مشرف کا ‘کارگل مس ایڈونچر’ ہزاروں فوجی جوانوں نے کیسے بھگتا؟

 

 

 

جنرل پرویز مشرف کا بھارت کے ساتھ کارگل جنگ چھیڑنے کا منصوبہ فوجی اعتبار سے نہ صرف کمزور تھا بلکہ پاکستان کے لیے تباہ کن بھی ثابت ہوا۔ اس جنگ کے نتیجے میں دونوں اطراف سے ہزاروں فوجیوں نے جانیں قربان کیں، پاکستان کے ہزاروں فوجی جوان مارے گئے، پاکستان کی فوجی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور عالمی برادری میں بھارتی مؤقف کو پذیرائی ملی۔ بھاری نقصان اٹھانے کے بعد مشرف نے نواز شریف کو ریکویسٹ کی کہ وہ صدر کلنٹن کے ذریعے جنگ بندی کروائیں۔

 

معروف صحافی اور تجزیہ نگار رؤف کلاسرا نے اپنی تازہ تحریر میں بتایا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے سابقہ پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی نے یہ انکشاف اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب میں کیے ہیں۔ سعید مہدی کے مطابق کارگل آپریشن ایک ناقص جنگی منصوبہ تھا جو محض چار جرنیلوں نے خفیہ طور پر تیار کیا۔ اس منصوبے سے فوج کے دیگر شعبے، حتیٰ کہ نیوی اور ایئر فورس تک کو لاعلم رکھا گیا۔ جب یہ آپریشن ناکامی سے دوچار ہوا اور حالات بگڑنے لگے تو خود جنرل پرویز مشرف کی درخواست پر وزیراعظم نواز شریف کو امریکی صدر بل کلنٹن سے رجوع کرنا پڑا تاکہ جنگ بندی ممکن بنائی جا سکے۔

 

سعید مہدی کے بقول، کارگل کے بعد جب پاکستانی قیادت وطن واپس پہنچی تو نواز شریف کو انکے قریبی ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ جنرل پرویز مشرف اور دیگر تین جرنیلوں کو ریٹائر کر دیا جائے۔ اس وقت فوج کے اندر مشرف کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا تھا اور اگر یہ اقدام اٹھایا جاتا تو ردعمل کے بجائے حمایت ملتی، تاہم وزیر اعظم نے خاموشی اختیار کی۔ بعد ازاں اسی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں جنرل عزیز، جنرل محمود اور جنرل جاوید حسن نے کارگل کی کہانی کو نیا رخ دینا شروع کر دیا اور سارا ملبہ نواز شریف پر ڈال دیا۔ کتاب کے مطابق اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیا الدین بٹ کو چاہیے تھا کہ وہ وزیر اعظم کو کارگل کے اصل حقائق اور فوج کے اندر پائی جانے والی ناراضی سے آگاہ کرتے، مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ان کے جنرل مشرف سے تعلقات کشیدہ تھے اور وہ ان تعلقات میں مذید خراب کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔

 

سعید مہدی لکھتے ہیں کہ بعد ازاں جنرل مشرف نے عسکری حلقوں میں یہ تاثر پھیلایا کہ انہوں نے بھارت کو شہ رگ سے پکڑ لیا تھا اور کشمیر محض چند دنوں میں پاکستان کے ہاتھ آ سکتا تھا، مگر نواز شریف امریکہ جا کر جنگ بندی کروا دی اور یوں ایک سنہری موقع ضائع کر دیا گیا۔ اس بیانیے کے ذریعے کارگل میں شہید ہونے والے فوجیوں کی قربانیوں کا ملبہ بھی سیاسی قیادت پر ڈال دیا گیا۔ اسی دوران ایک ایسا لمحہ آیا جب نواز شریف کو یہ اطلاع ملی کہ اب یا وہ رہیں گے یا جنرل پرویز مشرف۔

 

رؤف کلاسرا کے مطابق سعید مہدی نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ جنرل مشرف سے ملاقات کے اگلے ہی روز نواز شریف نے پارلیمانی ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا، جس میں آرمی چیف کے ساتھ نیوی اور ایئر فورس کے سربراہان کو بھی مدعو کیا گیا۔ اجلاس میں چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل فصیح بخاری اور ایئر چیف مارشل پرویز مہدی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا قدم اٹھایا گیا جو بھارت کے ساتھ مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتا تھا، مگر نیوی اور ایئر فورس کو اس بارے میں مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا گیا۔

ایئر اور نیول چیفس نے خبردار کیا کہ اگر بھارت فضائی یا سمندری حملہ کرتا ہے تو پاکستان کی یہ دونوں فورسز تیار نہیں ہوں گی۔ اس پر جنرل مشرف نے بہت اعتماد سے کہا کہ ’اگر بھارت نے حملہ کیا تو ہم دیکھ لیں گے‘، تاہم ان کی یہ خود اعتمادی نیوی اور ایئر فورس کے سربراہان کو مطمئن نہ کر سکی۔

 

سعید مہدی کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی خدشات درست ثابت ہوئے۔ کارگل میں فوجی جوان مسلسل شہید ہو رہے تھے اور یہ آپریشن ملکی تاریخ کا بدترین فوجی ایڈونچر بنتا جا رہا تھا۔ حالات کی سنگینی دیکھتے ہوئے جنرل مشرف نے سیکرٹری دفاع جنرل افتخار علی خان کے ذریعے وزیراعظم کو پیغام بھجوایا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم واجپائی سے بات کر کے جنگ بندی اور پرانی پوزیشن پر واپسی کی راہ نکالیں۔ نواز شریف جانتے تھے کہ واجپائی کو براہِ راست فون کرنے کا وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا کیونکہ اب ان کا پلڑا بھاری تھا، چنانچہ انہوں نے ایک تیسرے طاقتور فریق کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا اور امریکی صدر بل کلنٹن سے رابطہ کیا۔

 

تین جولائی 1999 کو کلنٹن سے فون پر فوری ملاقات کی درخواست کی گئی، جو بالآخر چار جولائی کو واشنگٹن میں طے پائی۔ کتاب کے مطابق کلنٹن اور نواز شریف کی ون آن ون ملاقات کئی گھنٹے جاری رہی، جس کے نتیجے میں بھارت جنگ بندی اور پرانی پوزیشن پر واپسی پر آمادہ ہوا۔ سعید مہدی لکھتے ہیں کہ اس پوری ہزیمت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے درمیان کوئی مؤثر رابطہ موجود نہیں تھا۔ کارگل کا فیصلہ یکطرفہ طور پر کیا گیا، جس نے دو ایٹمی طاقتوں کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا اور پوری دنیا پاکستان پر دباؤ ڈالنے لگی۔ کتاب کے مطابق واشنگٹن میں اس دورے کی خبر تک پاکستانی سفارتخانے کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے ملی، جس پر سفارتی حلقوں میں شدید حیرت پائی گئی۔ جلدی میں بریفنگز تیار کی گئیں اور ہنگامی بنیادوں پر ملاقات کے انتظامات کیے گئے۔ آخرکار، امریکی دباؤ اور طویل سفارتی کوششوں کے بعد جنگ بندی ممکن ہو سکی۔

جے ایف-17 تھنڈر کی مانگ میں اضافے کے بعد پروڈکشن میں تیزی

سعید مہدی کے مطابق کارگل کے بعد وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے تعلقات میں واضح دراڑ پڑ چکی تھی۔ اگرچہ ظاہری طور پر دونوں کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ قائم رکھنے کی کوشش کی گئی، مگر بااعتماد رابطہ تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ نواز شریف یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ انہیں نہ صرف کارگل آپریشن جیسے اہم فیصلے سے لاعلم رکھا گیا بلکہ بعد ازاں اس کی ناکامی کا ملبہ بھی سیاسی قیادت پر ڈال دیا گیا۔ دوسری جانب جنرل مشرف یہ تاثر دیتے پھر رہے تھے کہ سیاسی قیادت نے ایک ’جیتے ہوئے معرکے‘ کو سبوتاژ کر دیا۔ اسی باہمی بداعتمادی نے دونوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیے اور سول و عسکری قیادت کے درمیان طاقت کا توازن بگڑنے لگا۔ سعید مہدی کہتے ہیں کہ یہ کشیدگی رفتہ رفتہ اس نہج پر پہنچ گئی جہاں ریاستی نظام میں یہ احساس گہرا ہوتا چلا گیا کہ اب فیصلہ کن تصادم ناگزیر ہو چکا ہے، اور بالآخر حالات اس موڑ پر پہنچ گئے جہاں قبر ایک تھی اور بندے دو، لہذا مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

Back to top button