جنرل عاصم کی ٹرمپ سے ملاقات: پاکستان میں کیا کچھ بدلنے والا ہے ؟

سینیئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہر حکمران، صدر، وزیر اعظم اور فوجی سربراہ کی امریکہ یاترا اور امریکی صدر سے ملاقات کے بعد ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں میں حیرت ناک تبدیلیاں آتی رہی ہیں اور ایسا ہی کچھ اب بھی ہوتا دکھائی دیتا ہے، خصوصا فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد۔

سہیل روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے 1950 میں پہلے سربراہ مملکت کے طور پر امریکہ کی یاترا کی اور صدر ہیری ٹرومین سے ملاقات کی جس کے بعد پاکستان امریکی کیمپ میں چلا گیا۔ یوں روس اس کا مخالف تو ہو گیا، تاہم پاکستان کو امریکی امداد اور سرپرستی حاصل ہو گئی۔ اندرونی طور پر لیاقت علی خان ملک کے پہلے طاقتور ترین لیڈر کے طور پر سامنے آئے، بعد ازاں گورنر جنرل پاکستان غلام محمد نے 1953 میں امریکی صدر آئزن ہاور سے ملاقات کی۔ 1954 میں غلام محمد نے پاکستان کی پہلی اسمبلی توڑ دی۔ جب اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تو جسٹس منیر نے نظریۂ ضرورت کے تحت اسمبلی توڑنے کو جائز قرار دے دیا۔

اسی سال پاکستان نے امریکی سرپرستی میں قائم فوجی اتحاد سیٹو میں شمولیت اختیار کی۔ تب ہی مغربی پاکستان کو ون یونٹ بنا کر مشرقی پاکستان کی اکثریت کو بے اثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ وزیر اعظم حسین شہید سہروردی بھی امریکہ گئے مگر کوئی نمایاں کامیابی نہ مل سکی۔ پھر جنرل ایوب خان کی امریکی صدور آئزن ہاور اور جانسن سے 1961، 1962 اور 1965 میں تین اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ ایوب خان پاکستان کے پہلے فوجی آمر تھے جو 1958 میں پہلا مارشل لا لگانے سے پہلے امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ اور پینٹاگون سے مسلسل رابطے میں تھے۔ ایوب انہوں نے پارلیمانی نظام تلپٹ کر دیا اور 1956کے متفقہ آئین کو کالعدم قرار دے دیا حالانکہ اس آئین پر مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں کے زعماء نے اتفاق کیا تھا۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ جنرل ایوب خان کے دور میں ہی پاک بھارت جنگ ہوئی، اور موصوف نے ڈنڈے کے زور پر دس سال پوری طاقت سے حکمرانی کی۔ ایوب کے بعد اقتدار سنبھالنے والے صدر جنرل یحییٰ خان 197 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملے۔ انہی کے دور میں وزیر خارجہ ہنری کسنجر خفیہ طور پر پاکستان کے راستے چین گئے اور یوں امریکہ چین سفارتی روابط بحال ہوئے۔ یحییٰ نے 1970ء کے الیکش کروائے مگر اقتدارکی منتقلی میں لیت و لعل کرتے رہے کیونکہ وُہ چاہتے تھے کہ وہ صدر کے عہدے پر برقرار رہیں، وزیر اعظم چاہے کوئی بھی بن جائے، اس دوران1971 کی جنگ شروع ہو گئی، پاکستان دو لخت ہو گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔

سہیل وڑائچ کے بقول تاریخ کے جھروکے سے یہ بھی نظر آتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی امریکی صدر رچرڈ نکسن سے 1973 اور 1975 میں دو ملاقاتیں ہوئیں مگر ایٹم بم کے مسئلے پر شدید اختلاف پیدا ہو گیا۔ یاد رہے کہ بھٹو ایٹم بم بنانے کا منصوبہ شروع کر چکے تھے جسے مغرب میں اسلامک بم قرار دیا جا رہا تھا۔ چنانچہ جب امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے گورنر ہائوس لاہور تقریر کرتے ہوئے بھٹو کو کھلی دھمکی دی تو بھٹو نے بھی امریکی عزائم کو سر بازار بے نقاب کر دیا۔ بھٹو کو نکالنے کے لیے امریکہ کے ایما پر 1977 میں تحریک نظام مصطفیٰ چلی اور بھٹو جیل چلے گئے۔ ضیاء الحق نے صدر بن کر 1980ء 1982ء اور 1985ء میں امریکہ کے تین دورے کئے، اور صدر رونالڈ ریگن سے ملے۔ وُہ ان ملاقاتوں سے پہلے ہی بھٹو کو پھانسی پر چڑھا کر پاکستان میں ایک مستقل محاذ آرائی اور عدم استحکام کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ اسکے بعد امریکی شہ پر 1979 میں افغان جہاد شروع ہوا اور ضیا اندرونی طور پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ پیپلز پارٹی کو کوڑوں پھانسیوں اور جیلوں کے ذریعے کارنر کرنے کی کوشش کی گئی۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات نے ملک کو برادریوں اور فرقوں میں تقسیم کرکے ایک نئے سیاسی ماڈل کی بنیاد رکھی جس میں ترقیاتی کام اراکین اسمبلی کو دیکر ان کے کِلّے مضبوط کئے گئے اور یوں سیاسی نظام میں بدعنوانی کی بنیاد پڑی۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ امریکی اتحادی کے طور پر جنرل ضیاء نے گیارہ سال طویل حکمرانی کی اور ملک کو ہیروئن اور کلاشنکوف کا کلچر دے ڈالا۔ اس دوران ضیاء نے افغانستان کے مسئلے پر امریکہ سے دہری چالیں شروع کر دیں، اسی دوران ضیاء کے نامزد کردہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی 1986 میں صدر ریگن سے ملاقات ہوئی۔ بعدازاں پہلے تو جونیجو نے مارشل لا اٹھوایا پھر جنرل ضیاء کی مرضی کے خلاف امریکہ کے کہنے پر جنیوا معاہدے پر دستخط کر دیے۔ اس دوران اپریل 1986 میں بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آ گئیں۔ یوں پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔

جنرل ضیا کے ایک حادثے میں بھسم ہونے کے بعد 1988 میں الیکشن ہوئے اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں۔ 1989ء میں وہ امریکہ گئیں اور امریکی صدر جارج بش سینئر سے ملاقات کی۔ وہ پاکستان کی واحد وزیراعظم ہیں جنہیں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا اعزاز ملا۔ لیکن صدر جارج بش سے ذاتی تعلقات ہونے کے باوجود نیو کلیئر اور خارجی امور پر امریکی ڈیپ سٹیٹ سے ان کے معاملات چل نہ سکے اور وُہ 18ماہ کے مختصر ترین عرصے میں اقتدار سے فارغ کر دی گئیں۔ اسکے بعد صدر فاروق لغاری نے 1994ء میں امریکہ کا سرکاری دورہ کیا، وہ صدر بل کلنٹن سے ملے اور پھر وطن واپسی پر وہ اپنی ہی لیڈر بے نظیر بھٹو کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ یوں بے نظیر بھٹو دوبارہ اپنے ہی نامزد کردہ صدر کے ہاتھوں اقتدار سے فارغ ہو گئیں۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف، صدر کلنٹن سے تین مرتبہ 1997، 1998 اور1999 میں ملے۔ نواز شریف نے طالبان کے خلاف مہم امریکی دورے کے بعد شروع کی۔ جب نواز شریف جنرل مشرف کے ہاتھوں اقتدار سے نکالے گئے تو صدر کلنٹن نے ان کی قید سے رہائی اور سعودی عرب میں جلا وطنی کی ڈیل کروانے میں مدد کی۔ بعد میں آئین شکن صدر جنرل مشرف نے امریکہ کے پانچ دورے کئے اور وُہ جونیئر بش کے دوست بن گئے۔ مشرف نے سیاسی پارٹیوں کو کمزور کیا اپنی سیاسی جماعت بنائی جسے اب قاف لیگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مشرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے امریکہ کی جنگ میں پارٹنر بنے رہے، صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلان بھی امریکی دوروں پر گئے مگر کوئی بڑا بریک تھرو نہ ہوا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان جولائی 2019 میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملے۔ ان کی اس ملاقات کی کامیابی کا غلغلہ تو بہت ہوا مگر کوئی ایسے نتائج نہ نکلے جن کی توقع کی جارہی تھی، اب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں لنچ پر ہونے والی ملاقات نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ اس سے پہلے جنرل کیانی، امریکی صدر سے ملے تھے مگر وُہ سلام دعا سے زیادہ کی ملاقات نہ تھی۔ لیکن جنرل عاصم منیر ظہرانے پر وائٹ ہائوس مدعو کئے گئے جو انتہائی غیرمعمولی دعوت نامہ تھا، ظہرانے میں جنرل عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل عاصم ملک شامل تھے، لیکن آج تک نہ امریکہ اور نہ ہی پاکستان نے اس ملاقات کی کوئی تصویر، یا کوئی فوٹیج جاری کی ہے۔

 کیا FBR سے تاجروں کی گرفتاری کا  اختیار واپس لے لیا جائے گا؟

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ میں کوئی جوتشی نہیں، لیکن ماضی میں ہونے والی ہر پاک امریکہ اعلیٰ سطحی ملاقات کے اثرات پاکستان سیاست پڑتے رہے ہیں۔ لہٰذا صاف نظر آ رہا ہے کہ اس بار بھی سب کچھ بدلے گا۔ اس دورےکا پہلا نتیجہ تو یو ایس ایڈ کی بحالی کی شکل میں سامنے آگیا ہے۔ جبکہ پاکستان کی اندرونی سیاست پر پہلا اثر یہ پڑنے والا ہے کہ قیدی نمبر 804 کو اڈیالہ کی صوبائی جیل سے اسلام آباد کی نئی وفاقی جیل میں منتقل کرنے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ نئی جیل تیاری کے آخری مراحل میں ہے اور اپنے نئے مہمان کی منتظر ہے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی حالیہ ملاقات کا فوری اثر پاکستان کی سفارتی اہمیت پر بھی پڑا ہے، ایران، افغانستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین سفارتی سطح پر پاکستان کا کردار اہم ہو چکا ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ابراہیم معاہدہ کھٹائی میں پڑ رہا ہے اور اس سے کوئی بہتر حل نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایرانی حکومت ختم نہ کرنے میں سعودی عرب اور بالخصوص پاکستان کا اہم کردار ہے اور ایران پاکستان کے کردار کو سراہ بھی رہا ہے۔ ٹرمپ کو پاکستان کی شکل میں ایک مضبوط مسلم اتحادی مل گیا ہے اور پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں اونچا مقام مل گیا ہے۔ ایسے میں اندازہ ہے کہ پس پردہ سرگرمیاں صدر ٹرمپ کے دورۂ پاکستان کی راہ ہموار کرنے کے لئے کی جارہی ہیں۔ بہت کچھ بدل گیا ہے اور بہت کچھ بدلنے والا ہے۔ آگے آگے دیکھیے اب ہوتا ہے کیا۔

Back to top button