گنڈاپور کا اسلام آباد پر حملہ کرنے والے ملازمین کےلیے انعام کا اعلان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور عمران خان کی محبت میں ریاست دشمنی پر اتر آئے۔ تازہ پیشرفت کے مطابق ریاستی اداروں اور وفاقی حکومت پر یلغار کی مسلسل دھمکیوں اور پورے ملک کو بند کرنے کے اعلانات کے بعد اب گنڈاپور نے اسلام آباد میں انتشار انگیزی پر گرفتار ہونے والے سرکاری ملازمین کو ترقی دیکر وفاق کے خلاف کھلا اعلان جنگ کر دیا ہے۔ رہا ہونے والے سرکاری ملازمین کا استقبال کرنے اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعدعلی امین گنڈا پورشدید تنقید کی زد میں ہیں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے اس حماقت پر معافی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے ڈی چوک احتجاج کے دوران گرفتار ملازمین رہا ہونے کے بعد سیدھے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور پہنچے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے رہائی پانے والے سرکاری ملازمین کا استقبال کیا اور ان پر پھول نچھاور کیے۔وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے رہا ہونے والے ملازمین سے فرداً فرداً ملاقات کی اور انہیں ڈی چوک احتجاج میں شرکت پر شاباش بھی دی۔وزیرا علیٰ ہاؤس ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے ملازمین کو ون اسٹیپ پروموشن، ایک ماہ کی تنخواہ بونس اور آرام کرنے کے لیے 7 دن کی چھٹی کے ساتھ 10 ہزار روپے کا اسٹائپنڈ بھی دے دیا۔
علی امین گنڈا پور کے ملازمین کا استقبال کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس پر سوشل میڈیاصارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے اور گنڈاپور تنقید کی زد میں ہیں۔
علی امین گنڈاپور کی وائرل ویڈیو پر صحافی وقار ستی لکھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا حکومت کا اسلام آباد پر دھاوا بولنےوالے سرکاری ملازمین کو سرکاری سطح پر ’ہیرو‘ بناکر پیش کرنا دراصل قانون شکنی کی کھلی حوصلہ افزائی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ رویہ عوام کو پیغام نہیں دے رہا کہ قانون کو توڑنا اور ریاست کے خلاف کھڑا ہونا قابلِ فخر عمل ہے؟
حکومت کے لیے ایک اور آئینی ترمیمی پیکج لانا لازمی کیوں ہو گیا ؟
محمد فہیم نے لکھا کہ یہ وفاقی حکومت بمقابلہ خیبر پختونخوا حکومت ہے، وفاقی حکومت نے ڈی چوک احتجاج میں شریک سرکاری ملازمین کو خوب خوار کیا، ان کے خلاف اصل اور جعلی ہر قسم کا مقدمہ درج کیا گیا، ہتھکڑیاں لگا کر تصویریں جاری کیں اور انہیں رسوا کیا تاکہ کوئی سرکاری ملازم دوبارہ پی ٹی آئی احتجاج میں شریک نہ ہو اور خوف کھا جائے لیکن خیبر پختونخوا حکومت نے ضمانت پر رہا سرکاری ملازمین کو وزیر اعلی ہاؤس مدعو کیا۔ وزیر اعلی علی امین گنڈا پور نے ان کا استقبال کیا اور ایک ہفتے کی چھٹی کے ساتھ 10 ہزار روپے نقد بھی دیے۔
سعید چنا لکھتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور ریاست پر حملہ کرنے والے خیبرپختونخواہ حکومت کے سرکاری ملازموں کا استقبال کر رہے ہیں، انہوں نے مزید لکھا کہ عمرانی پراجیکٹ بنانے والوں نے بہت دور کی پلاننگ کی ہوئی تھی، یہ سلسلہ ختم کریں ورنہ یہ ملک کی جڑیں ہلا دیں گے۔
ایک صارف نے علی امین گنڈا پور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو حکومتی خزانہ انتشار کے لیے استعمال کرنے کی اجازت کیوں ہے؟کون ہے جو ملک میں فساد کو جاری رکھنا چاہتا ہے؟ کیا پولیس کا محکمہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے ملازمین دوسرے صوبوں پر حملہ کریں ؟ انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی اس کا سہولت کار ہے وہ ملک کو اندھی کھائی میں پھینک رہا ہے۔
واضح رہے کہ احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ملازمین میں 25 پولیس اہلکار، 13 ٹی ایم اے اور 46 ریسکیو اہلکار شامل تھے۔
