جنگلات کی آگ بجھانے کے لیے واٹر بمبار جہاز خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد کے جنگلات میں آتشزدگی کے بڑھتے ہوئے مشکوک واقعات کے بعد وفاقی حکومت نے فضا سے پانی پھینک کر آگے بجھانے والے پروفیشنل واٹر بمبار طیارے خریدنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے واٹر بمبار جہازوں کی خریداری کے لیے جو ٹینڈر جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 10 ہزار لیٹر پانی لے جانے کی استعطاعت رکھنے والے جہاز درکار ہیں جن میں ملکی اور غیر ملکی دونوں کمپنیاں حصہ لے سکتی ہیں۔ این ڈی ایم اے کے ٹینڈر میں کہا گیا ہے کہ انڈیا اور اسرائیل کے سوا دنیا بھر کینکوئی بھی کمپنی یا افراد واٹر بمبار جہاز کی بولی میں حصہ لے سکتی ہیں۔

اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک پاکستان میں جنگلات کی آگ بجھانے کے لیے ملٹری ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر آگ بجھانے کے عمل میں وہ زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوتے۔ حال ہی میں اسلام آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں میں لگنے والی آگ پر کئی روز سے قابو نہیں پایا جا سکا۔ تاہم بتایا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت آگ بجھانے کے لیے جو واٹر بمبار جہاز لینا چاہتی ہے انکی فوری خریدداری ممکن نہیں، لہذا پہلی سٹیج پر لیز پر ایسے جہاز حاصل کیے جائیں گے۔ ایسے جہاز چلانے کے لیے عملہ بھی دستیاب نہیں اس لیے جس کمپنی سے بھی معاہدہ ہو گا اسی کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ ابتدائی آپریشن سنبھالے اور ساتھ میں سول ایوی ایشن کے عملے کو ٹریننگ بھی دے۔ جب اپنا عملہ تیار ہو جائے گا تو پھر حکومت طیارے خود خرید لے گی۔

متنازع ٹوئٹ: عمران خان کا شامل تفتیش ہونے سے ایک بار پھر انکار

خیال رہے کہ پاکستان جو طیارے خریدنا چاہتا یے اس کی استطاعت 10 ہزار لیٹر پانی اٹھانے کی ہو گی۔ اسوقت روس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا واٹر بمبار جہاز ہے جو 49 ہزار لیٹر پانی لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح امریکی فائر جیٹ 45 ہزار لیٹر پانی لے جانے کی گنجائش رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی محکمہ جنگلات ہر سال موسم گرما میں ایک ہزار سے زائد واٹر بمبار کرائے پر حاصل کرتا ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی میں انہیں بروئے کار لایا جا سکے۔

دنیا بھر میں جنگلوں میں آگ لگنے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آگ بجھانے کے لیے طیاروں کے استعمال کا نظریہ 1929 میں تقریباً ایک صدی قبل امریکی ہوا باز فریڈرک کارل نے دیا تھا۔ جب انہوں نے کیلی فورنیا کے جنگلوں میں لگنے والی آگ کو دوران ہوا بازی دیکھا تھا۔ اس کے بعد اس بات پر سنجیدگی سے عمل شروع ہوا۔ اور پھر ایئریل فائر فائٹنگ، یا بامبر واٹر جیسی اصطلاحات وجود میں آئیں۔
پاکستان کے سابق ائیروائس مارشل اور ائیر ایگل اکیڈمی کے سی ای او ساجد حبیب کے مطابق واٹر بمبار جہاز بنیادی طور پر فکسڈ ونگ طیارے یا ہیلی کاپٹر ہوتے ہیں اور ان کے اندر یا نیچے بھاری مقدار میں پانی لے جانے کے لیے ٹینک بنائے گئے ہوتے ہیں۔ ان جہازوں میں یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ کسی بڑے ڈٰیم یا پانی کے دیگر ذخیروں سے ہوا میں معلق رہتے ہوئے پانی بھر لیں۔

Back to top button