فیض حمید نے عمران کی خاطر چیف الیکشن کمشنر کو کیسے دھمکایا؟

حال ہی میں کورٹ مارشل کے بعد عمر قید کی سزا پانے والے فیض حمید بارے یہ تاثر عام ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں وزیر اعظم عمران خان کے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ریڈ لائن کراس کی۔ تاہم بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ فیض حمید نے عمران خان کے خلاف جاری فارن فنڈنگ کیس ختم کرانے کے لیے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر غیر معمولی دباؤ ڈالا اور ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے، لیکن تمام تر دباؤ، لالچ اور دھمکیوں کے باوجود چیف الیکشن کمشنر نے یہ کیس ختم کرنے سے صاف انکار کر دیا اور ڈٹے رہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران فارن فنڈنگ کیس ان کے لیے سب سے بڑا سیاسی خطرہ بن چکا تھا۔ اسی خوف کے تحت انہوں نے کیس ختم کرانے کے لیے ہر ممکن حربہ آزمایا اور اپنے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں کو بار بار چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے پاس بھیجا۔ ان پر دباؤ اس قدر شدید تھا کہ سفیر بنانے کی پیشکش سے لے کر اہم ریاستی عہدوں کی آفرز تک دی گئیں، مگر چیف الیکشن کمشنر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکاری رہے۔ ابتدا میں عمران خان نے اپنے قریبی ساتھی اور اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو چیف الیکشن کمشنر کے پاس بھیجا، مگر سکندر سلطان راجہ نے واضح الفاظ میں کسی تعاون سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں عمران نے شبلی فراز کو یہ ذمہ داری سونپی، لیکن وہاں بھی کوشش ناکام رہی۔ اس کے بعد اسد عمر کو میدان میں اتارا گیا، تاہم نتیجہ وہی رہا اور فارن فنڈنگ کیس اپنی جگہ قائم رہا۔ ان ناکامیوں کے بعد عمران نے اپنی ایک نسبتاً نرم گفتار اور بااثر شخصیت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور اس وقت کے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو یہ ذمہ داری سونپی، جو فیض حمید کے بھی قریب سمجھے جاتے تھے۔
ذرائع کے مطابق جب سنجرانی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے لیے تیار ہوئے تو ویک اینڈ تھا اور سکندر سلطان راجہ اسلام آباد کے بجائے لاہور میں تھے۔ عمران خان نے وقت ضائع نہ کرنے کی ہدایت کی اور سنجرانی کو لاہور جا کر ملاقات کرنے کا کہا، کیونکہ تب فارن فنڈنگ کیس فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا تھا اور سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ آنے والی تھی۔ عمران خان کی بے چینی کا یہ عالم تھا کہ موٹروے پر سفر کے دوران وزیر اعظم ہاؤس سے صادق سنجرانی کو بار بار فون کر کے پوچھا جاتا رہا کہ وہ لاہور پہنچے یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں ہونے والی اس ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر کو ہر طرح کے لالچ دیے گئے، جن میں اہم آئینی و سرکاری عہدوں کے علاوہ کینیڈا میں سفیر لگانے کی پیشکش بھی شامل تھی، مگر سکندر سلطان راجہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ مکمل طور پر میرٹ پر ہوگا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے اس مؤقف پر عمل کر کے بھی دکھایا۔ یہ تمام کوششیں ایسے وقت میں ہو رہی تھیں جب عمران خان وزیر اعظم اور فیض حمید بطور ڈی جی آئی ایس آئی نہایت طاقتور عہدے پر فائز تھے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو کس سطح کے دباؤ اور ممکنہ خطرات کا سامنا تھا۔ جب عمران خان کی تمام ذاتی اور سیاسی کوششیں ناکام ہو گئیں تو انہوں نے آخری اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے یہ معاملہ براہ راست فیض حمید کے سپرد کر دیا۔
فیض حمید نے ایک طرف چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر دباؤ بڑھایا اور دوسری طرف فارن فنڈنگ کیس کے درخواست گزار اکبر ایس بابر کو بھی مختلف طریقوں سے دبانے کی کوشش کی۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد، جو چیف الیکشن کمشنر کے قریبی دوست اور ان واقعات کے عینی شاہد ہیں، بتاتے ہیں کہ فیض حمید نے سکندر سلطان راجہ پر شدید دباؤ ڈالا کہ وہ کیس کی کارروائی آگے نہ بڑھائیں اور اسے ختم کر دیں، مگر ہر بار جواب نفی میں ملا۔
کنور دلشاد کے مطابق جب دباؤ کارگر ثابت نہ ہوا تو فیض حمید نے چیف الیکشن کمشنر سے یہ اصرار کیا کہ وہ عمران خان سے ایک بار اکیلے میں ملاقات کر لیں۔ اس پر سکندر سلطان راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ملاقات کرنی ہے تو الیکشن کمیشن کے دفتر میں دیگر اراکین کی موجودگی میں ہو گی۔
تاہم فیض حمید کا اصرار تھا کہ ملاقات خفیہ ہونی چاہیے۔ پھر یہ تجویز دی گئی کہ سیاہ شیشوں والی گاڑی میں انہیں کسی سیف ہاؤس لے جایا جائے جہاں عمران ان سے ملاقات کریں گے، مگر چیف الیکشن کمشنر نے اس پیشکش کو بھی مسترد کر دیا۔ اسی انکار کے بعد عمران خان کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف سخت اور نازیبا بیانات کا سلسلہ شروع ہوا اور ساتھ ہی پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم نے ان کے خلاف کردار کشی کی منظم مہم شروع کر دی، جو مختلف شکلوں میں آج تک جاری ہے۔ کنور دلشاد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے پہلے عہدے پر فائز سردار محمد رضا کی ریٹائرمنٹ سے کچھ دن پہلے بھی توقع کی جا رہی تھی کہ وہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا دیں گے، مگر یہ فیصلہ بھی فیض حمید کے دباؤ کے باعث مؤخر ہوا۔
فیض حمید کے بعد عمران اور ثاقب نثار کا احتساب کیوں لازمی ہے؟
فارن فنڈنگ کیس کے مرکزی درخواست گزار اکبر ایس بابر پر بھی پیچھے ہٹنے کے لیے فیض حمید کی جانب سے آخری حد تک دباؤ ڈالا گیا۔ انہیں قتل کی دھمکیوں سمیت ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دو مرتبہ فیض حمید کے قریبی افراد نے ان سے ملاقات کی اور ایک بار خود فیض نے براہ راست ملاقات کر کے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ فارن فنڈنگ کیس واپس لینا ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ جب اکبر ایس بابر نے انکار کیا تو ان کے خلاف انتقامی کاروائیاں کی گئیں۔ ان کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے علاوہ ان کے گھر کے باہر فائرنگ بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ انہیں سینیٹر بنانے اور وزیر بنانے جیسی پرکشش آفرز بھی دی گئیں، مگر انہوں نے تمام تر دباؤ اور لالچ کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔
یہ تمام واقعات اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس عمران خان کے لیے کس قدر خوف اور پریشانی کا باعث بن چکا تھا۔ اس کیس کا فیصلہ تو عمران خان کے خلاف ہو چکا ہے، لیکن اس پر مکمل عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے۔
