ڈی چوک احتجاج میں مفرور مراد سعید 1500 سخت گیر شرپسندوں کے ساتھ موجود تھا، وزارت داخلہ

وزارت داخلہ کا کہنا ہےکہ پی ٹی آئی کےپُرتشدد احتجاج میں مفرور مراد سعید 1500 سخت گیر تربیت یافتہ شر پسندوں کے ساتھ موجود تھا، پاک فوج کا ہجوم سےبراہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی۔
وزارت داخلہ کی جانب سےجاری اعلامیہ میں کہا گیا ہےکہ پی ٹی آئی کےپرتشدد احتجاج میں تربیت یافتہ شر پسند اورغیر قانونی افغان شہری بھی شامل تھے،یہ سخت گیر 1500 شرپسند براہ راست مفرور اشتہاری مراد سعید کےماتحت سرگرم تھے جو خود بھی ہمراہ تھا، اس گروہ نےعسکریت پسندانہ حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کیا، صوبائی سرکاری مشینری کی مدد سے سڑک پر نصب رکاوٹیں ہٹا کردوسرے شر پسند جتھوں کے لیے راستہ بنایا۔
وزارت داخلہ نےکہا کہ پی ٹی آئی نےسوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈا شروع کر دیا ہے، پراپیگنڈہ میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنےکی مذموم کوشش کی جا رہی ہے، وفاقی دارالحکومت کےبڑےاسپتالوں کی انتظامیہ نےہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید بھی کی، من گھڑت سوشل میڈیا مہم کےدوران پرانے اور AI سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے پُرتشدد احتجاج میں تربیت یافتہ شرپسند اور غیرقانونی افغان شہری شامل تھے، وزارت داخلہ
اعلامیہ میں کہا گیا کہ بد قسمتی سےغیر ملکی میڈیا کے بعض عناصر بھی اس پروپیگنڈہ کا شکار ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشاربدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے، اندرون اوربیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائےگا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ نے صوبائی اسمبلی کواداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا۔
وزارت داخلہ نےکہا کہ 21 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کوامن و امان ہر قیمت پر قائم رکھنے کی ہدایت کی، ہائی کورٹ نےوزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ امن و امان کےحوالے سےپی ٹی ائی قیادت سے رابطہ کریں۔ بیلاروس کے صدراور اعلیٰ سطحی چینی وفد کےدورے کے پیش نظر پی ٹی آئی کومتعدد بار احتجاج موخر کرنے کا کہا گیا، پی ٹی آئی کے احتجاج جاری رکھنےکی ضد پر انہیں سنگجانی مقام کی تجویز دی گئی، غیر معمولی مراعات باشمول بانی سے ملاقاتوں کے باوجود پی ٹی آئی نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔
وزارت داخلہ نےکہا کہ مظاہرین نے سنگجانی کےبجائے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہو کر قانون کی خلاف ورزی کی، پر تشدد مظاہرین نے پشاور تا ریڈ زون تک مارچ کے دوران ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا، مظاہرین نے اسلحہ بشمول سٹیل سلنگ شاٹس، سٹین گرنیڈ، آنسو گیس شیل اور کیل جڑی لاٹھیوں وغیرہ کا استعمال کیا، پر تشدد احتجاج میں خیبر پختونخواہ حکومت کےوسائل کا بھرپور استعمال کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے اہلکاروں نے پر تشدد مظاہرین کےساتھ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا، اسلام آباد میں چیک پوسٹ پرڈیوٹی پر متعین تین رینجرز اہلکاروں کو گاڑی چڑھا کرشہید کیا گیا،پر تشدد مظاہرین نے ایک پولیس اہلکار کو بھی شہید کیا، شرپسندوں کے ہاتھوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 232 اہلکاربھی زخمی ہوئے، پرتشدد مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پرحملہ کیا اور پولیس کی متعدد گاڑیوں کو بھی آگ لگائی۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ آئین کےآرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں پاک فوج کو تعینات کیا گیا،پاک فوج کی تعییناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اورغیر ملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پر آئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا، پولیس اور رینجرز نےاس پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے Live Ammunition کااستعمال نہیں کیا، پاک فوج کا اس تشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ Riot control پر تعینات تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ منتشر کرنے کےعمل کے دوران قیادت کے ہمراہ مسلح گارڈز اور مظاہرین کےمسلح شر پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کےبجائے راہ فرار اختیار کیا۔ مظاہرین کے علاقے سے فرار کےفوری بعد وفاقی وزرائے داخلہ اور اطلاعات نے متاثرہ علاقےکا دورہ بھی کیا اور پریس ٹاک کی۔ وزراء، حکومتی اہلکار، پولیس آفیشلز اور کمشنر اسلام آباد نے بار بار مصدقہ ثبوت کےساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی، قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیاربرآمد ہوئے ہیں، پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں، جیل وینز کو آگ لگانے کےساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، پرتشدد مظاہروں کے دوران ابتدائی اندازوں کے مطابق سینکڑوں ملین کا نقصان ہوا ہے۔
وزارت داخلہ نےکہا کہ ان پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے، پاکستان بشمول خیبر پختونخواہ کے قابل فخر عوام اس قسم کی پرتشدد سیاست کو مسترد کرتے ہیں، عوام بے بنیاد الزامات اور بد نیتی پرمبنی پروپیگنڈہ کو بھی مسترد کرتے ہیں، پوری پاکستانی قوم ملک میں امن و استحکام کی خواہش کے ساتھ یکجا کھڑی ہے۔
