سابق امریکی صدر ٹرمپ پر نااہلی کی تلوار کیوں لٹکنے لگی؟

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ رقم کی غیرقانونی ادائیگی کے الزام میں قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں، اور غالب امکان ہے کہ ان کو اس کیس میں نااہل کر دیا جائے گا جوکہ امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا لیکن ٹرمپ نااہلی اور جیل جانے کے بعد بھی صدارتی الیکشن لڑنے کے اہل ہوں گے۔
ٹرمپ آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ انھوں نے اپنے خلاف قانونی کارروائی کو سیاسی انتقام سے تشبیہہ دی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2016 کی صدارتی انتخابی مہم سے قبل پورن اسٹار سٹورمی ڈینیئلز کو اپنے ساتھ تعلقات پر خاموش رہنے کے لیے اپنے وکیل کے ذریعے خفیہ طور پر رقم ادا کی تھی۔
نیویارک میں ایک گرینڈ جیوری نے اسی معاملے میں صدر ٹرمپ پر فردِ جرم عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا، امریکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ صدر کے عہدے پر فائز رہنے والی شخصیت پر پر فوج داری مقدمے میں فردِ جرم عائد ہوگی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے ٹرمپ پر فردِ جرم عائد ہونے یا اس معاملے میں سزا ہونے پر بھی وہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے، اس معاملے میں فردِ جرم عائد ہونے یا سزا پانے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ 2024 کے انتخابات کے لیے نا اہل نہیں ہوں گے۔
انتخابی قوانین کے ماہر رچررڈ ہیسن کا کہنا ہے کہ امریکہ کے آئین کے مطابق سنگین جرم یا ’فیلنی‘ کے ارتکاب کے باوجود کوئی شخص صدارتی انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے۔امریکی آئین کے مطابق امریکہ میں پیدا ہونے والا کوئی بھی امریکی شہری جس کی عمر کم از کم 35 سال ہو اور 14 برس سے امریکہ میں مستقل قیام پذیر ہو وہ صدارتی انتخاب لڑ سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے آئینی و قانونی اعتبار سے آئندہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور امیدوار حصہ لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ وہ فوج داری مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے اگر جیل بھی چلے جاتے ہیں تو اپنی انتخابی مہم جاری رکھ سکیں گے۔
آئین کی 22 ویں ترمیم کے مطابق کوئی بھی شخص دو مرتبہ سے زائد بار صدر نہیں بن سکتا، یہ ترمیم 1945 میں صدر فرینکلن روز ویلٹ کے انتقال کے بعد کی گئی تھی۔ وہ چار بار امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے دو بار مدت پوری کرنے کے بعد صدارت سے سبکدوش ہونے کی روایت کو توڑا تھا تاہم صدر روز ویلٹ کے بعد آئینی طور پر دو بار صدارت کی حد مقرر کر دی گئی۔
امریکہ کے قانون کے مطابق جب کسی شخص پر جرم سرزد ہونے کے بعد باقاعدہ سرکاری طور پر الزام یا الزامات عائد کیے جاتے ہیں تو اسے فردِ جرم عائد ہونا کہا جاتا ہے۔فردِ جرم میں شخص کے خلاف الزام یا الزامات کے ساتھ ساتھ اس سے متعلق قانونی دفعات کا ذکر بھی ہوتا ہے۔
امریکہ کے آئین کی پانچویں ترمیم حکومت پر یہ لازم کرتی ہے کہ وفاقی سطح پر کسی شخص کے خلاف سنگین جرم پر کسی مقدمے کی سماعت کرنے سے قبل اس پر فردِ جرم عائد کی جائے، آئین کی پانچویں ترمیم اگرچہ صرف وفاقی قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق ہے لیکن بہت سی ریاستوں نے یہی قانون نافذ کیا ہوا ہے جہاں سنگین جرائم پر فردِ جرم عائد کرنا لازم ہے۔
سنگین جرائم ایسے معاملات کو کہا جاتا ہے جن کی سزا کم از کم ایک برس ہو۔یہ چھوٹے جرائم سے مختلف ہوتے ہیں جن میں باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔کسی بھی مقدمے کی مکمل تفتیش کے دوران پراسیکیوٹر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا اس کیس کی پیروی جاری رکھنے کے لیے شواہد موجود ہیں۔
گرینڈ جیوری کیس سے متعلق شواہد اور ثبوتوں کا جائزہ لیتی ہے جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کیا ملزم کے خلاف کارروائی کے لیے شواہد کافی ہیں۔گرینڈ جیوری مشتبہ شخص کے بارے میں فیصلہ نہیں دیتی کہ اس نے یہ جرم سرزد کیا ہے یا نہیں۔وفاقی گرینڈ جیوری عام طور پر 16 سے 23 افراد پر مشتمل ہوتی ہے جن میں سے 12 افراد کا فرد جرم عائد کرنے پر متفق ہونا ضروری ہوتا ہے۔
عام طور پر فردِ جرم گرینڈ جیوری کی پیشی کے بعد اور ملزم کی گرفتاری سے پہلے عائد کی جاتی ہے، اس لیے پراسیکیوٹر کو فردِ جرم سربمہر کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے جس کے بعد فردِ جرم میں دیئے گئے الزامات اور دیگر قانونی تفصیلات بھی ظاہر نہیں کی جاتیں، اس کی وجہ ملزم اور مشتبہ شخص کو فرار یا ثبوت مٹانے کے لیے وقت حاصل کرنے سے روکنا ہوتا ہے۔
گرینڈ جیوری کی جانب سے فردِ جرم عائد ہونے کے بعد عام طور پر ملزم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اس پر باضابطہ طور پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں، اس کے بعد ہی اس کیس کی باقاعدہ سماعت عدالت میں شروع ہوتی ہے۔اس کے بعد کیس کئی طرح کا رخ اختیار کر سکتا ہے جس میں سماعت سے قبل ملزم کے ساتھ تصفیے یا ٹرائل پر جانے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
