پاسداران انقلاب نے ایران میں ریجیم چینج کا راستہ کیسے روکا؟

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ایران میں ریجیم چینج کا راستہ ہموار ہو جائے گا، تاہم پاسداران انقلاب کی جانب سے شدید مزاحمت اور جوابی ڈرون اور میزائل حملوں کی وجہ سے ایسا نہیں ہو پایا۔ شدید بیرونی دباؤ اور اندرونی بحران کے باوجود ایران میں حکومتی سیٹ اپ اپنی جگہ مضبوطی سے قائم ودائم ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ایران کا وہ پیچیدہ سیاسی و سکیورٹی ڈھانچہ ہے جو گزشتہ چار دہائیوں میں اس انداز سے تشکیل دیا گیا کہ اسے بیرونی حملوں یا اندرونی بغاوتوں کے باوجود آسانی سے گرایا نہ جا سکے۔ 1979 میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی ایرانی حکومت کو آج اپنے قیام کے بعد کے سب سے مشکل دور کا سامنا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حالیہ فضائی حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈرز مارے گئے جبکہ ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ توانائی، دفاعی تنصیبات اور مواصلاتی نظام سمیت کئی اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکہ اور اسرائیل نے کھل کر اعلان کیا ہے کہ ان کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے ایرانی عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس کے باوجود ایران کے حکمران اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے دو ہفتوں کے اندر ہی ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ انہوں نے ایرانی قوم کے نام اپنے پہلے پیغام میں امریکہ سے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں کو آگے بڑھائیں گے اور اسلامی جمہوریہ کے موجودہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔

ایران میں خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد قیادت کی تیز رفتار منتقلی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کا حکومتی نظام کسی ایک شخصیت کے گرد نہیں بلکہ اداروں کے ایک وسیع اور مضبوط نیٹ ورک پر قائم ہے۔

مبصرین اایران کے حکومتی ڈھانچے کو ایک ایسے نظام سے تشبیہ دیتے ہیں جو یونانی دیومالا کے عفریت ہائیڈرا کی طرح ہے۔ اس عفریت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر اس کا ایک سر کاٹ دیا جائے تو اس کی جگہ دوسرا سر پیدا ہو جاتا ہے۔ محققین کے مطابق ایران کا سیاسی نظام بھی کچھ اسی انداز میں تشکیل دیا گیا ہے۔ اگر قیادت کا ایک حصہ ختم بھی ہو جائے تو نظام کے دیگر ادارے فوری طور پر خلا کو پُر کر دیتے ہیں۔

اس نظام میں سخت کنٹرول رکھنے والے ریاستی ادارے، نظریاتی تربیت کا مضبوط نظام، حکمران طبقے کا باہمی اتحاد اور کمزور و منقسم اپوزیشن سب شامل ہیں۔ یہی عوامل اس نظام کو شدید جھٹکوں کے باوجود قائم رکھتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایران کا سیاسی نظام روایتی آمریت سے مختلف ہے۔ وہاں اقتدار کسی ایک شخص کے ہاتھ میں مرکوز نہیں ہوتا بلکہ مختلف اداروں اور مراکز کے درمیان تقسیم ہوتا ہے۔ ایران میں طاقت مذہبی قیادت، مسلح افواج، نیم فوجی اداروں اور معاشی نیٹ ورکس کے درمیان تقسیم ہے۔ ان اداروں میں ایک اہم ادارہ گارڈین کونسل بھی ہے جو پارلیمان کے بنائے گئے قوانین کو مسترد کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی اہلیت کا بھی فیصلہ کرتی ہے۔ اس طرح ریاستی نظام اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ کوئی ایک گروہ آسانی سے اقتدار کو چیلنج نہ کر سکے۔

ایران کے سکیورٹی ڈھانچے میں سب سے اہم کردار اسلامک ریولوشنری گارڈ کور یعنی پاسدارانِ انقلاب کا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف فوجی طاقت رکھتا ہے بلکہ سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ بھی رکھتا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای بھی جوانی میں اس فورس کا حصہ رہے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور خطے میں ایران کی علاقائی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کے زیر اثر رضاکار فورس بسیج ملیشیا بھی کام کرتی ہے جو داخلی سلامتی برقرار رکھنے اور احتجاجی تحریکوں کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ہر کمانڈر کے لیے تین درجے نیچے تک جانشین پہلے سے مقرر کیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی صورتحال میں قیادت کا خلا پیدا نہ ہو۔ ایران کے حکومتی نظام کو مضبوط رکھنے میں معاشی ڈھانچہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ریاست سے منسلک بڑی مذہبی اور فلاحی تنظیمیں جنہیں بنیادز کہا جاتا ہے معیشت کے بڑے حصے کو کنٹرول کرتی ہیں۔ یہ ادارے ہزاروں کمپنیوں کے مالک ہیں اور مختلف شعبوں میں کاروبار کرتے ہیں۔ اسی طرح پاسدارانِ انقلاب کے معاشی منصوبے اور کاروباری سرگرمیاں بھی حکمران اشرافیہ کے درمیان وفاداری کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

ایران کے سیاسی نظام کی ایک بڑی بنیاد نظریاتی بھی ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد مذہبی، تعلیمی اور ریاستی اداروں کا ایسا نیٹ ورک قائم کیا گیا جو اسلامی جمہوریہ کے نظریے کو مسلسل فروغ دیتا رہا۔ یہی نظریاتی ڈھانچہ ریاست کے لیے وفادار افراد کی بھرتی، حکومتی بیانیے کی ترویج اور ریاستی اداروں کے درمیان اتحاد برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

دوسری جانب ایران میں حکومت کے خلاف اپوزیشن طویل عرصے سے موجود تو ہے لیکن وہ شدید طور پر منقسم رہی ہے۔ اس اپوزیشن میں اصلاح پسند سیاسی گروہ، سابق شاہ کے حامی، بائیں بازو کی تنظیمیں، جلا وطن اپوزیشن تحریکیں اور مختلف نسلی یا علاقائی تنظیمیں شامل ہیں۔ ان اختلافات کے باعث کوئی متحد قیادت سامنے نہیں آ سکی جو حکومت کے خلاف ایک مربوط تحریک چلا سکے۔ گزشتہ برسوں میں حکومت کے خلاف کئی بڑے احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے، جن میں 2009 کی گرین موومنٹ اور 2022 میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے شامل ہیں، تاہم ان تحریکوں کو ریاستی کریک ڈاؤن اور مرکزی قیادت کے فقدان کے باعث کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کسی بھی حکومت کے خاتمے کے لیے عام طور پر تین عوامل کا بیک وقت موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ایک مضبوط عوامی تحریک، حکمران اشرافیہ کے اندر تقسیم اور سکیورٹی فورسز کی بغاوت۔ ایران میں ماضی میں عوامی احتجاج تو دیکھنے میں آیا ہے لیکن حکمران اشرافیہ میں واضح تقسیم یا سکیورٹی فورسز کی بغاوت سامنے نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ شدید بیرونی حملوں اور سیاسی بحران کے باوجود ایران کا حکومتی نظام ابھی تک قائم ہے۔

Back to top button