عمران نے بینائی کے معاملے پر لوگوں کو ماموں کیسے بنایا؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ تازہ ترین میڈیکل رپورٹس کے مطابق عمران خان کی بینائی کا مسئلہ اتنا سنگین نہیں تھا جتنا اسے بنا کر پیش کیا گیا، تاہم اس کے باوجود تحریک انصاف اس معاملے پر حکومت کو سخت دباؤ میں لانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ انکے مطابق عمران خان کے جیل جانے کے بعد گزشتہ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت اس قدر واضح دفاعی پوزیشن پر نظر آئی۔ ان کے بقول عمران خان کی صحت بارے خبروں نے حکومت کو وضاحتیں دینے اور عدالتی پیشیوں کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا، تاہم یہ اور بات کہ اب ان کی میڈیکل رپورٹ سامنے آ گئی ہیں جن میں ان کی بیماری اتنی سنگین نظر نہیں آتی جتنی کہ بتائی جا رہی تھی۔

 

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عمران خان کی بیماری کی خبر سامنے آتے ہی انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ایک سزا یافتہ قیدی کے بھی بنیادی حقوق ہوتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا موقف تھا کہ عمران خان نہ صرف عالمی شہرت یافتہ سابق کرکٹر رہے بلکہ پاکستان کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں، اس لیے ان کی صحت کے معاملے میں غیر معمولی حساسیت برتی جانی چاہیے تھی۔

 

اسکے بعد عمران نے سپریم کورٹ میں اپنے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے مؤقف اختیار کیا کہ اڈیالہ جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ کو وہ بارہا آگاہ کرتے رہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہو رہی ہے اور انہیں ماہر امراض چشم سے معائنہ درکار ہے، مگر درخواست کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔ بعد ازاں جیل حکام کی تبدیلی کے بعد تین مرتبہ معائنہ کروایا گیا اور پھر 24 اور 25 جنوری کی درمیانی شب انہیں اسلام آباد کے پمز اسپتال منتقل کیا گیا کیونکہ جیل میں علاج ناکافی سمجھا گیا۔

 

اسی دوران سپریم کورٹ نے ایک پٹیشن پر سلمان صفدر کو ’فرینڈ آف دی کورٹ‘ مقرر کرتے ہوئے اڈیالہ جیل جا کر عمران کی صحت کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تین گھنٹے عمران کے ساتھ گزار کر سات صفحات پر مبنی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی 85 فیصد متاثر ہو چکی ہے اور وہ نابینا بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم اب انکی میڈیکل رپورٹس سامنے آ گئی ہیں۔

 

اس میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان کے صحت کا معائنہ کرنے کے لیے 2 رکنی میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق 15 فروری کو ماہر امراضِ چشم کے ایک میڈیکل بورڈ نے عمران خان کی انکھوں کا معائنہ کیا، میڈیکل بورڈ میں الشفاء ٹرسٹ آئی اسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی عینک کے بغیر 66 فیصد تک کام کر رہی ہے جب کہ ان کی بائیں آنکھ بالکل ٹھیک ہے۔  رپورٹ میں کہا گیا کہ دائیں آنکھ کے معائنے میں پردہ بصارت پر سوزش کے آثار پائے گئے ہیں، دائیں آنکھ کی سوجن میں کمی آئی ہے، دائیں آنکھ کی موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 ہوگئی جو بہتری کی علامت ہے۔

 

نصرت جاوید کے مطابق یہ میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد عمران خان جھوٹے پڑ گئے ہیں اور ان کے سیاسی مخالفین ان پر تنقید کر رہے ہیں ۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں اقتدار اور انتقام کا یہ دائرہ نیا نہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہر حکومت نے سیاسی مخالفین کے خلاف سخت رویہ اپنایا اور اقتدار میں واپسی کے باوجود مثبت روایتیں قائم کرنے میں ناکام رہی۔ وہ یہ پیش گوئی بھی کرتے ہیں کہ اگر تحریک انصاف دوبارہ اقتدار میں آئی تو بعید نہیں کہ وہ بھی اسی روش کو جاری رکھے۔ تحریک انصاف کی احتجاجی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے نصرت جاوید کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی پیش رفت کے بعد حکومت ممکنہ طور پر ڈیمج کنٹرول کی کوشش کر رہی تھی اور تحریک انصاف کو وقتی مہلت دینی چاہیے تھی، تاہم پارلیمان اور خیبر پختون خوا ہاؤس میں دھرنے دینے کا فیصلہ کر لیا گیا جو ابھی جاری ہیں۔

پنجاب میں پی ٹی آئی صرف سوشل میڈیا تک محدود کیوں؟

سینیئر صحافی کے مطابق ہر منگل کو عمران کی بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرتی ہیں اور سوشل میڈیا پر اس کی براہِ راست کوریج کی جاتی ہے، مگر نصرت جاوید کے مطابق اس احتجاج میں وہ بڑا عوامی ہجوم دیکھنے میں نہیں آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ ان کے خیال میں نومبر 2024ء میں ریاستی طاقت کے استعمال کے بعد عوام میں خوف کا عنصر بڑھ چکا ہے، جس کے باعث بڑا اجتماع ممکن نہیں رہا۔ نصرت جاوید کی رائے میں موجودہ صورت حال میں فوری تصادم کے بجائے توجہ عمران خان کے مؤثر علاج اور قانونی حقوق پر مرکوز رکھنی چاہیے۔ ان کے مطابق بیک ڈور مذاکرات ہی اس تعطل کو ختم کرنے کا عملی راستہ بن سکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اگرچہ عمران خان کے دعوے کے مطابق ان کی بینائی کا معاملہ اتنا سنگین ثابت نہیں ہوا جتنا ابتدا میں تاثر دیا گیا، لیکن سیاسی طور پر یہ معاملہ حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

 

Back to top button