کیا پنجاب میں تحریک انصاف کی طاقت کا خاتمہ ہو چکا؟

پنجاب سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے کئی مرکزی رہنماؤں کو 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں سزاؤں کے بعد سے پنجاب میں تحریک انصاف کا زور ٹوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا ایک واضح ثبوت اس کی سٹریٹ پاور کا ختم ہونا ہے۔ یاد رہے کہ نومبر 2025 میں اسلام آباد لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد سے اب تک عمران خان اور انکی جماعت کی جانب سے دی گئی کوئی بھی حکومت مخالف احتجاجی کال کامیاب نہیں ہو پائی۔ صورتحال یہ ہے کہ اب پنجاب میں تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور زندہ کرنے کے لیے خیبر پختون خواہ کے وزیراعلی سہیل آفریدی کو آگے لگایا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں گذشتہ دو برس سے خصوصاً 9 مئی 2023 کے پرتشدد مظاہروں کے بعد سے تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان متحرک نظر نہیں آئے۔

ان دو برسوں کے دوران عمران خان اور پی ٹی آئی نے حکومت مخالف احتجاجی تحریکوں کے لیے بار بار کالز دیں لیکن اس کے ورکرز سڑکوں پر آنے سے انکاری رہے۔ اسکی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بھی بالکل غیر متحرک ہو چکے ہیں۔ اسکے علاوہ پی ٹی آئی پنجاب کے کئہ رہنما مفرور ہیں اور عدالتی کارروائی کے خوف سے پچھلے دو برس سے خیبر پختونخوا میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اس صورتحال میں عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف کی پنجاب میں سٹریٹ پاور زندہ کرنے کا ٹاسک وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سونپا گیا ہے۔ حال ہی میں وزیراعلی خیبر پختون خواہ کی لاہور آمد کے دو مقاصد نظر آتے ہیں۔ ان میں سے ایک تو پنجاب میں جماعت اور کارکنان کو دوبارہ سے فعال اور متحرک کرنا ہے اور دوسرا عمران خان کی جیل سے رہائی کے لیے ممکنہ تحریک چلانا ہے۔ معروف تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق سہیل آفریدی کا دورہ لاہور ایک طرح کا پیغام تھا کہ اگر وزیراعلی خیبر پختون خواہ کی زیر قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی سیاسی مہم چلائی جاتی ہے تو ضروری نہیں کہ اس کے لیے اسلام آباد کا رخ کیا جائے بلکہ یہ کام لاہور میں بھی ہو سکتا ہے۔ ماجد نطامی کہتے ہیں کہ سہیل آفریدی نے خاص طور پر پنجاب حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ ان کی زیر قیادت پنجاب میں بھی سیاسی سرگرمی کی جا سکتی ہے۔

لیکن سینئیر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف از خود کنفیوژن کا شکار نظر آتی ہے۔ ایک طرف تو اسکے رہنما مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب یہ مزاحمت کی بات بھی کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ  وزیراعلی خیبر پختونخوا کا لاہور کا دورہ۔لاہور حکومت پر مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔

سلمان غنی کہتے ہیں کہ سہیل آفریدی ایک صوبے کے وزیراعلی کے طور پر پنجاب نہیں آئے تھے بلکہ ایک سیاسی رہنما کے طور پر لاہور گے۔ اگر وہ وزیراعلیٰ کے طور پر لاہور جاتے تو پنجاب حکومت پر ان کا استقبال کرنا فرض بنتا تھا۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختون خواہ کے وزیراعلی کو سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے لاہور بلا کر پی ٹی آئی کارکنان کو دوبارہ متحرک کرنے کا مقصد پورا ہو پائے گا، خصوصا جب علی امین گنڈا پور کو ہٹانے کے بعد سے ان کے اپنے صوبے میں پی ٹی آئی دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے؟ اس حوالے سے سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ 2024 کے عام انتخابات میں الیکشن والے روز پنجاب میں پی ٹی آئی کے ورکرز یا عمران خان کے سپورٹرز نے اپنے ووٹ کے ذریعے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ عمران خان کے ساتھ ہیں۔ لیکن اس کے بعد مزاحمتی یا تحریکی گرفتاریوں میں ان کا وہ کردار نہیں رہا جس کی امید تھی۔ پی ٹی آئی قیادت اس کی وجہ یہ بیان کرتی ہے کہ اسکے کارکنان کو پنجاب میں سب سے زیادہ ریاستی انتقام کا سامنا کرنا پڑا، لیکن سچ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ورکرز تو مارشل ادوار میں بھی سڑکوں پر نکلنے سے گریز نہیں کرتے۔ سہیل وڑائج کا کہنا ہے کہ عمران کا ووٹر الیکشن والے دن خاموشی سے ان کی جماعت کو ووٹ تو دے دیتا ہے لیکن احتجاجی یا مزاحمتی تحریک کا حصہ بننے کو تیار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور اب ختم ہوتی نظر آتی ہے۔

ویسے بھی گراس روٹ لیول موبیلائیزیشن ایک پیچیدہ کام ہے جس کے لیے مضبوط قیادت ضروری ہے۔

تجزیہ نگار سلمان غنی کہتے ہیں کہ وزیر اعلی خیبر پختون کے دورہ لاہور سے اگر پی ٹی آئی کا مقصد کسی احتجاجی تحریک کے لیے راہ ہموار کرنا تھا تو وہ اس میں کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ اس دورے کے دوران وہی لوگ زیادہ متحرک تھے جو وزیراعلی خیبر پختون خواہ کے ساتھ آئے تھے۔ اسکے علاوہ سہیل آفریدی لاہور میں اپنے کارکنان میں خوف کی فضا کم کرنے میں بھی کامیاب نظر نہیں آئے ورنہ وہ شہر میں کم از کم 100 افراد کا مجمع تو اکٹھا کر ہی لیتے۔ سلمان کے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی انتظامی گرفت کافی ذیادہ مضبوط ہے۔

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ اتفاق کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی پہچان ایک احتجاجی اور مزاحمتی جماعت کی تھی۔ تاہم انکے مطابق یہ پہچان تب تک ہی تھی جب عمران خان وزیر اعظم تھے اور ان کی جماعت حکومتی وسائل اور حکومتی مشینری استعمال کر رہی تھی۔ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی خیبر پختون خواہ اپنے انتخاب کو کئی ماہ گزر جانے کے باوجود اب تک عمران خان کو جیل جا کر نہیں مل پائے، لہذا ان کے دورہ لاہور کا ایک مقصد اپنی شرمندگی کو کم کرنا اور پنجاب میں مریم نواز حکومت کو دباؤ میں لانا تھا۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی سرگرمی فائدہ مند رہی۔ لیکن جب سہیل وڑائچ سے پوچھا گیا کہ کیا اس دورے کے بعد پنجاب میں پارٹی ورکرز حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کو تیار ہو جائیں گے، تو انکا کہنا تھا کہ یہ امید صرف خوش فہمی پر مبنی ہو سکتی ہے کیونکہ حقیقی طور پر ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

صحافیوں کو سزا کے بعد PTI کا سوشل میڈیا بریگیڈ خوف کا شکار

تجزیہ نگار ماجد نظامی کے خیال میں اس وقت کوئی بڑی احتجاجی تحریک چلانا خود تحریک انصاف کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہو گا۔ وجہ یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی قیادت سمجھتی ہے کہ اسے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے حکومت مخالف تحریک چلانی ہے تو اسے 26 نومبر 2025 سے بڑا اجتماع اکٹھا کرنا پڑے گا۔ اگر پارٹی قیادت ایسا نہیں کر پائی جس کا کافی زیادہ امکان ہے تو پارٹی کے ورکرز ایک مرتبہ پھر ریاستی جبر کا شکار ہو جائیں۔

Back to top button