ترسیلات زر بڑھ رہی ہیں اور زرمبادلہ ذخائر مستحکم ہیں : وفاقی وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں، ترسیلات زر بڑھ رہی ہیں اور زرمبادلہ ذخائر مستحکم ہیں تاہم طویل سفر باقی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےکہا کہ رواں مالی سال کریڈٹ ریٹنگ بی کروانا چاہتےہیں،صنعتکاروں کو سمجھنا چاہیے کہ ان کا ریفرنس پوائنٹ کائبور ہے۔
محمد اورنگزیب کاکہنا تھاکہ مرغی اور دالوں کی قیمتوں میں اضافہ برداشت نہیں کریں گے،ہم یقینی بنائیں گےکہ مڈل مین عوام کو فائدہ پہنچانے میں رکاوٹ نہ بنے، اب یہ معاملہ ای سی سی کے ہر اجلاس میں آئے گا، پرائس کمیٹیز سے کوآرڈینیشن ہوگی،پوری دنیا میں مرغی اور دالوں کی قیمت کم ہوئیں لیکن یہاں نہیں ہوئیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نےکہا کہ ڈیجیٹائزیشن کےذریعےانسانی مداخلت کم اور کرپشن قابو کریں گے،اب صنعتوں کو مراعات بغیر اہداف کےنہیں دیں گے،نجی شعبے کو استعداد بڑھانا ہوگی جب کہ معیشت کا ڈی این اے ایکسپورٹ پر مبنی اکانومی کےذریعے بدلنا ہوگا۔
وزیر خزانہ نےکہاکہ موسمیاتی فنانسنگ کی مد میں ایک ارب ڈالر حاصل کرنے کےلیے پاکستان کو آئی ایم ایف کو بہتر منصوبے اور پالیسیاں پیش کرنی ہوں گی۔
انہوں نےکہا کہ حکومت، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کےساتھ موسمیاتی فنانسنگ کے حوالے سے بات چیت کررہی ہے، جب کہ ایشیائی انفرا اسٹرکچر سرمایہ کاری بینک (اے آئی آئی بی) کےساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔
محمد اورنگزیب نےامید ظاہر کی کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کےذخائر مالی سال 2025 کے آخر تک 13 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جو تین ماہ کی درآمدات کو پورا کرنے کےلیے کافی ہیں۔
اس وقت اسٹیٹ بینک کےذخائر تقریباً 11.2 ارب ڈالر ہیں۔مرکزی بینک کے گورنر نے اشارہ کیا ہےکہ ایک ہفتے کے اندر 50 کروڑ ڈالر کی آمد متوقع ہے،جس سے مجموعی طور پر ذخائر 11.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
9 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کےکرنٹ اکاؤنٹ خسارے،ترسیلات زر میں 39 فیصد اضافے،برآمدات میں اضافے اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے پیش نظر،مالی سال 2025 کے اختتام سے قبل زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر تک پہنچنے کا ہدف حاصل کرنے کےامکانات میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نےکہا کہ کراچی انٹر بینک آفر ریٹ (کائبور) 13 فیصد تک گرگیا ہے، جو مقامی سرمایہ کاروں کےلیے ایک سازگار موقع ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اہداف کو پورا کرنے کےلیے ٹیکس نظام کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور ایف بی آر میں بدعنوانی کو کم کرنے کےلیے ڈیجیٹائزیشن کا فائدہ اٹھارہی ہے۔
سٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی جاری کردی،شرح سود15فیصد کرنےکااعلان
وفاقی وزیر خزانہ نے بجلی کے نرخوں کو کم کرنے کےلیے جاری کوششوں کا بھی ذکر کیا،کیونکہ بجلی کی قیمتیں ملک بھر میں متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے خاندانوں کےلیے ایک بڑا بوجھ ہیں۔
ان کاکہنا تھاکہ غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں۔ حال ہی میں، وزیر اعظم شہباز شریف نے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کےلیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا،دونوں حکومتوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے عزم کا اظہار کیاہے۔
