مودی نے اپنی لگائی ہوئی کڑکی میں اپنی ہی گردن کیسے پھنسا لی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں تدبر کو کامیابی ملی اور تکبر کو شکست ہوئی ہے۔ لیکن ہمارے لئے بھی سبق یہی ہے کہ کہیں ہم اس جیت کے نشے میں متکبر نہ ہو جائیں۔ اب ہمیں کسی صورت ایسا اقدامات نہیں کرنے جو پاکستان کو دوبارہ سے جنگ کی طرف لے جائے۔ جنگ تباہی ہے، اس لئے غرور کا شکار ہونے کی بجائے ہمیں اپنے گھر کو درست کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ بھارت کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ ہے جبکہ پاکستان صرف پچیس کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ بھارت دنیا کی چوتھی بڑی فوجی طاقت ہے جبکہ پاکستان کا نمبر پندرھواں ہے۔ بھارت دفاع پر خرچ کرنے والا دنیا کاپانچواں بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان اس فہرست میں بہت پیچھے ہے۔ 2024 میں بھارت نے اپنےدفاع پر86 ارب ڈالرز خرچ کئے جبکہ پاکستان نے صرف دس ارب ڈالرز خرچے۔ بھارت کی فعال فوج پندرہ لاکھ کے قریب ہے جبکہ پاکستان کی ساڑھے چھ لاکھ ہے۔ بھارت کے پاس کل 513 لڑاکا طیارے ہیں جبکہ پاکستان کے پاس تقریباً تین سو جنگی جہاز ہیں۔

سلیم صافی کے بقول بحریہ میں تو انڈیا کی سبقت اور بھی زیادہ ہے۔ پروپیگنڈا اس دور میں جنگوں کا اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے، اس محاذ پر بھی بھارت بہت آگے ہے۔ اس کے سینکڑوں سے زائد ٹی وی چینلز ہیں۔ پاکستان میں اگر سوشل میڈیا کو چند لاکھ افراد استعمال کرتے ہیں تو بھارت میں کروڑوں استعمال کرتے ہیں۔ معاشی لحاظ سے پاکستان کمزور ہے جبکہ بھارت خود کو ایشیا کی سپر پاور سمجھ کر عالمی معاشی طاقت بننے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ وہ چین کو تو اپنے لئے ٹکر کا دشمن سمجھتا تھا لیکن پاکستان کو کچھ نہیں سمجھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے معاملے میں مودی غرور اور تکبر کے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ بیٹھا تھا، چنانچہ اس کی اپنی چھیڑی گئی لڑائی میں کمزور کے ہاتھوں طاقتور کو شکست ہو گئی اور آج مودی اسی پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔

صافی کہتے ہیں کہ سیز فائر کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟۔ اس کا سادہ جواب تو یہ ہے کہ تکبر کو تدبر نے شکست دی یا پھر ہتھیار، اخلاقی برتری کے آگے ڈھیر ہو گئے۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں پاکستان اخلاقی لحاظ سے بلند پوزیشن پر فائز تھا۔ پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت نے شروع دن سے تدبر کا ثبوت دیا۔ جب پہلگام کا واقعہ ہوا تو پاکستان نے اس کی مذمت کی۔ جب انڈیا نے الزام پاکستان پر لگا دیا تو پاکستان نے تحقیقات میں ہر قسم کے تعاون کی پیشکش کی۔ پھر بھی جب مودی لڑائی پر مصر رہا تو پاکستانی وزیر اعظم نے امریکہ یا کسی اور کی ثالثی میں تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ پاکستانی قیادت نے سعودی عرب، ایران، یواے ای، چین، قطر، ترکی، آذربائیجان، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی رابطے رکھے اور انہیں بھارت کو جنگ سے باز رکھنے اور تحقیقات میں ہر طرح کے تعاون کا کہتی رہی۔

دوسری طرف مودی کسی بھی تجویز کو نہیں مان رہا تھا۔ ان کے میڈیا نے پہلے دن سے پاکستان کو ملیامیٹ کرنے کی باتیں کیں اور مودی حکومت نے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ اس صورت حال نے پاکستان کو ایک برتر اخلاقی مقام دلوا دیا۔ اسرائیل کو چھوڑ کر دنیا کے اکثریتی ممالک نے مودی کی بجائے پاکستان کا ساتھ دیا اور کسی نے کھل کر بھارت کی حمایت نہیں کی۔ سعودی عرب، یواے ای اور ایران نے لڑائی ٹالنے کیلئے سفارتی کوششیں کیں لیکن غرور کے گھوڑے پر سوار مودی نے کسی کی نہ سنی۔

صافی کہتے ہیں کہ جنگ کا آغاز ہندوستان نے پاکستان پر فضائی حملوں سے کیا اور نصف درجن سے زائد سویلین مقامات کو نشانہ بنایا لیکن، واپس جاتے ہوئے اپنے چھ جہاز پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں ملبے کا ڈھیر بنوا گئے جن میں فرانس کا رافیل جہاز بھی تھا۔ رافیل دنیا کا جدید ترین اور ناقابل رسائی جنگی جہاز سمجھا جاتا ہے۔ صرف امریکہ کا ایک جہاز اس سے آگے ہے اس لئے نہ صرف بھارت نے رافیل خریدا تھا بلکہ فرانس میں اس کے خریداروں کی قطار لگی ہوئی تھی۔ بھارت کا تکیہ انہی جہازوں پر تھا، لیکن پاکستانی فضائیہ کی جانب سے انہیں مار گرانے کے بعد بھارت کو پاکستانی حدود میں جہاز بھیجنے کی ہمت نہ ہوئی۔

بھارت کی اس جارحیت کے جواب میں پاکستان نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ لیکن دوسرے دن اس نے پاکستان پر ڈرون حملوں کی بارش کر دی لیکن پاکستان نے انہیں کاؤنٹر کرتے ہوئے 82 ڈرونز گرا دیئے۔ اس دوران پاکستانی عوام کا غصہ بڑھ رہا تھا اور وہ حیران تھے کہ ان انڈیا کو جواب کیوں نہیں دیا جا رہا۔ اگلے دن بھارت لڑائی میں میزائل بھی گھسیٹ لایا۔ رات کی تاریکی میں اس نے پاکستان کے چار ہوائی اڈوں پر میزائل داغ دیئے جس سے پاکستانی فوجی قیادت کا صبر تمام ہو گیا۔ چنانچہ 10 مئہ کی صبح جوابی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان نے بیک وقت ایک درجن سے زیادہ بھارتی ائیر بیسز کو میزائلوں کی بارش کر کے ملیا میٹ کردیا۔ اس دوران ہمارے شاہینوں نے بھارت کا ڈیڑھ ارب ڈالرز سے خریدا جانے والا ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تباہ کر دیا۔ اس کے بعد بھارت پاکستانی شاہینوں کیلئے کھلا میدان بن گیا۔

سلیم صافی بتاتے ییں کہ ایس 400 میزائیل ڈیفنس سسٹم روسی ساختہ ہتھیار ہے جو امریکہ کے پیٹریاٹ میزائل کی طرح کام کرتا ہے۔ اس کو عام جہاز یا عام میزائل سے ناکارہ نہیں بنایا جا سکتا بلکہ وہ اپ کی فضائی حدود میں آنے والے میزائلوں اور جہازوں کو خود کار نظام کے تحت میزائل فائر کر کے نشانہ بناتا ہے۔ رافیل کے علاوہ بھارت کو اس سسٹم کا بھی بہت زعم تھا لیکن جب اسے بھی تباہ کر دیا گیا تو بھارت کی ہوائیاں اڑ گئیں۔

صافی کے بقول پاکستان نے صرف چار گھنٹے میں بھارت کے چار روز کا قرض سود سمیت لوٹا دیا۔چنانچہ بھارت نے سیز فائر کے لیے ٹرمپ کی منتیں شروع کر دیں۔ مودی نے نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کو سیز فائر کی ذمہ داری سونپی جس کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے پاکستانی اور بھارتی حکام سے جنگ بندی کیلئے رابطے شروع کر دئیے۔ چنانچہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسی روز ایک ٹویٹ میں خوش خبری سنائی کہ دونوں ممالک جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے ہیں اور تنازعات کے حل کیلئے کسی تیسرے ملک میں مذاکرات ہوں گے۔ یوں وقتی طور پر یہ قصہ تمام ہوا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے معاملے میں ماضی میں بشمول ٹرمپ جس نے بھی ثالثی کی بات کی تو بھارت نے حقارت سے ایسی پیشکش ٹھکراتے ہوئے یہ موقف اپنائے رکھا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کا دو طرفہ معاملہ ہے۔ تاہم پاکستان پر حملے کی غلطی کے رد عمل میں اپنا بھاری نقصان کروانے والے مودی اپنی لگائی ہوئی کڑکی میں خود ہی پھنس گئے۔

Back to top button