افغانستان کی جگہ بلوچستان پوست کی کاشت کا نیا مرکز کیسے بنا؟

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے پوست کی کاشت پر سخت پابندی کے بعد عالمی منشیات فروشوں نے اپنی مکروہ سرگرمیوں کا رخ بلوچستان کی طرف موڑ لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی کاشتکاروں کو افغان ڈرگ ڈیلرز کی جانب سے بھاری رقوم اور پیداوار کی پیشگی ادائیگیوں کی پرکشش پیشکشیں ملنے لگی ہیں، جس کے باعث صوبے میں پوست کی کاشت میں غیر معمولی اور تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
ناقدین کے مطابق بلوچستان میں پوست کی کاشت میں غیر معمولی اضافہ اس بات کا مظہر ہے کہ مقامی کاشتکار افغانی ڈیلرز کی جانب سے دی جانے والی بھاری رقوم اور پیشگی ادائیگیوں کے مالی جال میں تیزی سے جکڑتے جا رہے ہیں۔ مالی مشکلات، روزگار کے محدود مواقع، اور زرعی معیشت میں حکومتی عدم دلچسپی نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف صوبے کی قانونی معیشت اور روایتی فصلوں کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ منشیات کی معیشت کے فروغ، سرحد پار سمگلنگ نیٹ ورکس کے پھیلاؤ، اور ریاستی اداروں کی عمل داری پر بھی سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بلوچستان بین الاقوامی منشیات کی منڈی کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے کیونکہ طالبان نے افغانستان بھر میں پوست کی کاشت پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے پابندی کے بعد پوست کی پیداوار بہت زیادہ متاثر ہوئی جس کی وجہ سے اب اس کاروبار سے وابستہ ڈیلرز، اس مکروہ کام کے لیے بڑے پیمانے پر بلوچستان کا رُخ کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق بلوچستان میں پوست کی کاشت میں اضافے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کاشت میں منافع بہت زیادہ ہے۔ ’بلوچستان میں بعض علاقوں میں تو لوگوں نے اپنی اراضی کے گرد بڑی بڑی چار دیواری کروا کر یہ کام شروع کر دیا تاکہ وہ حکام کی نظروں میں نہ آ سکیں۔‘
صوبے میں بڑھتی ہوئی پوست کی کاشت نے صوبائی حکومت کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جس کے بعد بلوچستان حکومت نے پوست کی کاشت میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ صوبائی حکام کے مطابق پاکستان کو حاصل ’پوست سے پاک ملک کا سٹیٹس برقرار رکھا جائے گا اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، صوبائی حکومت پوست کی کاشت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف ناصرف ایکشن لے رہی ہے اور پوست کی فصلوں کو تباہ کر رہی ہے بلکہ اس ضمن میں قانون سازی بھی زیر غور ہے جس کے تحت ایسے افراد کی زمینیں بحق سرکار ضبط کر لی جائیں گی جو پوست کی کاشت کے لیے زمینیں فراہم کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے مطابق صرف 2025 کے ابتدائی آٹھ ماہ میں ریکارڈ 36109 ایکڑ پر پوست کی کاشت کو تلف کیا جا چکا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان کے دعوےپر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رواں برس میں اتنی بڑی مقدار میں پوست کی کاشت کو تلف کرنے سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں بلوچستان میں پوست کی کاشت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ محض وہ اعداد و شمار ہیں جو حکومت کے علم میں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں بلوچستان زیادہ تر ان اضلاع میں پوست کاشت کی جاتی تھی جن اضلاع کی سرحدیں براہ راست افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں تاہم اس سال سرحد سے بہت دور کے اضلاغ میں بھی پوست کی کاشت کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے بعد قلعہ عبداللہ، چمن، پشین، ژوب، قلعہ سیف اللہ، چاغی اور کوہلو میں ہزاروں ایکڑ پر کاشت پوست کو تلف کیا گیا ہے۔
بلاول بھٹو اور مریم نواز کے مابین جنگ چلتی کیوں رہے گی ؟
خیال رہے کہ افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی سے قبل دنیا بھر میں استعمال ہونے والی 80 فیصد افیون کی پیداوار افغانستان میں ہوتی تھی۔ تاہم پابندی کے بعد افغانستان میں افیون کی پیداوار 95 فیصد تک کم ہو گئی ہے لیکن پیداوار میں کمی اور طلب میں اضافے کی وجہ سے افیون کی قیمت میں 10 گُنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یو این ڈی سی یعنی یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگز اینڈ کرائم کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان اور اس کے کچھ پڑوسی ممالک میں ہیروئن کی قیمت میں بھی تین گُنا اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق افیون اور ہیروئن کی مانگ اور قیمت میں اضافے کی وجہ سے سخت قانونی کارروائی کے خدشات کے باوجود بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کاشتکار پوست کی کاشت کا رسک لے رہے ہیں۔ سینیئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کے بقول بلوچستان کے چند سرحدی اضلاع میں پوست کی کاشت کا آغاز 15، 20 سال پہلے ہوا تھا تاہم افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی کی وجہ سے اس کی طلب اور قیمت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے کاشتکار اپنے باغات کو کاٹ کر بڑے پیمانے پر پوست کاشت کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ طلب بڑھنے کے بعد پوست کسی بھی دوسری فصل کے مقابلے میں بہت زیادہ منافع بخش فصل بن چکی ہے اسی لئے غریب کاشتکار دوسری فصلوں کو چھوڑ کر اس کی کاشت کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔‘
