ایران کے بیلسٹک میزائلوں نے اسرائیل کے چھکےکیسے چھڑائے؟

برسوں سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے سمجھے جانے والے ایران اور اسرائیل کے یکایک جنگ بندی پر آمادہ ہونے کے بعد سیاسی و عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی کیوں اور کس کے کہنے پر ہوئی؟ اور سب سے بڑھ کریہ کہ امریکہ نے اس معاملے میں مرکزی کردار کیوں ادا کیا؟ تاہم اب ایران کے قطر میں امریکی ائیر ییس پر میزائل حملے کے بعد امریکہ کی جانب سے جواب دینے کی بجائے سیز فائر کروانے کی بنیادی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایرانی میزائل حملوں سے ہونے والے مسلسل نقصان کی وجہ سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو شدید دباؤمیں آ چکے تھے کیونکہ اسرائیلی شہر تل ابیب کی 30سے 35فیصد عمارتیں ایرانی میزائلوں کی وجہ سے تباہ ہو چکی تھیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید نقصان سے بچنے کیلئے صدر ٹرمپ کے ترلے کئے جس کے بعد ٹرمپ نے ایرانی حملوں کے باوجود قطر کے ذریعے ایران سے معاملات طے کر کے جنگ بندی کا اعلان کر دیا
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل جنگ بندی کیلۓ بے تاب تھا کیونکہ ایران کے خطرناک بیلسٹک میزائلوں نے اسرائیل کی اکڑ صرف بارہ دن میں ہی نکال دی تھی۔ مبصرین کے مطابق اس بات کی پہلے ہی نشاندہی کی جا چکی تھی کہ صہیونی ریاست دو ہفتوں سے زیادہ ایرانی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ تاہم ایران نے ان بارہ دنوں میں جو اسرائیل کا حشر نشر کیا، وہ غزہ کی تباہ کن صورتحال کی مشابہت رکھتا ہے۔ بتایا جارہا ہے ایرانی میزائلوں سے سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کے تجارتی شہر حیلہ کو پہنچا ہے۔ ایرانی حملوں سے یہاں موجود اسرائیل کے فوجی مراکز سمیت اقتصادی پروجیکٹس اور کئی بلند عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں۔ جبکہ ایرانی حملوں سے دوسری سب سے بڑی تباہی صہیونی درالحکومت تل ابیب میں دیکھنے کو ملی۔ سیز فائر کے اعلان سے محض چند گھنٹوں قبل ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے اس علاقے میں بڑے پیمانے میں تباہی مچائی، اسرائیلی حکام کے مطابق ایران سے جنگ کے دوران 28 اسرائیلی شہری ہلاک اور 3 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، ایران نے 550 بیلسٹک میزائل اور ایک ہزار کے قریب ڈرونز داغے۔ایمبولینس سروس کے مطابق زخمیوں کے علاوہ 401 افراد کو شدید ذہنی دباؤ یا خوف و ہراس میں مبتلا ہونے پر طبی امداد فراہم کی گئی۔دوسری جانب، وزارت صحت کے مطابق، 12 روزہ جنگ کے دوران 3 ہزار 238 افراد کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا، کئی زخمی افراد کو دیگر ریسکیو اداروں نے ہسپتال پہنچایا یا وہ خود اپنے طور پر وہاں پہنچے۔اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے جنگ کے دوران تقریباً 550 بیلسٹک میزائل اور 1000 کے قریب ڈرونز اسرائیل پر داغے، جن میں سے زیادہ تر کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ اسرائیلی دفاعی سسٹم کی ناکامی اور مسلسل سامنے آنے والی تباہی کے بعد جہاں نیتن یاہو کے خلاف عوامی حلقوں سے آوازیں اٹھنے لگیں وہیں پارلیمان میں بھی اسرائیلی وزیر اعظم کو اپوزیشن و بعض حکومتی رہنماؤں نے کھری کھری سنا ڈالیں جس پر نیتن یاہو نے امریکہ کے پاؤں پکڑ کر ایران سے سیز فائر کی درخواست کی اور قطر کی اندرون خانہ کوششوں سے ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کی راہ ہموار ہو گئی۔
تاہم مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ سیز فائر ڈیل انتہائی کمزور ہے۔ یہ ایسی ڈیل ہے جس کی پہل نیتن یاہو نے کی کیونکہ اسرائیل جانتا ہے کہ اس کے پاس ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا کوئی توڑ موجود نہیں جبکہ ایران سے جنگ کے دوران امریکہ بھی ویسی مدد نہیں کر رہا ہے جیسی اسرائیلی حکومت خواہش کا اظہار کر رہی ہے۔ ان حالات میں نیتن یاہو نے سیز فائر میں ہی عافیت محسوس کی اور امریکہ اسرائیلی درخواست پر جنگ بندی کروانے میں کامیاب رہا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے ایرانی تنصیبات پر شدید حملوں کے باوجود تہران اب بھی میزائل صلاحیتوں کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تہران نے سیز فائر سے قبل دو دنوں میں اسرائیل پر 15 بھاری بیلسٹک میزائل داغے جس کا تصور اسرائیل نہیں کر رہا تھا۔ جس کے بعد اسرائیلی حکام جان گئے تھے کہ ایران کے 200 سے زائد میزائل لانچنگ پیڈ ز کوتباہ کرنے کے باوجود ایران کی جارحانہ صلاحیتوں میں کوئی کمینہیں ہوئی۔ ایران کے پاس اب بھی سیکڑوں فکسڈ اور موبائل لانچر ز موجود ہیں، جو اسے بار بار حملے کرنے میں بڑی لچک فراہم کرتے ہیں۔
ادھر اسرائیلی سیکورٹی ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کھلی جنگ میں مکمل طور پر شامل ہونے سے ہچکچاتی رہی اور اسرائیل پر کشیدگی کو روکنے کے لیے سیز فائر ڈیل کو ترجیح دیتی رہی جبکہ اسی دوران قطر میں امریکی ائیر بیس پر ہونے والے ایرانی حملے سے مچنے والی تباہی ٹرمپ کیلئے انتہائی حیران کن تھی کیونکہ اس حملے میں ایران نے جس میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا وہ امریکہ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ایران نے بشارت الفتح “ کے نام سے قطر میں امریکی اڈوں کے خلاف میزائل آپریشن میں سات الفتح ٹو میزائل داغے۔ اس کارروائی سے قبل ایران کی جانب سے امریکی بیس پر نچلے درجے کے سینکڑوں راکٹ چھوڑے گئے جس کو انٹرسیپٹ کرنے کیلئے انتہائی مہنگے میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔ تا ہم اس کے فوری بعد سات عدد الفتح ٹو میزائل یکے بعد دیگرے امریکی بیس پر گرتے گئے۔ جس سے امریکی ساز وسامان کو بھاری نقصان پہنچا۔ ایرانی حملے سے قطر میں العدید ایئر بیس میں موجود امریکی فوجی اہلکاروں کے گھر، کمانڈ اور مواصلاتی مراکز اور گولہ بارود کے ڈپو تباہ ہو گئے۔ جس کے بعد امریکہ نے ایران پر جوابی حملہ کرنے کی بجائے اسرائیلی درخواست پردونوں ممالک میں جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔
