گورنر ٹیسوری کا جھٹکا صدر زرداری اور شہباز نے مل جل کر کیا

ایم کیو ایم کے کھاتے میں گورنر سندھ بننے والے کامران خان ٹیسوری کی فراغت کی بنیادی وجہ یہ بنی کہ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس ان کو ہٹانے کے لیے ایک ہی صفحے پرآ چکے تھے۔ ایک طرف پیپلز پارٹی کسی صورت ٹیسوری کو مزید گورنر کے طور پر دیکھنے پر آمادہ نہیں تھی اور دوسری جانب مسلم لیگ (ن) بھی انہیں مزید وقت دینے کو تیار نہیں تھی۔ چنانچہ جب دونوں بڑی اتحادی جماعتیں اس معاملے پرمتفق ہو گئیں تو ٹیسوری کی کرسی بچانے کے تمام راستے بند ہو گئے اور ڈی جی سی کی ٹیسوری کو بچانے کی کوششیں بھی ناکام ہو گئیں۔

صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف کی سفارش پر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نہال ہاشمی کو سندھ کا نیا گورنر مقرر کر دیا ہے۔ یاد ریے کہ کامران ٹیسوری نے 9 اکتوبر 2022 کو گورنر سندھ کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔ انہیں متحدہ قومی موومنٹ کے کوٹے پر اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا، حالانکہ اتحادی حکومت کے پاور شیئرنگ فارمولے کے تحت سندھ کی گورنرشپ دراصل مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آنی تھی۔ تب سیاسی مصلحت اور اتحادی توازن برقرار رکھنے کے لیے یہ عہدہ ایم کیو ایم کو دے دیا گیا تھا۔

تاہم کامران ٹیسوری نے غیر سیاسی گورنر کا کردار ادا کرنے کی بجائے متحدہ قومی موومنٹ کے ایما پر پیپلز پارٹی کو لتاڑنے کا عمل جاری رکھا۔ اسکے علاوہ وقت گزرنے کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی یہ آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں کہ سندھ کی گورنر شپ دراصل ان کا حق ہے اور پارٹی کو اپنا حصہ واپس ملنا چاہیے۔ نون لیگی قیادت پر بھی یہ دباؤ بڑھتا گیا کہ پاور شیئرنگ فارمولے کے مطابق اپنی جماعت کو اس عہدے پر نمائندگی دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ رہنما نہال ہاشمی کو سندھ کا نیا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب کامران ٹیسوری کے دور میں گورنر ہاؤس میں ہونے والی سیاسی سرگرمیاں بھی مسلسل تنازعات کا باعث بنتی رہیں۔ گورنر بننے کے بعد سے ہی انہوں نے سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر کھل کر تنقید شروع کر دی تھی۔ خصوصاً کراچی میں بلدیاتی مسائل، صفائی ستھرائی، امن و امان اور شہری سہولیات کے معاملات پر انہوں نے صوبائی حکومت کو مسلسل نشانہ بنایا۔ وقت کے ساتھ ان کی تنقید اور سیاسی سرگرمیوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا جس پر پیپلز پارٹی کی قیادت نے سخت ردعمل دیا۔

پیپلزپارٹی کا مؤقف تھا کہ گورنر ایک آئینی منصب ہے اور اس منصب کو سندھ حکومت کے خلاف سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والے اجلاسوں نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا۔ ان تقریبات میں کراچی کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور حتیٰ کہ کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے جیسا مطالبہ بھی سامنے آیا جس پر سندھ اسمبلی میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور اس حوالے سے ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے ایوان صدر کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس کو واضح پیغام دیا کہ کامران ٹیسوری کو گورنر کے طور پر مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری اپنی کرسی بچانے میں نا کام کیوں رہے؟

دوسری جانب کامران ٹیسوری اپنی کرسی بچانے کے لیے مسلسل متحرک رہے۔ نجی محفلوں میں وہ یہ دعویٰ کرتے رہے کہ انہیں بعض طاقتور حلقوں بشمول ڈی جی سی کی حمایت حاصل ہے اور اسی بنیاد پر وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ تاہم جب ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس اس معاملے پر ایک مؤقف پر آ گئے تو ان کے لیے عہدہ بچانا ممکن نہ رہا۔ گورنر کی تبدیلی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اگر گورنر ٹیسوری کی سیاسی سرگرمیوں پر اعتراض ہے تو پھر صدر آصف زرداری کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے کیونکہ وہ بھی ایک سیاسی شخصیت ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان اس وقت گورنر ٹیسوری کی فراغت پر سراپا احتجاج دکھائی دیتی ہے اور بعض رہنما وفاقی حکومت سے علیحدگی کی بات بھی کر رہے ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں ایم کیو ایم کے پاس حکومت چھوڑنے کا عملی آپشن موجود نہیں، اس لیے وہ احتجاج کرنے کے باوجود اسی تنخواہ پر اتحادی حکومت کا حصہ بنی رہے گی۔

یاد رہے کہ نئے گورنر کے طور پر نامزد ہونے والے نہال ہاشمی کراچی سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما ہیں جو کئی دہائیوں سے پارٹی سیاست میں متحرک ہیں۔ وہ ماضی میں سینیٹر بھی رہ چکے ہیں اور پارٹی قیادت کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری دراصل پاور شیئرنگ فارمولے کے تحت مسلم لیگ (ن) کو اس کا حق دینے کی کوشش ہے۔

Back to top button