حمزہ شہباز سیاسی منظر نامے سے خود غائب ہیں یا غائب کر دیے گے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ماضی میں نواز شریف کی جانب سے اپنے سیاسی جانشین قرار دیے جانے والے حمزہ شہباز پراسرار طور پر سیاسی منظر نامے سے غائب ہیں، حالانکہ خاندان شریفیہ اس وقت پاکستانی سیاست پر چھایا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاید مریم نواز کے وزیراعلی پنجاب بننے کے بعد حمزہ کو موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں اپنے لیے کوئی رول نظر نہیں آ رہا تھا اس لیے وہ خود ہی سائیڈ لائن ہو گئے ہیں۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ انکے والد صاحب میاں شہباز شریف وزیر اعظم ہیں، انکے تایا میاں نواز شریف کی مسلم لیگ وفاق اور پنجاب میں برسر اقتدار ہے، انکی چچا زاد بہن مریم صفدر کے اقتدار کے پھریرے پنج پانیوں پر زور وشور سے لہرا رہے ہیں، لیکن ماضی میں نواز شریف کا نامزد کردہ جانشین حمزہ شہباز کہیں نظر نہیں آ رہا۔ انکا کہنا ہے کہ اسوقت خاندان شریفیہ کا اقتدار نصف النہار پر ہے، فوج سے تعلقات غیر معمولی طور پر خوشگوار ہیں، مخلوط حکومت کی اتحادی پیپلز پارٹی سے ورکنگ ریلیشن شپ بھی بہترین ہے، سب سے بڑی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف بھی اب حکومت کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہیں رہی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کی چھڑی دینے کی تقریب میں حمزہ کے والد سٹیج پر تشریف فرما تھے اور مسلسل مسکرا رہے تھے۔ ان کے تایا نواز شریف کی اس تقریب میں اچانک شرکت شریف خاندان کی غیر معمولی عزت و حشمت کا پتہ دے رہی تھی، خاندانِ شریفیہ کی نئی سپر سٹار وزیر اعلیٰ مریم بھی تقریب میں جلوہ گر تھیں، اور تو اور خاندان شریفیہ کا غیر سیاسی فرزند حسن نواز بھی اپنی بہن کے برابر والی نشست پر موجود تھا، لیکن اگر خاندان شریفیہ کا کوئی ستارہ وہاں موجود نہیں تھا تو وہ حمزہ شہباز تھا۔
سہیل وڑائج کے مطابق پہلے سنا گیا کہ مریم پنجاب کی حکومت سنبھالے گی اور حمزہ پارٹی کی سیاست کرے گا، لیکن ایسا نہ ہو پایا اور حمزہ کا پارٹی سیاست میں کوئی کردار نظر نہیں آیا، اس کے بعد کہا گیا کہ حمزہ وزیر اعظم کا پبلک افیئرز یونٹ چلائیں گے جسکا دفتر سٹیٹ گیسٹ ہائوس مال روڈ پر ہو گا، لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہو پایا ،اب تو پبلک افیئرز یونٹ کا انچارج وزیر رانا مبشر کو بنا دیاگیا ہے، یوں یہ کہانی ختم ہو چکی ہے۔ حمزہ شہباز زیادہ تر لاہور میں رہتے ہیں، دن میں وہ لاہور مسلم لیگ ن کے ماڈل ٹائون آفس میں اپنی خوبصورت انیکسی میں بیٹھتے ہیں، ان کے کمرے کے شفاف شیشوں سے سفید سنگ مرمر کا فوارہ اور موسم کے رنگ برنگے پھول نظر آتے ہیں، فوارے کا رقص کرتا پانی اور پھولوں کی رنگا رنگی انہیں ٹھنڈک دیتی ہو گی۔ وہ اپنے آفس میں خاموشی سے سیاسی کارکنوں سے ملتے ہیں۔ اہل اقتدار کا رش ان کے ہاں سے غائب ہو چکا ہے، سیاسی سرگرمیاں ان کے حلقے کی خوشی اور مرگ تک محدود ہیں۔ ان کے کمرے میں میاں شریف اور ان کے تینوں بیٹوں نواز، شہباز اور عباس کی تصویریں نمایاں ہیں۔
لیکن سہیل وڑائچ کے مطابق حمزہ شہباز پنجاب حکومت کے معاملات میں نہ تو دخل اندازی کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی سفارش کرتے ہیں۔ کئی شرارتی انہیں بغاوت کے لیے اور کئی سازشی انہیں متحرک ہونے کے لیے بھڑکاتے رہتے ہیں لیکن حمزہ ٹھنڈے ٹھار وفاداری اور صبر و شکر کی علامت بنے سب سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔ شہباز شریف ویک اینڈ پر لاہور آتے ہیں تو بیٹے سے صلاح مشورہ بھی کرتے ہیں اور یہ دعوت بھی دیتے رہتے ہیں کہ اسلام آباد آ کر وہیں رہو اور حکومتی معاملات چلانے میں میری مدد کرو، لیکن ابھی تک اسکا کوئی باقاعدہ فارمولہ نہیں بن سکا، اس لئے اس پر عمل بھی نہیں ہو سکا۔
سینیئر صحافی کے مطابق حمزہ صرف سیاسی منظرنامے سے ہی غائب نہیں بلکہ نونی سیاست سے بھی مکمل غیر حاضر اور شائد لاتعلق ہو چکے ہیں، ان کے تایا نواز شریف البتہ کبھی کبھی سیاسی معاملات پر جاتی عمرا میں ان سے مشورہ لے لیتے ہیں، جاتی عمرا میں ہی ان کی وزیر اعلیٰ مریم سے دعا سلام اور خوشگوار راہ ورسم کا اعادہ ہو جاتا ہے۔ کہاں حمزہ شہباز پارٹی ٹکٹوں، ضمنی انتخابات اور پارٹی تنظیم اور سیاست کے مرکزی کردار ہوا کرتے تھے اور کہاں انکی پراسرار گمشدگی، یہ سب کچھ غیر معمولی ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خاموشی کا سبب ان کا اپنا راہ فرار ہے یا پھر وہ موجودہ سسٹم میں اپنے لیے کوئی سیاسی کردار نہ پا کر پیچھے ہٹ گئے ہیں، اگر ان دونوں آپشنز کا جائزہ لیں تو شائد یہ دونوں ہی درست ہیں، حمزہ کی سیاست اور شخصیت میں عہدوں کی حرص اور جدوجہد کا مادہ سرے سے ہی موجود نہیں، اسی لئے وہ مریم نواز کی متوقع جانشینی وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کی نامزدگی پر حسد اور نفرت کا شکار نہیں ہوئے بلکہ وہ سائڈ پر ہو کر زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، انہیں طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد بیٹی کی صورت میں پہلی اولاد نصیب ہو چکی ہے اسلیے وہ اس کے ساتھ کھیل کود کر اقتدار سے زیادہ اس خوشی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
لیکن سہیل وڑائچ کہتے ہیں دوسری طرف اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ حمزہ بحرانوں کے دور میں وزیر اعلیٰ پنجاب رہے اور سالہا سال تک نون مسلم لیگ میں نمبر 2 اور سب سے طاقتور سیاسی شخصیت رہ چکے ہیں۔ لہذا انہیں کسی غیر اہم ذمہ داری میں کوئی کشش نظر نہیں آئے گی، چنانچہ وہ اقتدار کے سینٹر سٹیج سے بیک سٹیج پر چلے گئے ہیں۔ مغلیہ خاندان میں شہزادہ اورنگزیب عالم گیر اور شہزادہ دارالشکوہ کی کشمکش پر قصے کہانیاں بہت دلچسپ ہیں خاندان شریفیہ کا دار الشکوہ کون ہوگا اور اورنگزیب عالمگیر؟ ابھی تو اس پر حتمی فیصلہ تاریخ اور واقعات نے کرنا ہے البتہ ایک بات طے ہے کہ اقتدار کی لڑائی اگر ہوئی بھی تو خاندان شریفیہ میں وہ مار دھاڑ نہیں ہو گی جو عالمگیر اور دارالشکوہ میں ہوئی تھی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی عروج و زوال سب کچھ الٹ پلٹ کر کے رکھ دیتے ہیں، زوال کو سہنے اور برداشت کرنے کے لئے پتھر کا دل چاہئے، جب مغل بادشاہ شاہ جہاں کا اقتدار اپنے عروج پر تھا تو دارا شکوہ بادشاہ کا جانشین تھا، وہ بادشاہ سلامت کے تخت پر جگہ پاتا تھا، ہندو مسلمان اور سکھ سب اسے مانتے تھے، فقیر صوفی میاں میر سے لیکر جرنیلوں تک سب دارا شکوہ کے گن گایا کرتے تھے، لیکن جب اقتدار ختم ہو گیا تو شہزادہ دارا شکوہ بھی دربدر ہو گیا، ایسے میں سوائے صوفیوں، جوگیوں اور سنتوں کے سب دارا شکوہ کو چھوڑ گے، دراصل اقتدار ہے ہی ایسی ظالم چیز !!!
60ہزار پاکستانی اس سال حج کی سعادت سے محروم کیسے ہوئے؟
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جس کے سر پر اقتدار کا ھما بیٹھ جائے اسکے ارد گرد خوشامدی طوطے گھیرا ڈال لیتے ہیں اور حاکم کو یہ بھی بھلا دیتے ہیں کہ اسے اقتدار تک پہنچانے والے کون لوگ تھے؟ دوسری طرف عروج سے زوال کا سفر طے کرنے والے لوگوں کے نہ تو کوئی در پر دستک دیتا ہے اور نہ کی کوئی فریادی آواز لگاتا ہے، لیکن نہ تو حمزہ دارا شکوہ ہے اور نہ ہی زوال کا شکار کیونکہ نہ تو وہ حصول اقتدار کے لئے دیوانہ اور جنونی بنا ہے اور نہ خاندان شریفیہ نے اسکی آپشن کو ابھی مکمل طور پر رد کیا ہے۔ ابھی مریم کی باری ہے، اسے فری ہینڈ ملا ہوا ہے، ہو سکتا ہے کہ اس بار دارا شکوہ کو بھی چانس مل جائے۔ تاریخ میں ہر بار ایک جیسے نتائج نہیں نکلتے، عروج و زوال، اقتدار اور بے اختیاری دونوں زندگی کا حصہ ہیں۔ جو دونوں حالات میں اچھا انسان رہے وہی کامیاب ہے، وگرنہ اگر بادشاہ، اچھا انسان نہیں تو اسکی بادشاہی بھی تاریخ میں بدنما داغ ہوتی ہے۔
