عمران نے افغان طالبان کو ہیرو بنا کر پاکستان کے ساتھ ظلم کیسے کیا ؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ عمران خان نے پاکستان کے عوام کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ برسوں محنت کر کے انکے دلوں میں ان افغان طالبان کے لیے محبت بلکہ عقیدت پیدا کر دی ہے حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو احسان فراموشی کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے اپنے سابقہ میزبان پاکستان کو تباہ ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی لیے پاکستانی طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ آپ نے کبھی عمران خان کے منہ سے پنجابی‘ سرائیکی‘ بلوچ‘ سندھی‘ کشمیری‘ بلتی یا دیگر اقوام کی تعریف نہیں سنی ہوگی۔ وہ ایک ہی قوم کی تعریف کرتے ہیں جو انہیں غیرت مند اور بہادر لگتی ہے اور وہ ہے افغان‘ بلکہ طالبان۔ ان کے نزدیک پاکستان میں رہنے والی باقی اقوام بہادر نہیں بلکہ بزدل اور غلام ہیں کیوں کہ وہ پُرامن رہنا چاہتی ہیں اور لڑائی جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتیں۔ عمران خان کے نزدیک پاکستانی نہیں بلکہ صرف افغان طالبان غیرت مند ہیں جن کی دہشت سے امریکی افواج بھی ڈرتے کر بھاگ گئیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پورے ملک کی یہ پنجابی‘ بلوچ‘ سندھی‘ سرائیکی‘ کشمیری‘ بلتی اور پشتون قومیں دھیرے دھیرے یہ سوچنے پر مجبور ہو چکی ہیں کہ واقعی یار‘ ہم اتنے بہادر کیوں نہیں جتنے افغان طالبان ہیں‘ اور جو عمران کے رول ماڈل ہیں۔
گنڈا پور پاکستان مخالف افغان طالبان سے یاری ڈالنے پر بضد کیوں؟
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ اب پوری قوم عمران خان کے پیچھے لگ کر افغان طالبان کی طرح بہادر بننا چاہتی ہے جو جنگوں میں برباد ہو گئے۔ اب تو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ براہِ راست افغانستان سے مذاکرات کریں گے۔ خدانخواستہ کیا خیبرپختونخوا ایک الگ ریاست بن گئی ہے جس کا اسلام آباد سے کوئی تعلق نہیں رہا اور اس کا مرکز اب کابل ہو گا؟ کیا علی امین گنڈا پورا کا سٹیٹس وزیراعلیٰ سے بلند ہو کر وزیراعظم کا ہوگیا ہے؟ ان کا اسلام آباد سے اب کچھ لینا دینا نہیں رہا؟ یہ کتنی خطرناک بات کی گئی ہے جس کا شاید کسی کو احساس نہیں۔ مطلب ذہنی طور پر پاکستانیوں کو تیار کیا جا رہا ہے کہ آپ خیبرپختونخوا کو خود مختار سمجھیں جو اَب پوری دنیا کے ساتھ خود معاملات طے کرے گا؟ سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ تاریخ میں سمجھدار قومیں دوسری قوموں کے عروج و زوال سے سبق سیکھتی ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ وہ ایسی غلطیاں نہیں دہرائیں گی جو دوسری قوموں کے زوال کی وجہ بنیں۔ ہمارے ہمسایہ ملک میں اتنا خون خرابہ ہوا‘ لاکھوں افغان بچے یتیم ہوئے‘ عورتیں بیوہ ہوئیں‘ لاکھوں لوگ مارے گئے‘ تو ہم نے ان سے یہی سبق سیکھا کہ اب طالبان کو اپنی پوری قوم کا رول ماڈل بنا کر پیش کر دیا؟ ہم افغانوں کی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے اُلٹا ان کی غلطیوں کو گلوریفائی کر رہے ہیں جس سے پاکستان میں انتشار پھیل رہا ہے۔ کسی نے ان افغانوں سے پوچھا ہے کہ وہ بہادر تھے یا مظلوم‘ جن پر دو سپر پاورز نے خطرناک ترین اسلحہ آزمایا۔ افغانستان میں تب روٹی مہنگی اور لہو سستا تھا۔ کیا اپنا گھر چھوڑ کر کسی اجنبی سرزمین پر رہنا آسان ہے؟
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ عمران خان کے ہیروز طالبان نے افغانستان کی نوجوان نسل کا جینا حرام کر دیا۔ ان طالبان کو ہماری فوج کی حمایت حاصل تھی‘ جس کا اندازہ یہاں سے لگا لیں کہ جس روز افغان طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا اس سے اگلے دن جنرل (ر) فیض حمید وہاں ہوٹل میں چائے پیتے اور یہ کہتے دکھائی دیے کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔ عمران خان نے بھی اس روز افغان طالبان کو اپنا ہیرو قرار دیا تھا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس روز پڑھے لکھے عام افغان امریکی فوج کی روانگی کے بعد وہاں سے بھاگ رہے تھے‘ ٹی وی فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ لوگ جہازوں سے لٹک کر گر رہے تھے‘ کیا یہ ان افغان طالبان کی بہادری‘ غیرت اور مقبولیت تھی کہ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنا ہی ملک چھوڑ کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے؟ جب کابل سے پڑھا لکھا افغان طبقہ جان بچا کر بھاگ رہا تھا تو ہمارے ہاں جشن منائے جارہے تھے کہ دیکھو! ہمارے طالبان نے حقیقی آزادی حاصل کر لی ہے۔ لیکن یہ آزادی مل جانے کے باوجود لاکھوں افغانوں نے پاکستان میں رہنا پسند کیا‘ وہ اب بھی عمران کے پسندیدہ طالبان کی حکومت کے زیر اثر رہنے کو تیار نہیں۔ عمران یا طالبان کے حامیوں کو افغانوں کی بدقسمتی‘ خون خرابہ‘ ہجرت‘ دنیا بھر میں دربدری اور مشکلات نظر نہیں آتیں۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ جب سے علی امین گنڈا پور نے افغان طالبان سے براہِ راست رابطوں اور بات چیت کا اعلان کیا ہے‘ تب سے مجھے میجر (ر) عامر کی بات یاد آتی ہے کہ بہتر ہے خیبرپختونخوا میں ریفرنڈم کرا لیں۔ بہتر ہے کہ ہم پختونوں سے رائے لے لیں‘ کہ ان میں سے کتنے لوگ ڈیورنڈ لائن ختم کر کے افغانستان کا شہری بننا چاہتے ہیں؟ کتنے لوگ افغانستان کا پاسپورٹ یا شناختی کارڈ بنوانا چاہتے ہیں؟ کتنے لوگ اپنے بچوں کی طالبان حکومت میں پرورش اور تعلیم چاہتے ہیں۔ سب پتا چل جائے گا۔ میجر عامر کی بات میں وزن ہے کیونکہ آج تک شاید ہی آپ نے سنا ہو کہ کسی پاکستانی نے افغان اہلکار کو پیسے دے کر افغانستان کا پاسپورٹ یا شناختی کارڈ لینے کی کوشش کی یا افغان پاسپورٹ بنوا کر بیرونِ ملک جانے کی کوشش کی ہو؟ ہمیشہ سے جنگ زدہ افغان ہی پاکستان کے پاسپورٹ کے حصول کیلئے نادرا افسران کو رشوت دیتے آئے ہیں اور اکثر ان سکینڈلز کی رپورٹنگ ہوتی رہتی ہے۔ لیکن پھر بھی آپ دیکھ لیں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے اکثریتی ہجوم کے ہیروز افغان طالبان ہیں جن کی دہشت سے افغان خود اپنے بچوں کو لے کر پاکستان اور یورپ جانا چاہتے ہیں لیکن ہمارے کچھ پاکستانی سمجھتے ہیں کہ اصل ہیروز تو طالبان ہیں لہٰذا وہ اب افغانستان جانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں پہلا نعرہ علی امین گنڈا پور نے مار دیا ہے۔ دیکھتے جائیں یہ کیا نیا گل کھلائیں گے کیوں کہ جن افغان طالبان کو عمران اپنا ہیروز مانتے ہیں وہ پاکستان اور افغانستان کے مابین ڈیورنڈ لائن کو سرحد کو نہیں مانتے۔ وہ کابل سے اٹک تک حکمرانی چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا علی امین گنڈاپور ان معاملات پر بھی کابل کے طالبان سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں؟
