نومبر 2024 میں عمران کی ممکنہ رہائی کیسے ناکام ہوئی؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کو دو برس سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، مگر ان کی رہائی سے متعلق افواہوں، امیدوں اور دعوؤں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ہر چند ہفتوں بعد عمران خان کی رہائی بارے ایک نیا بیانیہ ابھرتا ہے، جو عوامی جذبات کو تو گرما دیتا ہے مگر زمینی حقیقت میں کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ تاہم پارٹی کارکنان اور قیادت کے اندر ایک سوال مسلسل گردش کرتا نظر آتا ہے کہ عمران خان کب رہا ہوں گے، اور اگر نہ ہوئے تو تحریکِ انصاف کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا؟
اسی تناظر میں حال ہی میں سینیٹر مشاہد حسین سید کے انکشاف نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے مطابق نومبر 2024 میں عالمی اور ملکی طاقتوں کے بیچ ایک خاموش مفاہمتی عمل جاری تھا، جس کے تحت مبینہ طور پر 5 نومبر کو ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد 10 نومبر کو اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے پی ٹی آئی قیادت سے مذاکرات کا آغاز کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 22 نومبر کو عمران خان کی رہائی طے پا چکی تھی، مگر عمران خان کے کچھ قریبی ساتھیوں کے غیر سیاسی مشوروں اور غیر حقیقت پسندانہ امیدوں نے یہ موقع بھی ضائع کر دیا۔ ان غیر سیاسی پارٹی رہنماؤں نے عمران خان کو یقین دلایا تھا کہ 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج میں سامنے آنے والا عوامی دباؤ سب کچھ بدل دے گا اور اسٹیبلشمنٹ نہ صرف حکومت کو گھر بھجوانے پر مجبور ہو جائے گی بلکہ عوامی حمایت کی وجہ سے دوبارہ اقتدار بھی پی ٹی آئی کے حوالے کر دیا جائے گا۔ تاہم اس احتجاج نے بانی پی ٹی آئی کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا جس کے بعد نتیجہ بھی تمام دعوؤں کے برعکس نکلا، اور عمران خان ایک بار پھر قید کی کوٹھڑی میں مزید محدود ہو گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی سیاسی مشکلات کا اصل سبب صرف بیرونی دباؤ نہیں بلکہ اندرونی غلط فہمیاں اور قیادت کے گرد موجود غیر سنجیدہ مشیران بھی ہیں، جو ہر موقع کو جذباتی نعرے بازی میں ضائع کر دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عمران خان کی رہائی سے زیادہ سوال یہ بن گیا ہے کہ اگر وہ رہا بھی ہو جائیں، تو کیا ان کے اردگرد موجود یہی "نادان دوست” پارٹی کو کسی سنجیدہ سیاسی حکمتِ عملی کی طرف کیسے لے جانے دینگے۔ مشاہد حسین سید کے مطابق نومبر 2024 میں ہونے والے مذاکرات کی صورت میں عمران خان کی رہائی یقینی تھی تاہم عمران خان اپنے نادان دوستوں کی وجہ سے اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔
تاہم سینئر صحافی منیب فاروق کا مشاہد حسین سید کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مشاہد حسین صاحب تو یہ بھی فرماتے تھے کہ ٹرمپ آئے گا اور ایک فون کال آئے گی اور سب سیدھے ہو جائیں گے۔ نہ کال آئی نہ ہی کوئی ڈیمانڈ بلکہ ٹرمپ نے آرمی چیف اور شہباز شریف کو اپنا بہترین دوست قرار دے دیا۔ آج بھی مشاہد حیسن سید نے ایک کہانی پیش کی ہے۔ سننے والوں کے لئے کہانی اچھی بنائی ہے لیکن اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے آنے سے پہلے اور بعد میں عمران خان کے حوالے سے ریاستی پالیسی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ نہ کسی نے مذاکرات کئے نہ کوئی آفر ہوئی۔ یہ کہانی ان تمام کہانیوں میں سے ایک ہے جس میں عمران خان کو آفرز کی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔منیب فاروق نے مزید لکھا کہ عمران خان کو آج تک صرف ٹرک کی بتی ہی دکھائی گئی ہے اور ظلم یہ ہے کہ وہ بھی چند خود ساختہ پیغام رسانوں نے دکھائی ہے۔ مستقبل کا پتا نہیں لیکن آج بھی زمینی حقائق وہی ہیں جو پہلے تھے۔ مشاہد حسین سید غلط بیانی کر رہے ہیں۔ عمران خان کی رہائی کا کوئی بھی منصوبہ عسکری قیادت اور حکومت کے زیر غور نہیں رہا۔
عثمان بزدار سے سہیل آفریدی تک، بشری بی بی اصل فیصلہ ساز
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر کو بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، جس کے بعد مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔
واضح رہے کہ عمران خان کو 5 اگست 2023 کو پہلی بار حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے خلاف درجنوں مقدمات درج ہیں، جنہیں وہ سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔ جنوری میں انہیں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ سزا سنائی گئی، جس کے تحت عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ کو 7 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ عمران خان ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسلسل مسترد کرتے آئے ہیں۔تحریکِ انصاف کی جانب سے بھی بارہا یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک منظم سازش کے تحت سیاست سے باہر رکھا جا رہا ہے۔ پارٹی ترجمانوں کے مطابق عمران خان کو قانونی نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
