گنڈا پور کی چھٹی کے بعد KP سے PTI کی چھٹی ہونے کا امکان

گنڈاپور کی رخصت کے بعد خیبر پختونخوا میں اقتدار کی رسہ کشی جاری ہے جہاں ایک طرف پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو مسند اقتدار پر بٹھانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں وہیں دوسری جانب خیبرپختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں نے گورنر ہاؤس کا مورچہ سنبھال کر تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے اور حکومت سازی کیلئے سنجیدہ کوشش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں کی یہ کوششیں محض سیاسی جوش تک محدود رہیں گی، یا واقعی حزب اختلاف کی جماعتیں ایک نیا اتحاد قائم کر کے صوبے میں اقتدار کا توازن بدل سکتی ہیں؟
مبصرین کے مطابق عمران خان کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر نوجوان رکن اسمبلی سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کرنے کے بعد خیبرپختونکوا اسمبلی کی کمزور سمجھی جانے والی اپوزیشن بھی وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے متحرک ہو گئی ہے۔ 145 اراکین پر مشتمل خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کو 92 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت حاصل ہے، تاہم زیادہ تر اراکین آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے کے باعث پارٹی کے اندر بھی بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے قائدِ ایوان کو تبدیل کرنے اور علی امین کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ نامزد کرنے کے بعد صوبے کا سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت کے خلاف متحرک ہو چکی ہیں ۔
الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق صوبے میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین کی اکثریت ہے، ان کو ملا کر پی ٹی آئی کے اراکینِ اسمبلی کی تعداد 92 بنتی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں جے یو آئی، ن لیگ، پی پی پی اور اے این پی کے اراکین کی مجموعی تعداد 53 ہے۔ قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے 73 ووٹ درکار ہیں، اس لحاظ سے بظاہر پی ٹی آئی کو واضح برتری حاصل ہے۔
مبصرین کے بقول اگرچہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کو عددی برتری حاصل ہے، تاہم گنڈاپور کی رخصتی کے بعد کئی ناراض ارکان عمران خان کے فیصلے بارے تحفظات کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب وفاقی حکومت بھی عمران خان کے نامزدہ وزیر اعلیٰ کے امیدوار سہیل آفریدی کی مخالفت میں کھل کر سامنے آ گئی ہے ایسے میں اسٹیبلشمنٹ مخالف سہیل آفریدی کا آسانی سے وزیر اعلیٰ بننا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق گنڈا پور کتے استعفے کے بعد جے یو آئی (ف)، عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی، اور مسلم لیگ (ن) نے غیر رسمی رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ کسی متفقہ ’’مشترکہ امیدوار‘‘ کے ذریعے حکومت بنانے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ مبصرین کے مطابق اگر پی ٹی آئی کے 15 سے 20 ناراض اراکین اپوزیشن کی صفوں میں شامل ہو جائیں تو صوبائی حکومت کی تبدیلی ممکن ہے۔ ایسے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما اور معروف قانون دان کامران مرتضیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے قریباً 35 ارکانِ اسمبلی اپوزیشن امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ جس کے بعد اپوزیشن اپنا وزیر اعلیٰ لانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ کامران مرتضیٰ کے مطابق اپوزیشن جماعتیں باہمی مشاورت میں مصروف ہیں اور خیبر پختونخوا میں سیاسی صورتِحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بدل رہی ہے۔پی ٹی آئی اس وقت 3 دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک ایفیڈیویٹ گروپ، ایک عمران خان گروپ اور ایک علی امین گنڈاپور گروپ۔ اگر یہ تینوں گروپ متحد رہے تو حکومت برقرار رہ سکتی ہے، لیکن بکھرنے کی صورت میں اپوزیشن فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ قریباً 35 ایم پی ایز ایسے ہیں جن کے بارے میں سنا گیا ہے کہ وہ کسی اور کی مرضی سے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اگر یہ ارکان اپوزیشن کی طرف آ گئے تو نتائج یکسر بدل سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے تمام اراکین کو آزاد قرار دے رکھا ہے ایسی صورت میں عمران خان کے نامزد کردہ امیدوار سہیل آفریدی کو ووٹ نہ دینے پر خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی پر کوئی زد بھی نہیں آئے گی خیبرپختونخوا کی حالیہ صورتحال میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ناراض ارکان اب اپوزیشن کے لیے ’’کنگ میکر‘‘ کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اپوزیشن نے انہیں آئندہ انتخابات میں ٹکٹوں یا صوبائی وزارتوں کی یقین دہانی کرا دی، تو خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا دھڑن تختہ ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق عمران خان اگرچہ اب بھی خیبرپختونخوا کی عوامی سیاست میں مقبول ہیں، مگر عملی طور پر جیل میں قید ہونے کے باعث وہ پارٹی پر گرفت کھو رہے ہیں۔ گنڈاپور کی رخصتی اور سہیل آفریدی کی متنازع نامزدگی نے پارٹی کے اندر قیادت پر اعتماد کو کمزور کر دیا ہے۔اب پی ٹی آئی کے کئی اراکین یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آیا وہ عمران خان کے بیانیے کے ساتھ چلیں یا اقتدار کے نئے کھیل میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کریں۔فی الوقت اپوزیشن کے پاس حکومت سازی کے لیے اعداد و شمار تو موجود نہیں، مگر بدلتی ہوئی سیاسی فضا کے دوران آنے والے دنوں میں کچھ بھی ممکن ہے۔ اگر تحریکِ انصاف میں گروہ بندی بڑھتی گئی اور ناراض ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوا تو مستقبل قریب میں خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کی مکمل چھٹی کے امکانات موجود ہیں۔ مبصرین کے مطابق علی امین گنڈاپور کے استعفے نے خیبرپختونخوا میں طاقت کے توازن کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔اگر اپوزیشن اپنے اختلافات بھلا کر ایک صف میں آ جاتی ہے تو حکومت کی تبدیلی ممکن ہے کیونکہ سیاست میں کچھ ناممکن نہیں ہوتا، سب نمبر گیم کا کھیل ہے اور جب اسٹیبلشمنٹ کسی صوبے یا وفاق میں تبدیلی کا فیصلہ کر لے تو نمبر گیم پوری ہوتے ہوئے کوئی وقت نہیں لگتا۔
اسی لئے پی ٹی آئی کو خدشہ ہے کہ اپوزیشن اور مقتدر حلقے آزاد اراکین کو توڑنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جبکہ ان پر فلور کراسنگ کا اطلاق بھی نہیں ہو گا۔ ایک پی ٹی آئی رہنما کے مطابق اطلاعات ہیں کہ 20 سے 30 کے قریب اراکین ایسے ہیں جنہوں نے انتخاب سے قبل تحریری طور پر اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ ضرورت پڑنے پر پارٹی کے خلاف جا سکتے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ خدشات موجود ہیں کہ گنڈاپور کی چھٹی کے بعد سہیل آفریدی کی نامزدگی کے فیصلے سے صوبائی حکومت ہاتھ سے نہ نکل سکتی ہے۔
