدہ آپریشن سندور کا نتیجہ ہے ؟
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو صرف نو سے دس فیصد ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ بھارت کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو سترہ فیصد اور ترکی کا تقریباً پچیس فیصد ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کمزور شرح کی وجہ سے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے بھاری قرضے لینے پڑتے ہیں اور بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہو جاتا ہے۔ تاہم اگر ٹیکس چوری پر قابو پا لیا جائے تو اس سے جہاں ملک کے محصولات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں وہیں بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے آئی ایم ایف جیسے اداروں پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
