حکومت کے میڈیا دشمن پیکا قانون پر پہلی ضرب لگ گئی

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے عوامی توقعات کے عین مطابق ایف آئی اے حکام کو پیکا قانون کی دفعہ 20 کے تحت حکومتی ایما پر گرفتاریوں سے روک دیا ہے جس سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ عدالت بد نیتی پر مبنی نیب ترمیمی آرڈیننس کو معطل کر دے گی۔ عدالتی فیصلے کو پیکا ترمیمی قانون پر لگنے والی پہلی ضرب قرار دیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو پیکا کے تحت گرفتاریوں سے روکنے کا حکم 23 فروری کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی دائر درخواست پر دیا۔ بدنام زمانہ پیکا قانون کی دفعہ 20 ہتک عزت کے تحت شکایت کے اندارج سے متعلق ہے۔ وزیراعظم کی خواہش پر جاری کردہ صدارتی آرڈیننس سے قبل ہتک عزت کا جرم قابل ضمانت تھا تاہم آرڈیننس کے ذریعے اسے ناصرف ناقابل ضمانت بنا دیا گیا ہے بلکہ اسے فوجداری قوانین یا کریمینل کیسز میں شامل کر دیا گیا ہے جس کی سزا پانچ سال تک قید کر دی گئی ہے۔

یہ حکومتی فیصلہ دراصل وفاقی وزیر مراد سعید اور عمران خان کے تعلقات بارے مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو کے بعد کیا گیا۔ اس گفتگو کا محور عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کی کتاب ہے جس میں انہوں نے اپنے شوہر کے علاوہ مراد سعید پر بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں تاہم ابھی تک دونوں کی جانب سے ریحام کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

پیکا ترمیمی آرڈینس کے خلاف دائر پی ایف یو جے کی درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’زمبابوے اور یوگنڈا جیسے ممالک بھی ہتک عزت کو فوجداری قوانین سے نکال چکے ہیں اور دنیا بھر میں ہتک عزت کو جرم سے الگ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب حیرت انگیز طور پر اس جرم کو فوجداری جرم بنا دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے احکامات جاری کیے کہ کسی شخص کی شکایت پر اس قانون کے حوالے سے پہلے سے طے کیے گئے ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے کسی کی گرفتاری نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی گرفتاری ہوئی تو اس کی ذمہ داری ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ پرویز عائد ہو گی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے تحت آنے لائن نیوز ایجنسی کے مالک محسن بیگ کے گھر پر چھاپہ مارنے کے معاملے پر ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے بابر بخت قریشی کو توہین عدالت کے۔

صدارتی آرڈیننس کے بعد الیکشن کمیشن اور حکومت کا پھڈا

الزام پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔ ماضی قریب میں کئی صحافیوں کو پیکا قانون کے تحت گرفتار کرنے والے حکومتی ٹٹو بابر بخت قریشی کو 24 فروری کے روز اپنا موقف تحریری طور پر داخل کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے اس دوران برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایف آئی اے صرف حکومتی وزراء کی عزتیں بچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیکا قانون میں ترامیم کا صدارتی آرڈیننس بد نیتی پر مبنی ہے لہذا قوی امکان ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ان ترامیم کو منسوخ کر دے۔

دوسری جانب پیکا قوانین میں ترامیم پر حکومتی حلقوں میں بھی اختلاف رائے پیدا ہوچکا ہے اور اٹارنی جنرل کے علاوہ ایم کیو ایم نے بھی پیکا قانون میں ترامیم پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے صدارتی پیکا ترامیم کو ڈریکونین قرار دے دیا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ میں نے وزیر اعظم کو پیکا ایکٹ میں ترامیم پر مختلف طبقہ ہائے فکر کی بے چینی بارے آگاہ کیا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ خدشات موجود ہیں کہ حکومت کے خلاف کسی بھی خبر پر صحافیوں کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیر اعظم کو ملاقات کے دوران آگاہ کیا تھا کہ معاشرے میں یہ تاثر عام ہے کہ اگر اس آرڈیننس پر موجودہ شکل میں عمل درآمد کیا گیا تو اسکے حکومت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اس بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ پیکا ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے اس بات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسی خبریں یا تجزیے جن میں حکومتی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے اس قانون کے تحت قابل گرفت نہیں ہوں گے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے یقین دہانی کروائی کہ اس قانون کا غلط استعمال نہیں ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ 24 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس بارے میں تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے خالد جاوید خان کی گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان سے اتفاق نہیں کرتے اور سچ تو یہ ہے کہ جب پیکا ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ تیار کیا جارہا تھا تو خالد جاوید خان کو بھی اعتماد میں لیا گیا تھا۔ اسی دوران حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے رکن پارلیمان اور وفاقی وزیر امین الحق نے عمران خان کو لکھے گئے ایک خط کے ذریعے پیکا آرڈیننس فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔انکا کہا ہے کہ تمام کمیونٹی کو پیکا ترمیمی آرڈیننس کے بارے میں شدید خدشات ہیں اور میڈیا اور صحافیوں نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کوئی ہنگامی صورتحال نہیں تھی اور قانون سازی کے لیے رائج طریقہ کار سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر بد نیتی کی بنیاد پر ایسا کیا گیا ہے جس سے حکومت کے مذموم مقاصد ظاہر ہوتے ہیں لہذا پیکا قانون میں ترامیم کو آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا جائے۔

Back to top button