کیا عمران خان کے فوجی عدالت میں ٹرائل کے امکانات بڑھ گئے ہیں ؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا ہے کہ اگر جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے بعد عمران خان کے کورٹ مارشل کی افواہیں بھی حقیقت کا روپ دھارتی ہیں تو  یہ پاکستانی سیاسی تاریخ کا پہلا واقعہ ہوگا کہ ایک سابق وزیراعظم کا کیس فوجی عدالت میں بھیجا جائے گا۔ تاہم ایسے کسی فیصلے کے ہمارے جمہوری نظام  پر سنگین منفی نتائج مرتب ہوں گے۔

انگریزی روزنامہ ڈان میں اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں زاہد حسین کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں تحریک انصاف کی جانب سے طاقت کے حالیہ مظاہرے کے بعد سینئر پارٹی رہنماؤں کی گرفتاری نے سیاسی تناؤ میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ لیکن آج جو کچھ ہورہا ہے یہ اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ لاوا کافی عرصے سے پک رہا تھا۔ زاہد حسین کے مطابق دونوں فریقین جانتے تھے کہ ان کے مابین بڑھتی ہوئی سیاسی چپقلش کسی موڑ پر سنگین رخ ضرور اختیار کرے گی۔ 8 ستمبر کو اسلام اباد میں پی ٹی ائی کے جلسے کے دوران کی گئی اشتعال انگیز تقاریر اور دھمکیوں نے فیصلہ سازوں کو ایک سنہری موقع فراہم کیا کہ وہ پی ٹی آئی کی قیادت پر دوبارہ سے کریک ڈاؤن کر دیں۔ 8 ستمبر کے جلسے سے پہلے وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں عوامی اجتماعات کو ’ریگولیٹ‘ کرنے کا ایک قانون بھی عجلت میں منظور کر کیا تھا جسے کریک ڈاؤن کے لیے استعمال کیا گیا۔

سٹے آرڈر ختم ہوتے ہی 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں سنانے کا اعلان

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور حکومتی اتحاد کے مابین اب بات الفاظ کی جنگ سے آگے بڑھ چکی ہے اور رکے گی نہیں۔ اپوزیشن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے باوجود پی ٹی آئی کے پاور شو نے حکمران اتحاد کو بے چین کردیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اعلیٰ رہنماؤں کی گرفتاریاں انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتی ہیں۔ زاہد حسین کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے منتخب اراکین کو پارلیمنٹ لاجز کے اندر سے گرفتار کیا گیا جوکہ واضح طور پر ایوان کے ضابطوں اور تقدس کی پامالی ہے۔ انکا کہنا یے کہ پولیس کبھی بھی متعلقہ حکام کے احکامات کے بغیر پارلیمنٹ یں داخل نہیں ہو سکتی۔ سپیکر قومی اسمبلی یا صادق نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں تھی اور اسی لیے انہوں نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو چار مہینے کے لیے معطل کرنے کی سزا سنا دی ہے۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ انہوں نے گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کے لیے کاروائی کی ہے کیونکہ وزیردفاع خواجہ اصف نے پارلیمنٹ کی بلڈنگ سے تحریک انصاف کے منتخب اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاری کا دفاع کیا ہے۔ انکا کہنا یے کہ ایسا پی ٹی آئی والوں کی اشتعال انگیز تقاریر اور دھمکیوں کی وجہ سے ہوا۔

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے جلسے میں ہونے والی تقاریر میں جو بھی کہا گیا ہو، وزیر دفاع کو ایک ایسی حرکت کا دفاع نہیں کرنا چاہیے تھا جس نے پارلیمنٹ کی عزت اور توقیر کو خراب کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے واقعات عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران بھی ہوتے رہے جب اپوزیشن کے اراکین کو اسی طرح گرفتار کیا جاتا تھا۔ 9 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سے گرفتار ہونے والے زیرِ حراست کچھ افراد پر انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں اور کچھ کے خلاف نئے قانون کے تحت کیسز درج کیے گئے ہیں۔

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ پولیس کو پارلیمینٹ کی حدود میں داخلے کی اجازت دے کر حکومت نے جمہوری سیاسی عمل کو بہت بڑا دھچکا پہنچایا ہے اور ماورائے آئین قوتوں کو مضبوط کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی کے گرفتار اراکینِ اسمبلی کو رہا کرنے کا جو حکم جاری کیا گیا ہے وہ قابلِ تعریف اقدام ہے لیکن یہ ایوان کا تقدس بحال کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک پارلیمنٹ کی سے منتخب اراکین کو گرفتار کرنے والے انٹیلیجنس اہلکاروں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوتا، تب تک پارلیمنٹ کی توقیر اور عزت بحال نہیں ہوگی۔  انکا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے پاکستان میں پہلے سے زیادہ سیاسی تقسیم پیدا ہوگئی ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک خبر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو طاقتور فیصلہ سازوں کی جانب سے اسلام آباد میں کئی گھنٹے تک روکے رکھنے کا واقعہ ہے۔ ایسی کارروائیاں ملک میں عدم استحکام کو مزید بھڑکا سکتی ہیں۔

تاہم زاہد حسین کا کہنا ہے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے کی گئی اشتعال انگیز تقاریر اور دھمکیوں نے پی ٹی آئی کے مقصد کو بڑی حد تک نقصان پہنچایا ہے۔ اس طرح کی نفرت انگیز بیان بازی مستقبل میں پارٹی کی اندرونی تقسیم میں اضافے کا باعث بنے گی۔  ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف صرف اس لیے ابھی تک کھڑی ہے کیونکہ اس کے سپورٹرز کی توجہ جیل میں قید اپنے لیڈر پر مرکوز ہے۔ تاہم عمران خان کے جیل سے جلد باہر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، اور ان کے ملٹری ٹرائل کی افواہوں میں تیزی ا جانے کے بعد پارٹی کی صفوں میں اضطراب بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ زاہد حسین کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی بڑھانے کی وجہ سے عمران خان ابھی تک جیل میں بند ہیں اور اب ان پر 9 مئی کے فسادات اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہونے کے الزام میں فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی بھی بازگشت ہورہی ہے۔ بعض وفاقی وزرا کے بیانات نے ان قیاس آرائیوں کو تقویت دی ہے۔ دوسری جانب سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی گرفتاری اور ٹرائل نے بھی ان خدشات کو تقویت دی کہ عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ میڈیا کے کچھ سیکشنز یہ رپورٹ کررہے ہیں کہ سابق آئی ایس آئی چیف مبینہ طور پر 9 مئی کے واقعات میں ملوث تھے اور اس حوالے سے مسلسل عمران خان کے ساتھ رابطے میں تھے۔

عمران خان کی گرفتاری کے بعد پھوٹنے والے 9 مئی کے فسادات کو 16 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اسے جی ایچ کیو راولپنڈی اور کورکمانڈر ہاؤس لاہور سمیت ملک کی مختلف فوجی تنصیبات پر منظم اور مربوط حملے کے طور پر دیکھا گیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حساس سیکیورٹی تنصیبات پر حملہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ لیکن زاہد حسین کا کہنا ہے کہ یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے 9 مئی کے واقعات کو سیاسی چال بازیوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ ملٹری ترجمان کے مطابق واقعے سے تعلق کے الزام میں دیگر افراد کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا جن میں ٹو اور تھری اسٹار آفیسرز بھی شامل ہیں۔ لیکن ابھی تک کسی کو بھی سزا نہیں سنائی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی سلامتی کے اتنے اہم معاملے پر کبھی عوامی سطح کی کوئی انکوائری نہیں کی گئی لیکن اس کے باوجود 9 مئی پی ٹی آئی کے خلاف حکمران اتحاد اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی بیانیے کا حصہ ہے۔ فیض حمید کی گرفتاری نے ایک بار پھر 9 مئی کے معاملے کو سیاسی منظر نامے پر ہائی لائٹ کر دیا ہے جس کے بعد عمران خان پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کی بات ہورہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ پاکستان کا کوئی سابق وزیر اعظم فوجی عدالت میں پیش ہو۔ کیکن ایسے کسی بھی امکان کے جمہوری عمل اور قومی استحکام پر سنگین اور طویل منفی نتائج مرتب ہوں گے۔

Back to top button