مریم نے کس منہ سے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اپنی ذات پر لگایا؟

معروف صحافی انصار عباسی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے اپنے پرتعیش فضائی سفر کے لیے عوام کے ٹیکسوں سے 11 ارب روپے مالیت کا جہاز خریدنے کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مریم کبھی اپنے ذاتی پیسوں سے اتنا مہنگا جہاز خرید کر اپنے آرام دہ سفر کا خواب پورا کرنے کا سوچ بھی سکتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب ملک شدید معاشی دباؤ، مہنگائی اور غربت کا شکار ہو تو عیاش حکمرانوں کے ایسے فیصلے نہ صرف سوالات کو جنم دیتے ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ پاکستانی عوام اس وقت بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر قومی خزانے سے عوام کے ٹیکسوں کے اربوں روپے عیاش حکمرانوں کی آسائشوں پر خرچ کیے جائیں تو اس پر اعتراض فطری ہے لہٰذا اس حوالے سے فیصلہ سازوں سے جواب طلبی بھی ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے حال ہی میں 11 ارب روپے مالیت کا ایک G 500 ایگزیکٹو جیٹ خریدا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے پہلے یہ دعوی کیا کہ یہ طیارہ مستقبل میں قائم کی جانے والی مجوزہ پنجاب ایئرلائن کے لیے خریدا گیا ہے اور اسے ذاتی استعمال کے لیے نہیں لیا گیا۔ تاہم جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ مجوزہ ایئرلائن کا منصوبہ ابھی تک صرف کاغذوں پر ہے اور اس حوالے سے کوئی عملی پیشرفت نہیں کی گئی تو پھر حکومت پنجاب کا جھوٹ عوامی بحث کا موضوع بن گیا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس جہاز کو پہلے سے ہی وزیراعلیٰ پنجاب کے زیر استعمال لایا جا رہا ہے اور وہ اس میں لاہور اسلام آباد کا مسلسل سفر کر رہی ہیں۔
انصار عباسی نے سوال اٹھایا کہ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں کروڑوں افراد غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک ایسا ایگزیکٹو طیارہ جس میں صرف محدود تعداد میں افراد سفر کر سکتے ہیں، کیا واقعی عوامی نمائندہ حکومت کی ترجیح ہونا چاہیے؟ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعلیٰ کے پاس پہلے بھی ایک سرکاری جہاز موجود تھا، اور اگر وہ پرانا ہو چکا تھا تو نسبتاً کم قیمت متبادل خریدا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی حکمران کے لیے مہنگے طیارے میں سفر ناگزیر ہے تو وہ اپنے ذاتی وسائل سے ایسی سہولت حاصل کرے اور اسے اپنے اقتدار کی مدت پوری کرنے کے بعد بھی استعمال کرے۔ ان کے بقول بعض لوگ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ اعلیٰ سطحی دوروں، سرمایہ کاری کے فروغ اور ہنگامی انتظامی ضروریات کے لیے اس نوعیت کی سہولت ضروری ہوتی ہے، مگر یہ دلیل تب کمزور پڑ جاتی ہے جب صوبے کے بنیادی مسائل حل طلب ہوں اور عوام معاشی مشکلات میں گھرے ہوں۔
انصار عباسی نے معاشی ماہرین کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ برسوں میں مہنگائی اور معاشی سست روی نے پاکستان میں متوسط اور نچلے طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دیہی علاقوں میں صحت اور تعلیم کی سہولیات ناکافی ہیں جبکہ شہری علاقوں میں بھی لاکھوں نوجوان روزگار کے منتظر ہیں۔ انصار عباسی کے مطابق اگر یہی 11 ارب روپے تعلیم پر خرچ کیے جاتے تو ہزاروں نئے کلاس رومز تعمیر کیے جا سکتے تھے، اساتذہ کی بھرتی ممکن تھی اور اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کی طرف لایا جا سکتا تھا۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بنیادی مراکز صحت کو فعال بنانے، دیہی اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور ادویات کی فراہمی اور صاف پانی کے منصوبوں کے لیے خطیر رقم استعمال کی جا سکتی تھی۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں قومی خزانے سے اتنی بڑی رقم ایک پرتعیش جہاز پر خرچ کرنا عوامی احساسات سے ہم آہنگ فیصلہ نہیں لگتا۔
11 ارب کے جہاز کی خرید نے مریم کی ساکھ کا جنازہ نکال دیا
انصار عباسی نے کہا کہ حکمرانوں کی ساکھ ان کے طرزِ زندگی اور فیصلوں سے بنتی ہے۔ اگر ایک غریب ملک یا صوبے میں قیادت سادگی اختیار کرے تو اس کا مثبت اثر عوامی اعتماد پر پڑتا ہے، جبکہ پرتعیش اخراجات حکمران اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے وزیراعلیٰ پنجاب اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں، لیکن عوامی وسائل کے استعمال میں ترجیحات کا تعین انتہائی اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاملہ صرف ایک جہاز کی خریداری کا نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات کا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے کیے گئے پیسوں کا استعمال عوامی فلاح پر ہونا چاہیے یا اس وزیر اعلی کی آسائشوں کے لیے جو سارا دن عوام کو سادگی اور کفایت شاری بنانے کا درس دیتی ہوں؟ ان کے بقول اسی سوال کا جواب کسی بھی حکومت کی سمت اور سنجیدگی کا تعین کرتا ہے۔ اگر فیصلے عوامی مشکلات کو سامنے رکھ کر کیے جائیں تو محدود وسائل کے باوجود اعتماد اور استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر ایسے اقدامات مسلسل تنقید کو جنم دیتے رہیں گے۔
