گیلپ رپورٹ نے گنڈاپورسرکارکی پرفارمنس کابھانڈاپھوڑ دیا

خیبرپختوانخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کے عوامی فلاحی اقدامات کی بجائے انتشار، احتجاج اور الزامات پر مبنی بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ گیلپ پاکستان کی حالیہ رپورٹ نے نہ صرف پی ٹی آئی کی گورننس پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت کو بھی عوامی تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ سروے رپورٹ نے اس تبدیلی کا بھی "کچا چٹھا” کھول دیا ہے جو بلند بانگ دعووں سے شروع ہو کر وعدہ خلافیوں، کرپشن، سفارشی کلچر، اور بدانتظامی میں دفن ہو چکی ہے۔ناقدین کے مطابق گیلپ سروے کی رپورٹ صرف ایک عددی تجزیہ نہیں، بلکہ پی ٹی آئی کے ’تبدیلی‘ بیانیے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہی ہے۔
خیال رہے کہ حالیہ گیلپ سروے میں کے پی کے 50فیصد عوام نہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی کے معترف ہیں بلکہ انھوں نے مریم نواز کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے بہتر قرار دے دیا ہے۔ جبکہ 47فیصد عوام نے بانی پی ٹی آئی کو علی امین کو ہٹانے کا مشورہ بھی دے ڈالا ہے جن میں 36فیصد پی ٹی آئی کے اپنے سپورٹرز بھی شامل ہیں
گیلپ کی جانب سے جاری سروے رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے 50 فیصد لوگ مریم نواز کو علی امین گنڈا پور سے بہتر سمجھتے ہیں، جن میں 37 فیصد پی ٹی آئی کے لوگ بھی شامل ہیں۔گیلپ کی جانب سے کیے گئے رائے عامہ کے جائزے میں 58 فیصد عوام نے کہا کہ ان کی رائے میں صوبائی حکومت کے ترقیاتی فنڈز میں کرپشن کی جارہی ہے، اسی سے جڑے ایک سوال کے جواب میں 40 فیصد شہریوں نے پنجاب کے مقابلے میں خیبرپختونخوا میں زیادہ کرپشن کا دعویٰ بھی کیا۔
سروے کے مطابق 73 فیصد شہریوں کی رائے میں سرکاری نوکریاں میرٹ پر نہیں ملتیں، جب کہ 59 فیصد نے بے روزگاری میں اضافے کی نشاندہی کی۔60 فیصد شہریوں نے رائے دی کہ خیبرپختونخوا حکومت کام کے بجائے احتجاج میں وقت ضائع کر رہی ہے، 73 فیصد شہریوں نے صوبے میں سفارشی کلچر پروان چڑھنے کی شکایت کی، جب کہ 66 فیصد ووٹرز نے منتخب نمائندوں سے وعدہ خلافی کا شکوہ کیا۔
سروے رپورٹ کے مطابق صوبے کی 66 فی صد آبادی گیس سے محروم، انچاس فی صد کو بجلی کی قلت کا سامنا ہے، نوجوان سہولتوں سے محروم ہیں، 77 فی صد کو پارکس، 81 فیصد کو لائبریریز دستیاب نہیں، 55 فی صد شہریوں نے صوبے کے انفرااسٹرکچر کو انتہائی ناقص قرار دیا، 49 فی صد پی ٹی آئی ووٹرز بھی کے پی حکومت سے غیر مطمئن ہیں، سیکیورٹی پر ملا جلا رد عمل دیکھنے میں آیا، 57 فی صد اب بھی دہشتگردی سے خوف زدہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 85 فی صد شہری افغان شہریوں کی واپسی کے فیصلے پر مطمئن ہیں، ان کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی سے امن و امان بہتر ہوگا، 48 فی صد کے مطابق روزگار کے مواقع بڑھیں گے، 66 فی صد ووٹرز نے ایم پی ایز پر وعدہ خلافی کا الزام لگایا جبکہ 60 فی صد شہریوں کے مطابق گنڈاپور حکومت احتجاج میں وقت ضائع کر رہی ہے۔ خیال رہے کہ گیلپ رپورٹ اپریل سے جون کے دوران تیار کی گئی جس میں 3 ہزار افراد سے انٹرویوز کیے گئے تھے۔
گیلپ سروے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد جہاں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزراء اور ترجمانوں کے مابین الفاظ کی گولہ باری جاری ہے وہیں خیبرپختونخوا حکومت نے گیلپ سروے کو سیاسی تعصب،جانبداری اور اقرباء پروری کی روشن مثال قرار دے دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ مفروضوں پر مبنی سروے کا حقیقت سے دور دور تک واسطہ نہیں تاہموزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے گیلپ سروے کے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 12 سالہ جعلی تبدیلی کا پول کھل گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سروے میں 73 فیصد عوام نے گنڈا پور حکومت کو چارج شیٹ کیا، جو سابقہ حکومت کی کارکردگی پر عوامی عدم اطمینان کا واضح ثبوت ہے۔،عظمیٰ بخاری کے بقول تحریک انصاف کے اپنے ووٹرز نے تسلیم کیا ہے کہ ترقیاتی فنڈز کرپشن کی نذر ہورہے ہیں، حقیقت میں علی امین گنڈا پور لوٹ مار ایسوسی ایشن کے چیئرمین بن کر ابھرے ہیں، اور ان کی کابینہ بھی اس میں شریک ہے۔
دوسری جانب ناقدین کے مطابق حالیہ گیلپ پاکستان کے سروے نے خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت، بالخصوص وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت کے نیچے کارکردگی کا حقیقی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے، جو خود تحریک انصاف کے ووٹرز کے لیے بھی باعثِ شرمندگی بن چکا ہے۔ مبصرین کے بقول پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وعدوں کے انبار اور خوابوں کی سوداگری کوئی نئی بات نہیں۔ مگر خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی 13 سے زائد سالہ حکومت کے بعد جو حقیقت سامنے آئی ہے، وہ اس ‘تبدیلی’ کے چہرے سے نقاب نوچ کر ایک تلخ سچائی کو عوام کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق 13 سالہ طویل اقتدار کے دوران پی ٹی آئی قیادت نے بلند بانگ دعوؤں، انقلابی نعروں، کرپشن کے خلاف جہاد بارے تقاریر اور ہر منشور میں ترقی و خوشحالی کے سنہرے وعدوں کے ذریعے عوام کو پاگل بنانے کی کوشش کی تاہم حقیقت میں تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں حکمرانی کا سفر ایک ایسی داستان بن چکا ہے جس میں کردار تو بدلے، مگر کہانی وہی رہی: پی ٹی آئی قیادت نے عوام کے حقوق کو نعروں میں دفن کرنا، سہولتوں کی بجائے تقریریں بانٹنا، اور گڈ گورننس کے بجائے الزام تراشی کو پالیسی بنانا اپنا وطیرہ بنائے رکھا تاہم اب گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے نے خیبرپختونخوا میں عوامی مایوسی اور حکومتی ناکامی کی ایک تفصیلی تصویر پیش کر کے گنڈاپور سرکار کی نااہلی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
