آصف زرداری نے نواز شریف کا صدر بننے کا خواب کیسے توڑا؟

جنرل مشرف کے دور صدارت میں ایک ملاقات کے دوران نواز شریف نے آصف علی زرداری کو بتایا تھا کہ ان کی پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ اگلے صدر مملکت بن جائیں، اس پر زرداری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ انکی اپنی پارٹی بھی یہی چاہتی ہے کہ ملک کے اگلے صدر وہ بنیں۔ تاہم نواز شریف کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی اور 2008 کے الیکشن کے بعد آصف علی زرداری جنرل مشرف کو ہٹا کر صدر بن گئے۔ یہ واقعہ زرداری کے دور صدارت میں صدارتی ترجمان کے عہدے پر فائز رہنے والے پیپلز پارٹی کے سابق رہنما فرحت اللہ بابر نے اپنی تازہ کتاب "دی زرداری پریزیڈنسی” میں تحریر کیا ہے۔

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس اپنی تازہ تحریر میں اس کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ آصف زرداری کی چالیس سالہ سیاست الزامات اور واقعات سے عبارت ہے۔ ’’مسٹرٹین پرسنٹ سے سینٹ پرسنٹ، جیل بھی طویل، مقدمات بھی اِن گنت ،قتل سے کرپشن تک، یہ سفر تا حال جاری ہے اور وہ ایک بار نہیں دو بار صدر پاکستان منتخب ہونے والے پہلے سویلین صدر ہیں جنہوں نے پہلی بار اقتدار کی پُر امن منتقلی بھی کی اور اقتدار لیا بھی… آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ 2008 کے غیر متنازع انتخابات کے بعد بھی صدر بنے اور 2024 کی متنازع پارلیمنٹ سے بھی منتخب ہوئے۔ وہ سابق صدر غلام اسحاق خان کی طرح بہت سے رازوں کے امین ہیں جسکے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ کبھی خود اپنی سوانح عمری لکھیں گے یا نہیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ اچھا ہوا اُن کے سابق ترجمان فرحت اللہ بابر نے ’’دی زرداری پریزڈینسی‘‘ کے نام سے انکشافات سے بھری ایک کتاب تحریر کر ڈالی۔ انکا کہنا  ہے کہ سول،ملٹری تعلقات کےبارے میں اس کتاب میں بہت کچھ ہے۔ ڈیپ سٹیٹ سے لے کر US سٹیٹ تک یہاں تک کے رئیل اسٹیٹ کے ایک اہم کردار تک اس کتاب میں بہت کچھ بیان کیا گیا۔ صرف یہی نہیں کچھ ایسی باتوں کا بھی ذکر ہے جن کا تعلق زرداری کے قریبی دوستوں سے ہے۔ فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ ’’بے نظیر بھٹو کے زرداری صاحب کے بعض دوستوں کے بارے میں شدید تحفظات رہے اور اکثر وہ مجھ سے کہتیں کہ وہ اِن افراد کی موجودگی پسند نہیں کرتیں،‘‘ اُن میں سے کچھ دوستوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جنہوں نے مجھ سے اُنکی جوانی کے کئی قصے بھی شیئر کیے ہیں، یعنی کیڈٹ کالج پٹارو سے لے کر اُن کی سیاسی اور نجی زندگی تک۔ دلچسپ امریہ ہے کہ بی بی کے تحفظات کے باوجود وہ لوگ ایوانِ وزیرِ اعظم میں بھی اور ایوانِ صدر بھی آتے رہے۔

فرحت اللہ بابر نے اپنی کتاب میں آصف زرداری اور میاں نواز شریف کی 2008 کے انتخابات کے بعد زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ایک ملاقات کا ذکر کیا ہے جس میں دلچسپ صورتحال تب پیدا ہوئی جب میاں صاحب نے زرداری صاحب سے کہا۔ ’’میری پارٹی کے لوگوں کا خیال ہے اور خواہش بھی کہ میں صدر بن جاؤں۔ زرداری صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا میری پارٹی کا بھی میرے بارے میں یہی خیال ہے۔‘ ابھی صدارتی انتخابات کا مرحلہ دور تھا کیونکہ جنرل پرویز جو اُس وقت آرمی چیف تو نہیں تھے صدر مملکت ضرور تھے اور امریکی حکام بھی یہی چاہتے تھے القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ کے تنا ظر میں۔

مظہر عباس بتاتے ہیں کہ انہوں نے 2008ء میں الیکشن کے فوراً بعد زرداری ہاؤس اسلام آباد میں اُن کا انٹرویو کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انٹرویو شروع ہونے سے پہلے زرداری مجھے ایک الگ کمرے میں لے گئے۔ اور مجھ سے پوچھا۔ ’’تیرا کیا خیال ہے مجھے کیا کرنا چاہئے۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’یہ آپ کا اور پارٹی کا فیصلہ ہے، مگر میرے خیال میں محترمہ کی شہادت کے بعد پارٹی کمزور پڑگئی ہے۔‘‘ وہ بتاتے ہیں کہ انکی زرداری صاحب سے کئی دلچسپ ملاقاتیں رہیں مگر زیادہ تر جیل یا عدالتوں میں۔

مظہر عباس بتاتے ہیں کہ آصف زرداری کے ساتھ اس انٹرویو کے دوران بھی میرا پہلا سوال یہی تھا۔ ’’کیا میں ملک کے آئندہ سربراہ کا انٹرویو کر رہا ہوں‘‘ جواب ’’جو بھی بنے گا وہ جیالا ہی ہو گا‘‘ ۔سول، ملٹری تعلقات کے حوالے سے کئی چونکا دینے والے واقعات بھی اس کتاب میں موجود ہیں۔ بقول فرحت اللہ بابر۔ ’’زرداری صاحب نے سویلین بالادستی قائم اور مضبوط کرنے کے بعض مواقع ضائع کردیئے مگر وہ کبھی اپنے ذہن اور سینے میں جو سوچ رکھتے ہیں وقت سے پہلے نہ کسی سے شیئر کرتے ہیں نہ ظاہر کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے جنرل پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے سے انکار کردیا تھا اور یہ کام ’میاں صاحب‘ پر چھوڑ دیا کہ جب آپ وزیر اعظم بنیں تو کوشش کر لیجئے گا۔

فرحت اللہ بابر لکھتے ہیں کہ ’’جنرل مشرف کو صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ بھی انہوں نے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے رائے لے کر کیا کہ کہیں ان کو یا فوج کو اعتراض نہ ہو۔ پھر اُن کو ایک محفوظ راستہ بھی دیا۔ تاہم انہوں نے کیانی صاحب کی اِ س رائے پر کوئی رائے نہیں دی کہ مشرف کی جگہ پارٹی آفتاب شعبان میرانی کو صدر بنا سکتی ہے۔ مگر وہ سمجھ گئے کہ فوج کی اُن کے بارے میں کیا سوچ ہے۔ ایبٹ آباد، میمو گیٹ اور ریمنڈ ڈیوس یہ تینوں اہم ترین واقعات ہیں جواِن گنت سوالات کو جنم دیتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم آج تک دہشت گردی پہ قابو نہیں پا سکے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے دعوے تو بہت مگر یہ اب ہماری جڑوں میں بیٹھ گئی ہے۔ اس پر غور کریں کہ ’رمزی یوسف سے لے کر اسامہ بن لادن تک لمبی فہرست ہے ایک ایک کا جائزہ لے لیں کہ ہم کتنی سنگین غلطیاں کرتے آئے ہیں۔

مظہر عباس لکھتے ہیں کہ رہ گئی بات سول ملٹری تعلقات کی تو یہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی نظر میں تو آئیڈل ہیں لیکن مجھے مستقبل میں مریم نواز بمتی وزیر اعظم نظر نہیں آتیں۔ اب اگر سوچ بدل جائے تو پتا نہیں ورنہ فرحت اللہ بابر کی کتاب میں بے نظیر بھٹو شہید کے حوالے سے ایک واقعہ درج ہے، اسے پڑھ لیں تو اپ کو سمجھ آ جائے گی کہ مریم نواز اگلی وزیراعظم کیوں نہیں بن سکتیں۔

Back to top button