گنڈاپور کی تبدیلی کا تعلق میرے خاندان سے نہیں، عمران

 

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو اپنے خاندان کے افراد سے جوڑنے کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس پر میرے خاندان کا کوئی فرد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میرے خاندان کے کسی فرد کا میرے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمران خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏“خیبرپختونخوا کے بگڑتے ہوئے حالات کے تناظر میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی ناگزیر تھی اور یہ ایک آئینی عمل ہے جو اس ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ہوتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی خیبر پختون خواہ کی تبدیلی کے عمل میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیئے تاکہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہو۔ اگر کسی نے اس میں مداخلت کی کوشش کی تو اسکے خلاف بھرپور احتجاج ہو گا۔

یاد رہے کہ پشاور سے خبریں آ رہی ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں نے گنڈاپور کے استعفے کے بعد سہیل آفریدی کا راستہ روکنے اور اپنا وزارت اعلی کا امیدوار لانے کے لیے لابنگ شروع کر دی ہے۔ اس دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی خیبر پختون خواہ اسمبلی میں تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے تمام منتخب اراکین اسمبلی کو ازاد اراکین قرار دے دیا ہے۔ یوں اب اگر وہ وزارت اعلی کے الیکشن میں کسی اور جماعت کے امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں تو ان پر فلور کراسنگ کا قانون لاگو نہیں ہوگا۔

ادھر عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا ہے کہ بطور وزیر اعلی سہیل آفریدی کی نامزدگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ زمانہ طالب علمی سے ہی انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن اور تحریک انصاف سے وابستہ ہیں۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی الیکٹیبلز کی جگہ ورکرز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے بیانیے کو بھی تقویت بخشتا ہے۔

عمران خان نے لکھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو بعض حلقے میرے خاندان کے افراد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس پر میرے خاندان کا کوئی فرد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہوا۔ میرے خاندان کے کسی فرد کا میرے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یاد رہے کہ میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ عثمان  بزدار کی جگہ سہیل افریدی کو وزیراعلی خیبر پختون خواہ بنانے کا فیصلہ بھی دراصل بشری بی بی نے ہی کیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بشری بی بی کے پشاور میں قیام کے دوران سہیل افریدی ان کے کافی قریب اگئے تھے اور ان کے رازدان بن گئے تھے۔

عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا ہے کہ علی امین میرے پرانے اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں لیکن وہ تنازعات کی زد میں تھے اس لیے ان کو ہٹانا ضروری ہو گیا تھا۔ یہ تنازعات جنرل عاصم منیر کی کسی جامع سیاسی حکمت عملی اپنائے بغیر خالی گولہ بارود سے دہشتگردی سے نمٹنے کی پالیسی کے باعث پیدا ہوئے۔ تو ہم عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ اگر مسئلے فوج کی پالیسی کی وجہ سے تھے تو علی امین کا اس میں کیا قصور تھا۔ بانی پی ٹی ائی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 2025 دہشتگری کے واقعات کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا بدترین سال ہے اور خیبرپختونخوا کا صوبہ مزید اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امید کرتا ہوں کہ نیا وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم دہشتگردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی اپنائیں گے۔

عمران خان نے لکھا کہ میں دو دہائیوں سے دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی بیان کرتا رہا ہوں۔ اسی حکمت عملی کے باعث تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں دہشتگری پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔تحریک انصاف نے اس وقت کی پاکستان مخالف اور بھارت نواز اشرف غنی حکومت سے بھی مذاکرات کئے اور قبائلی عوام اور افغان پناہ گزینوں کے معاملات بھی افہام وتفہیم سے طے کئے۔ تاہم یاد رہے کہ عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران افغانستان میں جا بسنے والے تحریک طالبان کے دہشت گردوں کو جنرل فیض حمید کے ذریعے دوبارہ پاکستان واپس لا کر بسایا گیا جس کے بعد سے دہشت گردی کے جن نے دوبارہ سے سر اٹھا لیا۔

لیکن عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حقائق کے برعکس ان کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی ان کے دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟کبھی یہ کہا جاتا ہے پاکستان میں دہشتگردی کی ذمہ دار افغان حکومت ہے جس کی تائید سے افغانستان میں بسنے والے دہشتگرد پاکستان میں کاروائیاں کرتے ہیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ دہشتگردی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کی وجہ سے ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں کیونکہ لاکھوں افغان مہاجرین کو بے عزت اور رسوا کر کے نکالنے کے باوجود دہشتگردی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ متضاد بیانات عاصم منیر کے مسلط کردہ عوام دشمن نظام کی بد حواسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے حوالے سے میرا موقف ہمیشہ سے دوٹوک رہا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے دہشتگردی کے خلاف اگر باقاعدہ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کے بجائے صرف طاقت کا استعمال کیا جائے تو ناکامی ہی مقدر بنتی ہے۔ ملٹری آپریشن کے نتیجے میں ہونے والا “کولیٹرل ڈیمج “ عوام کو انتقاماً ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے اور یوں یہ سلسلہ بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔

عمران خان نے الزام عائد کیا کہ سیاسی انتقام میں انکے خلاف مسلسل بے بنیاد مقدمات نہ صرف بنائے جا رہے ہیں بلکہ بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ توشہ خانہ، القادر، سائفر، عدت اور پھر توشہ خانہ سمیت کئی چھوٹے بڑے مقدمات مجھ پر اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر صرف اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ میں جھک کر حقیقی آزادی کا عزم ترک کر دوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی قوم کو پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ حاکم چاہے کچھ بھی کر لیں، میں ان کے سامنے نہ جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا”۔

Back to top button