جرمنی میں سال نو کے آغازپرآتشبازی،5افرادہلاک

جرمنی میں نئے سال کاجشن منان کیلئےروایتی آتش بازی کےباعث ہونےوالے حادثات میں 5 افرادہلاک اورایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گیا۔
پولیس کےترجمان فلوریان ناتھ نےبتایا کہ 2025 کےآغازپرہونےوالےحادثات کے نتیجے میں قانون نافذ کرنےوالےاداروں کے13 اہلکار زخمی ہوئے،جن میں سےایک کی حالت تشویش ناک ہے۔
جرمن نئے سال کاجشن آتشبازی کےانتہائی زیادہ استعمال کےساتھ مناتے ہیں، جس کی وجہ سے ہر سال زخمی ہونےوالوں کی بڑی تعداد کےساتھ آلودگی اورشور کو دیکھتے ہوئے آتش بازی کے’طاقتور آلات‘ کوغیرقانونی قرار دینےکےبارےمیں بار بار بحث شروع ہو جاتی ہے۔
پولیس کا کہناہےکہ دارالحکومت برلن میں رات گئےتقریباً 330 افراد کو حراست میں لیا گیااورگزشتہ برسوں کے مقابلےمیں کوئی بڑا تشدد یا واقعہ پیش نہیں آیا۔
مقامی پولیس کےمطابق نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شمال مغربی علاقے میں پیڈربورن کے قریب ایک24 سالہ شخص پائروٹیکنک راکٹ پھٹنے سے ہلاک ہو گیا، جو ممکنہ طور پر اس نےخود تیار کیا تھا۔
جرمنی کےمشرقی خطے سیکسونی میں اوشتاز کےعلاقےمیں45 سالہ شخص کے سر میں شدیدچوٹیں آئیں، یہ شہری پائروٹیکنک بم کو جلا رہا تھا، تاہم یہ طاقتور مواد کا حامل بم تھا، جسےخریدنےکےلیےخصوصی اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسی علاقے میں ایک50 سالہ شخص بھی پائروٹیکنک پائپ بم کو ہارتھا ٹاؤن کے علاقے میں پھاڑنے کی کوشش کرنےکے دوران سر میں شدید چوٹیں لگنے سے ہلاک ہوا۔
جنوبی جرمنی میں ہمبرگ کےقریب20سالہ نوجوان آتشبازی کےدوران ہلاک ہوگیا۔
برلن کے قریب کریمین کےعلاقے میں پانچواں شہری غلط انداز میں بم پھاڑنے کے دوران ہلاک ہوا، اسی طرح کےواقعات میں مزید جرمن شہری زخمی بھی ہوئے۔
