سیلابی تباہی سے گنڈاپورسرکار کااصل چہرہ بےنقاب

خیبر پختونخوا میں تباہ کن سیلاب نے جہاں ہزاروں خاندانوں کو کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار رہنے پر مجبور کر دیا ہے، وہیں اس آفت نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کارکردگی اور سیاسی قیادت کے کھوکھلے نعروں اور ان کے اصل چہرے کو بھی بے نقاب کر دیا ہے.تحریک انصاف کی حکومت جو چند ماہ پہلے تک عوامی خدمت اور "تبدیلی” کے دعوے کرتی تھی آج سیلابی صورتحال میں کہیں نظر نہیں آتی۔
عوام کے ووٹوں سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والے پی ٹی آئی رہنما آزمائش کی اس گھڑی میں منظر سے غائب ہیں۔ نہ وزراء متاثرہ علاقوں میں نظر آتے ہیں اور نہ ہی پارٹی قیادت سیلاب زدگان کو ریلیف پہنچانے کیلئے کہیں دکھائی دیتی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما صرف اپنے محلات میں بیٹھے بیانات داغتے نظر آتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کی عدم موجودگی کے بعد سیلابی ریلے میں گھرے عوام فلاحی تنظیموں اور پاک فوج کے جوانوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں مبصرین کے مطابق یوتھیے رہنماؤں کا یہ طرزِ عمل تحریک انصاف کی سیاسی دیوالیہ پن اور عوامی مسائل سے بیگانگی کا واضح ثبوت ہے۔ جس جماعت نے برسوں خیبر پختونخوا کو اپنی کارکردگی کا قلعہ قرار دیا، آج وہی صوبہ اپنی قیادت کی غفلت کا سب سے بڑا شکار بن چکا ہے۔
ناقدین کے مطابق سیلابی صورتحال کے بعد جہاں ایک طرف پی ٹی آئی قیادت بالکل غائب ہے وہیں دوسری جانب پاک فوج کے جوان اس ہنگامی صورتحال میں بھی میدان میں موجود ہیں جو بلاتفریق نہ صرف پل اور سڑکیں کھول کر عوام کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں بلکہ لینڈ سلائیڈنگ کو ہٹا کرٹریفک کی روانی کو بھی یقینی بنا رہے ہیں جبکہ سیلاب میں گھرے عوام کو محفوظ مقامات تک منتقلی میں بھی پیش پیش ہیں جبکہ مقامی فلاحی تنظیمیں بھی متاثرہ خاندانوں کو راشن اور امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔ لیکن صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت تاحال کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ سیاسی رہنما صرف ووٹ لینے کے وقت تو سامنے آتے ہیں مگر مشکل کی گھڑی میں غائب ہو جاتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق “خیبرپختونخوا وہی صوبہ ہے جہاں پی ٹی آئی نے بار بار عوامی خدمت کے دعوے کر کے حکومت حاصل کی، لیکن آج جب عوام پانی میں ڈوبے ہیں تو حکومت اور قیادت کہیں نظر نہیں آ رہی۔ یہ لاپروائی سیاسی طور پر پی ٹی آئی کے لیے زہر قاتل ثابت ہو گی۔” تجزیہ کاروں کے مطابق “قدرتی آفات قیادت کا اصل امتحان ہوتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے وزراء اور رہنما غائب ہیں اور ریلیف کا زیادہ تر کام فوج اور فلاحی ادارے کر رہے ہیں۔ اس نے یہ تاثر مزید گہرا کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی اپنی عوامی ذمہ داریوں کو نبھانے میں یکسر ناکام ہو چکی ہے۔” عوام اب سوال پوچھ رہے ہیں کہ جو جماعت دعویٰ کرتی تھی کہ وہ سول اداروں کو مضبوط بنائے گی لیکن آج وہی جماعت ریلیف اور ریسکیو کی ذمہ داریاں بھی فوج کے کندھوں پر ڈال کر غائب ہو گئی ہے۔
ناقدین کے بقول یہ وہی رہنما ہیں جو چند ماہ پہلے ووٹ مانگنے کے لیے گرمی اور دھوپ میں جلسے کر رہے تھے، مگر آج جب عوام کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو یہ سب منظر سے غائب ہیں۔ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت کا یہ رویہ سیاسی خودکشی کے مترادف ہے کیونکہ عوام یہ کبھی نہیں بھولیں گے کہ مصیبت کی گھڑی میں ان کے منتخب نمائندوں نے انہیں تنہا چھوڑدیا تھا جبکہ اس مشکل وقت میں بھی صرف پاک فوج کے جوان ان کو ریلیف پہنچانے کیلئے میدان میں تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی قیادت نے فوری طور پر ریسکیو اور ریلیف کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو آنے والے انتخابات میں یہ سیلابی آفت ان کے لیے سیاسی طوفان بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ صوبے میں سیلابی صورتحال کے بعد خیبر پختونخوا کے عوام آج خود کو لاوارث محسوس کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام آج یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جو حکمران سیلاب کے دنوں میں ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکے، وہ عام حالات میں ان کے مسائل کیسے حل کریں گے؟ سیلابنے صرف ان کے گھروں، سڑکوں اور پلوں کی ہی نہیں بہایابلکہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کے دعووں کو بھی دریا برد کر دیا ہے۔
