اٹھانے والی ایجنسیوں کے ناقد احمد فرہاد کو کس نے اٹھایا ہے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان جیسے جن معاشروں میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں مزاحمتی صحافت اور باغیانہ شاعری قتل سے بڑا جرم بن جاتی ہے۔ جس ریاست کی ایجنسیاں ایک شاعر سے خوفزدہ ہو کر اسے اغوا کر لیں وہ ایجنسیاں اور ریاست دونوں اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں۔ حامد میر بر صغیر پاک و ہند میں انگریز دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت بھی صحافیوں اور شاعروں کو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ اس لئے سمجھتی تھی کہ بھگت سنگھ جیسے باغی، رابندرر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبالؒ جیسے شاعروں سے متاثر تھے۔
اپنی ایک تحریر میں حامد میر بتاتے ہیں کہ بہت کم لوگوں کو علم یے کہ علامہ اقبالؒ نے بھگت سنگھ کو پھانسی سے بچانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی۔ اقبالؒ ایک سینئر وکیل تھے۔ 1929ء میں بھگت سنگھ پر کمپنی کی حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں مقدمہ چلانے کیلئے ایک خصوصی آرڈی ننس جاری کیا گیا اور آرڈی ننس کے تحت ایک خصوصی عدالت بنائی گئی۔ 1930ء میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک کمیٹی بنائی جس میں علامہ اقبالؒ، گوکل چند نارنگ، ملک برکت علی اور نانک چندشامل تھے۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بھگت سنگھ کےخلاف جاری کئے جانے والے آرڈی ننس کو غیر آئینی قرار دے دیا لیکن اس کے باوجود خصوصی عدالت نے بھگت سنگھ کو سزائے موت سنا دی۔ 27 فروری 1931ء کو ڈاکٹر اقبالؒ نے بھگت سنگھ کی سزائے موت کے خلاف پٹیشن دائر کی جو مسترد کردی گئی اور 23 مارچ 1931ء کو بھگت سنگھ کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اب آپ خود سوچئے کہ پاکستان کا خواب دیکھنے والا شاعر بھگت سنگھ کا دیوانہ تھا جسے کمپنی کی حکومت نے دہشت گرد قرار دے کر پھانسی پر لٹکا دیا۔ جب پاکستان بن گیا تو جس جس نے یہ سوال اٹھایا ہمیں کمپنی کی حکومت کے بنائے گئے سیاہ قوانین سے کب آزادی ملے گی اسے غدار قرار دے کر جیل میں ڈالا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد ہمارے ہر بڑے شاعر کو جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ فیض احمد فیض صرف شاعر نہیں صحافی بھی تھے۔ انہیں راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا۔ حبیب جالب کو شراب نوشی اور قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اسی قسم کی شاعری کی وجہ سے شورش کاشمیری بھی اکثر جیل کی ہوا کھایا کرتے۔
عدالتی رپورٹنگ پر پابندی سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج
حامد میر کہتے ہیں کہ پہلے تو شاعروں کو کسی نہ کسی الزام میں گرفتار کیا جاتا تھا۔ لیکن اب گرفتار نہیں کیا جاتا بلکہ غائب کردیا جاتا ہے۔ 2018ء میں لاپتا کر دیے جانے والے اسٹیبلشمنٹ مخالف شاعر اور صحافی مدثر نارو آج تک بازیاب نہیں ہوسکے۔ مدثر نارو کی والدہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ذریعے اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے بھرپور قانونی جنگ لڑی۔ اسی مقدمے میں وزیر اعظم شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے اور مدثر نارو کی بازیابی کی یقین دہانی کرائی لیکن مدثر نارو بدستور لاپتہ ہے۔ اب اسی اسلام آباد ہائی کورٹ میں آزاد کشمیر کے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کا مقدمہ زیر سماعت ہے جس میں عدالت کے ریمارکس سے حکومت اور اسکے ہم نوا برہم دکھائی دیتے ہیں۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ احمد فرہاد کے یہ اشعار بہت مشہور ہیں:
یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے اسے اٹھا لو
اٹھانے والوں سے کچھ جدا ہے اسے اٹھا لو
وہ بے ادب اس سے پہلے جن کو اٹھا لیا تھا
یہ ان کے بارے میں سوچتا ہے اسے اٹھا لو
احمد فرہاد کی بازیابی کے مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے بڑا قابل غور جملہ کہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ احمد فرہاد کی بازیابی کا مقدمہ نہیں رہا یہ پوری قوم کی بازیابی کا مقدمہ بن گیا ہے۔ آج وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ عدلیہ پر پارلیمنٹ کی توہین کا الزام لگا رہے ہیں۔ کیا کوئی یہ بتانا پسند کرے گا کہ اکتوبر 2022ء میں پارلیمنٹ نے جبری گمشدگیوں کے خاتمے کیلئے ایک بل پاس کیا تھا وہ بل کدھر گیا؟ اگر پارلیمینٹ اپنے بنائے ہوئے قانون پر عملدرآمد نہیں کرا سکتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ کمپنی کی حکومت کے سامنے بے بس ہے۔ کریمنل لاز ترمیمی بل 2022ء کے ذریعے پاکستان پینل کوڈ 1860ء میں ترمیم کرکے جبری گمشدگی کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا۔ اس وقت بھی تارڑ صاحب وزیر قانون تھے۔ آج بھی وہ وزیر قانون ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ میڈیا کو قابو کرنے کیلئے نئے نئے قانون لانے سے قبل 2022ء کے جبری گمشدگی کیخلاف قانون پر عملدرآمد کرا دیں تاکہ یہ تاثر ختم ہو جائے کہ آج پاکستان میں مسلم لیگ ن کی نہیں بلکہ کمپنی کی حکومت ہے۔
