پنجاب، خیبرپختونخوا اسمبلی میں مذمتی قراردادیں منظور

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی نااہلی کے خلاف مذمتی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
اسپیکر سبطین خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے عمران خان سے اظہار یکجہتی اور نااہلی کے فیصلے کیخلاف قرار داد پیش کی۔
قرارداد کے متن میں لکھا گیا ہے کہ الیکشن کمشنر کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے، سپریم کورٹ عمران خان کو صادق و امین قرار دے چکی ہے، امپورٹڈ حکمران سیاسی میدان میں عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
قرارداد کے متن میں لکھا گیا ہے کہ عمران خان ملک کے مقبول لیڈر ہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو پنجاب اسمبلی کا ایوان مسترد کرتا ہے، یہ فیصلہ 22 کروڑ عوام کے منہ پر طمانچہ ہے، چیف ایکشن کمشنر کو فوری طور پر انکے عہدے سے ہٹایا جائے۔
قرارداد پیش ہونے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور اراکین نے شور مچانا شروع کیا جس پر ایوان مچھلی بازار کا منظور پیش کرنے لگا۔
اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا اور گھیراؤ کی کوشش کی تو اس دوران ہنگامہ آرائی ہوئی۔ اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہوگے چور چور کے نعرے لگائے۔
دوسری جانب خیبرپختونخواہ اسمبلی میں بھی عمران خان کے حق میں اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔ ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی محمود جان اجلاس کی صدارت ہونے والے اجلاس میں وزیر تعلیم کامران بنگش نے قرار داد پیش کی۔
جس کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان کثرت رائے سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتا ہے، اعلیٰ عدلیہ اس فیصلے کا نوٹس لے تاکہ پاکستان کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو۔
قرار داد کی منظوری کے وقت اپوزیشن ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر شدید احتجاج کیا مگر وہ رائیگاں گیا کیونکہ ایوان میں پی ٹی آئی کثرت رائے سے اسے کامیاب کروانے میں کامیاب ہوگئی۔
کامران بنگش نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو چاہئے کہ کینگرو کمیشن کو لگام ڈالے، یہ ایوان کثرت رائے سے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ہونے والے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غیر جانبدارانہ، خلاف واقعات، خلاف قانون اور آئین کے منافی قرار دیتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہ اہے کہ جمعرات یا جمعے کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کروں گا، حکومت کی جانب سے جلد انتخابات کی کوئی امید نہیں ہے۔
سنیچر کو اسلام آباد میں اعظم سواتی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اعظم سواتی کے ساتھ جو ہوا اس کے خلاف ہر فورم پر جائیں گے۔اعظم سواتی کے معاملے پر اعلٰی عدلیہ کو سوموٹو نوٹس لینا چاہیے تھا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے کسی بڑے آدمی پر تنقید کی تھی۔‘
لانگ مارچ کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ یہ باقی مارچز سے مختلف ہوگا۔ ہم مارچز کے ماہر ہیں اور ہمیں اس کا پورا تجربہ ہے۔ اس مارچ کے لیے جو میں نے قوم کی بیتابی دیکھی ہے اس سے قبل نہیں دیکھی تھی۔ میں اپنی پلاننگ کے حساب سے چل رہا ہوں لیکن قوم بیتاب ہے۔ ہر جگہ مجھے لوگ کہتے ہیں کہ آپ کب نکل رہے ہیں۔ اس سے بڑا احتجاج پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’لانگ مارچ پرامن ہوگا۔ میں نے اپنی 26 سال کی سیاست میں سب کچھ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا ہے۔ ہمارے مارچ میں کسی قسم کا تشدد نہیں ہوگا بلکہ لوگ اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ میں جمعرات یا جمعے کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کروں گا پھر اس کے سب کے سامنے اس کی تفصیلات آتیں رہیں گی۔
حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ایک سوال پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’بیک ڈور چینل سے تو بات چیت ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔ سیاسی جماعتیں ہمیشہ بات چیت کرتی ہیں، لیکن مجھے نظر نہیں آ رہا کہ اس کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔‘
کیونکہ ہم نے مذاکرات کس چیز کے لیے کرنے ہیں ہم انتخابات چاہتے ہیں۔ یہ (حکومت) سازش کے ذریعے آئی، 25 25 کروڑ روپے سندھ ہاؤس میں چلے۔ انہوں نے لوٹے بنائیں، الیکشن کمیشن کو تب کوئی فکر نہیں تھی کہ اتنی بڑی کرپشن ہو رہی ہے لوگوں کے ضمیر خریدے جا رہے ہیں۔‘
عمران خان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’پھر اِنہوں نے آ کر معیشت تباہ کر دی اور اپنے کرپشن کیسز بچا رہے ہیں۔ ایسا جمہوریت میں ہوتا ہی نہیں کہ آپ خود ہی قانون بنائیں اور اس سے خود ہی فائدہ اٹھا لیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اس وقت تیزی سے دلدل میں جا رہا ہے جس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ انتخابات کروائیں جائیں۔ تو ہمارے لیے مذاکرات کی بس اتنی اہمیت ہے کہ انتخابات ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ انہوں نے انتخابات نہیں کروانے۔ خاص کر ہمارے کمزور سے کمزور حلقوں سے ان کے ہارے کے بعد مجھے کوئی امید نہیں ہے انتخابات کی۔‘
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے اپنے خلاف درج ہونے والے نئے مقدمے کے حوالے سے سے کہا کہ ’کیا اگر یہ مجھے پکڑ لیں گے تو لانگ مارچ نہیں ہوگا؟ لوگ چپ کر کے بیٹھ جائیں گے؟ ہم اس وقت منظم طریقے سے احتجاج کرتے ہیں ہم قوم کو اکٹھا کرتے ہیں۔ پچھلے پانچ چھ مہینوں میں جو میرے 55 جلسے ہوئے ہیں، میں چیلنج کرتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنے بڑے جلسے نہیں ہوئے۔‘
’تو کیا یہ چاہتے ہیں کہ منظم طریقے سے احتجاج ہو یا یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان سری لنکا کے راستے پر چلا جائے یا افراتفری پھیل جائے۔ اگر یہ منظم احتجاج کا راستہ روکیں گے تو افراتفری پیدا ہو جائے گی، قوم تو تیار کھڑی ہے، ملک ہی بند ہو جائے گا۔

Back to top button