پنجاب میں سیلابی صورت حال: فوج کو مدد کےلیے طلب کرلیا گیا

بھارت کی جانب سے دریائے راوی میں پانی چھوڑنے اور مسلسل بارشوں کے نتیجے میں پنجاب کے بڑے دریاؤں میں سیلابی صورت حال سنگین ہوگئی ہے، جس کے بعد صوبائی حکومت نے فوج کو مدد کےلیے طلب کرلیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی وزارت داخلہ کو خط لکھ کر لاہور، قصور، فیصل آباد،سیالکوٹ، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج کی تعیناتی کی درخواست کی ہے تاکہ سول انتظامیہ کو انسانی جانوں کے تحفظ اور ریسکیو سرگرمیوں میں معاونت فراہم کی جاسکے۔ اس وقت ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پولیس پہلے ہی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہےکہ فوجی دستوں کی تعداد مقامی انتظامیہ کی مشاورت سے طے ہوگی، جب کہ متاثرہ علاقوں میں ضرورت پڑنے پر آرمی ایوی ایشن اور دیگر وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق ضلع نارووال بدترین سیلابی صورت حال سے دوچار ہے۔کوٹ نیناں کے مقام پر دریائے راوی میں ڈھائی لاکھ کیوسک پانی کے اخراج نے وسیع علاقے کو ڈبو دیا ہے جب کہ نالہ ڈیک میں بھی شدید طغیانی جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے تاہم صورت حال کی سنگینی کے باعث فوج کی معاونت ناگزیر تھی۔
احسن اقبال نے عوام سے اپیل کی کہ وہ محتاط رہیں، غیرضروری خطرات مول نہ لیں اور اپنی حفاظت کو ترجیح دیں۔انہوں نے کہاکہ وہ خود بھی صورت حال کا جائزہ لینے کےلیے نارووال پہنچ رہے ہیں۔
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈمرالہ کے مقام پر پانی کی آمد تقریباً 6 لاکھ 96 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جو انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی نشاندہی ہے۔ اسی طرح دریائے ستلج میں گنڈاسنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔
