کیا اسٹیبلشمنٹ عمران خان پر آخری وار کرنے والی ہے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله نیازی نے کہا ہے کہ عمران خان پر آخری وار ہونے کو ہے، اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی سیاست کا مکو ٹھپنے میں یکسو ہے، مریم نواز کا یہ کہنا سچ ہے کہ عدالتی نظام ’’جوائے لینڈ’’بن چکا ہے‘‘، پچھلے کچھ ہفتوں کے واقعات اس کی توثیق کر رہے ہیں ہر آنے والا دن صورتحال کو بد سے بد تر بنادے گا، اپنے ایک کالم میں حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ آئین میں سپریم کورٹ صرف ایک جج کا نام نہیں، تمام جج برابر ہیں، چیف جسٹس کی اضافی ذمہ داریاں یہ ہیں کہ وہ انتظامی امور کا نگراں ہے۔ آج انتظامی امور سپریم کورٹ میں وجہ نزاع بن گئے ہیں۔

ایک چیز آئین و قانون ہے اور دوسری چیز ہے اس پر مبنی انصاف۔ آئین و قانون کے مطابق فیصلوں سے، انصاف کے تقاضے تو شاید پورے ہو جائیں لیکن کیا یہ فیصلے برحق ہو تے ہیں؟ آرٹیکل 184(3) کی پریکٹس قرآن سے متصادم ہے، برحق فیصلے دوراندیشی، حکمت اور زمینی حقائق کے مرہون مِنت ہیں۔ پانامہ لیکس پر جب نوازشریف کو ہتھیانے اور ہٹانے کی سبیل پیدا ہوئی تو عمران خان کی آف شور کمپنی ’’نیازی سروسز لمیٹڈ‘‘ بھی منظر عام پر آگئی۔

ایک ہی وقت میں ایک ہی طرح کے دو مقدمات پر دو مختلف معیار اپنائے گئے. ایک ہی مقدمہ میں عمران خان اور جہانگیرترین کیلئے انصاف کا دہرا معیار استعمال میں رہا۔نوازشریف کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے ایسے جتن ہوئے کہ رہتی دُنیا تک یہ سیاہ دھبہ ہماری عدلیہ کے ماتھے پر چسپاں رہنا ہے۔ دوسری طرف عمران خان کو مسندِ اقتدار پر لانےکیلئے قانون کے اندر کشادہ راہیں تلاش کی گئیں . خاکم بدہن اگر وطن عزیز آج کسی حادثہ کے قریب ہوا تو ان دو مقدمات کا کردار کلیدی رہناہے۔ دونوں مقدمات میں فیصلے ، برحق فیصلوں سے کوسوں دور نظر آئے۔ تب سے اب تک مملکت اور اداروں میں ایک افراتفری ، ٹکراؤ شکست وریخت اُبھر کر سامنے آئی ہے۔ تب سے کئی ساتھی جج کھڈے لائن لگے اور  اُن کو عدالتی نظام سے باہر کرنے کے جتن شاملِ حال رہے۔

حفیظ الله نیازی بتاتے ہیں کہ قاضی فائز عیسیٰ برخاستگی سے بال بال بچے کہ جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے ۔ سپریم کورٹ کاایسا فیصلہ بھی آیا کہ قاضی فائز عیسیٰ عمران خان سے متعلق مقدمات میں شامل نہیں ہونگے ۔ عدالتی تباہی کی آگ آج ایسے مقام پرپہنچ چکی ہے جو پورے ملک کو بھسم کرنے کو ہے۔مریم نواز کا یہ کہنا سچ ہے ،’’عدالتی نظام ’’جوائے لینڈ’’بن چکا ہے‘‘۔ پچھلے ہفتوں کے واقعات اس کی توثیق کر رہے ہیں، عمران خان کا جتھوں کے جلو میں انصاف لینا وہ کام ہے جس نے  ایک جدت متعارف کروا دی، عدالتی نظام کی ایسی تضحیک ہو گی کبھی سوچا نہ تھا۔

عمران خان اپنے خلاف ’’برحق انصاف‘‘میں رکاوٹ کہ اُن کے نزدیک،’’اُنہوں نے کوئی جُرم کیا ہی نہیں تو عدالت کی کیا ہمت کہ کیسے اور کیوں اُنکے مقدمات سنے‘‘؟ چشم تصور میں جو الزامات آج عمران خان پرہیں اُنہی الزامات کی زد میں اگر یہی نوازشریف یا دیگر دوسرے سیاستدان ہوتے تو عمران خان اور ماننے والے ہانپ ہانپ کر کیا کیا دلیلیں دے رہے ہوتے؟ قصوروار عمران خان نہیںاصل قومی مُجرم وہ ہیں جنہوں نے سیاسی انجینئرنگ سے ایسا ہیرا تراشا ۔ خاطر جمع رکھیں، عمران خان کا اپنا حشر بھی مختلف نہیں رہناکہ اپنے حشر نشر سے پہلے سہولت کار ادارے جس تضحیک کے دور سے گزر رہے ہیں ، اس میں’’دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو‘‘۔ تمام شریک جُرم ڈھونڈ کر الزامات ایک دوسرے کے سر پر ڈال رہے ہیں۔ جنرل باجوہ اپنے تئیں تمام کرداروں کو اور باقی کردار ایک دوسرے کو بیچ چوراہے عریاں کر رہے ہیں۔

حفیظ الله نیازی کے مطابق چند ہفتوں کے اندر سپریم کورٹ کے اندر ایسی انہونیاں ہوئی ہیں کہ یہ سب کبھی وہم و گمان میں نہ تھا۔ قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس یا نئے ججوں کی تعیناتی پر گندے کپڑے بیچ چوراہے دھونا قصہ پارینہ بننے کو تھے کہ نئی وارداتیں گُل کِھلانے کو ہیں۔پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کیلئے آئین کی غیر آئینی تشریح سے جنم لینے والا بحران، 90دن کے اندر الیکشن کروانے پر سوموٹو اور اُس پر من پسند بینچ اور بینچ پر متنازع ججوں کی موجودگی نے سپریم کورٹ کے اندر چپقلش کو خبروں کی زینت بنایا۔ بینچ کا فیصلہچار پانچ کا   ہے یا دو تین کا  عدالتی تاریخ کا ایک مزاحیہ پروگرام قومی تفریح کا سبب بنا۔ جب دوبارہ توہین عدالت کی پٹیشن پر کارروائی ہوئی تو اعجازالاحسن کا بینچ پر دوبارہ براجمان ہونا ساکھ کو دھچکا لگا گیا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے شو اُچک لیا اور یہ اعلان فرمایا کہ پٹیشن پہلے ہی تین چار  سے رد ہو چکی ہے۔

سونے پر سہاگہ، قوم باجماعت اس تُو تکار کا مزہ لے رہی تھی کہ قاضی فائز عیسیٰ کے ایک بینچ نے سوموٹو کیس کو مزید آگے بڑھانے سے روک دیا ۔ فیصلہ دیا کہ سپریم کورٹ زیر بحث درخواست پر کارروائی کو آگے نہ بڑھائے ،جب تک سوموٹو کی حدودقیود کا تعین اسمبلی میں زیر بحث ہے ۔اُس کے نتیجے میں ٹوٹا پھوٹا بینچ بھی ٹوٹ گیا ۔ قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کی روشنی میں جسٹس امین الدین نے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا ۔ اگلی کوئی بھی پیش رفت کشیدگی کو مزید بڑھائے گی۔

حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ ہر آنے والا دن صورتحال کو بد سے بد تر بنانے کو ہے۔بلاشبہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی سیاست کا مکو ٹھپنے میں یکسو ہے۔ عمران خان کیخلاف ابھی تک جو حکمت عملی بھی بنائی وہ ان ہی کی  مقبولیت کو چار چاند لگا گئی ۔ میرا تجسس مگر یہ ہے ، اب جبکہ تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت  عمران خان پر آخری وار ہونے کو ہے  تو اسٹیبلشمنٹ کا اپنا ادارہ سپریم کورٹ سے کس قدر مختلف رہے گا۔ عمران خان کی سیاست کے خاتمہ بالخیر کے بعد مملکت کس حال میں ہوگی، آنے والا وقت بہت کچھ بتانے کو ہے۔

حکومت نے سپریم کورٹ سے’ون مین شو ‘کا خاتمہ کیسے کیا؟

Back to top button