نادرا نے شناختی کارڈ پر نام درست کرنا آسان کیسے بنا دیا ؟

پاکستان میں قومی شناختی کارڈ میں نام کی درستی یا تبدیلی ماضی میں ایک صبر آزما اور پیچیدہ عمل سمجھا جاتا تھا، تاہم اب نادرا کی حالیہ پالیسی اصلاحات نے اس مشکل مرحلے کو نمایاں حد تک آسان بنا دیا ہے۔ اب شہری بار بار دفاتر کے چکر لگانے یا غیر ضروری کاغذی کارروائی میں الجھنے کے بجائے صرف یونین کونسل یا کنٹونمنٹ بورڈ سے جاری کردہ برتھ سرٹیفیکیٹ دکھا کر بھی شناختی کارڈ پر اپنا نام درست یا تبدیل کروا سکتے ہیں
خیال رہے کہ پاکستان میں قومی شناختی کارڈ صرف ایک پلاسٹک کارڈ نہیں، بلکہ یہ ہر شہری کی قانونی، سماجی اور معاشی شناخت کا بنیادی ستون ہے۔ ووٹ ڈالنے سے لے کر ملازمت کے حصول، مالی لین دین، بیرونِ ملک سفر اور شہریت کی تصدیق تک، زندگی کا کوئی اہم مرحلہ اس دستاویز کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم اگر اسی شناختی دستاویز پر ہی آپ کا نام غلط درج ہو تو ہر مرحلہ پر مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں شناختی کارڈ میں نام کی درستی ہمیشہ ایک پیچیدہ عمل سمجھا جاتا رہا ہے تاہم اب نادرا نے شناختی کارڈ یا ب فارم میں نام اور دیگر معلومات کی درستی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے نئی پالیسی متعارف کرا دی ہے، جس میں مرحلہ وار نظام، واضح رہنمائی اور آن لائن سہولتوں نے شہریوں کو غیر ضروری چکروں سے بچانے کے ساتھ ساتھ اس عمل کو بھی کئی گنا تیز کر دیا ہے۔
اس نئے نظام کے تحت نام کی درستی کیلئے بنیادی دستاویز کے طور پر یونین کونسل یا کنٹونمنٹ بورڈ کا جاری کردہ برتھ سرٹیفیکیٹ درکار ہے، اور اگر یہ دستیاب نہ ہو تو نادرا کے فراہم کردہ حلف نامے کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ اس پورے عمل کو چھ آسان مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ٹوکن، بائیومیٹرک تصدیق، ڈیٹا انٹری، منظوری، فیس کی ادائیگی اور آخر میں کارڈ کی ترسیل شامل ہے، جبکہ اس دوران کسی گواہی یا اٹیسٹیشن یعنی تصدیق کی ضرورت نہیں رہتی۔ مزید سہولت کے لیے نادرا نے نارمل، ارجنٹ اور ایگزیکٹیو کیٹیگریز کے تحت 30، 15 اور 7 دن میں کارڈ کی فراہمی ممکن بنا دی ہے، اور آن لائن سہولتوں کے باعث اوورسیز پاکستانی بھی اپنے شناختی ریکارڈ میں ترمیم گھر بیٹھے کر سکتے ہیں۔ یہ اصلاحات نہ صرف وقت اور اخراجات کی بچت فراہم کرتی ہیں بلکہ نظام کو پہلے سے کہیں زیادہ شفاف اور مؤثر بنا دیتی ہیں۔ آن لائن سہولتوں کے باعث شہریوں کو طویل قطاروں اور بار بار دفاتر کے چکر لگانے سے نجات مل گئی ہے اور شناختی کارڈ میں نام یا دیگر معلومات کی ترمیم کا عمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ شفاف، تیز اور قابلِ اعتماد ہو گیا ہے۔
نادرا کی طرف سے جاری کردہ نئی پالیسی میں شادی شدہ خواتین کو بھی یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے والد یا شوہر کا نام شناختی کارڈ پر درج کروا سکتی ہیں، جو ان کی قانونی خودمختاری کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
بچوں کے بائیومیٹرک ریکارڈ کے لیے بھی تفصیلی شرائط طے کر دی گئی ہیں، جن میں عمر کے حساب سے مختلف تقاضے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کے لیے نادرا پورٹل ایک بڑی تبدیلی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ جس کے بعد اب دیار غیر میں مقیم پاکستانی اپنے نائیکوپ یا شناختی کارڈ میں آن لائن ترمیم کر سکتے ہیں جبکہ ضروری دستاویزات اپ لوڈ کر کے اور بائیومیٹرک تصدیق قونصل خانوں یا سفارت خانوں کے ذریعے مکمل کروا سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ اب نادرا فیس کی ادائیگی آن لائن بین الاقوامی کارڈز کے ذریعے بھی ممکن بنا دی گئی ہے۔
یوم آزادی پر سول ایوارڈ ز کی لوٹ سیل تنقید کی زد میں کیوں؟
ماہرین کے مطابق نادرا کی جانب سے متعارف کردہ نئےاقدامات نے جعل سازی کے امکانات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو اپنی شناخت میں بروقت درستی کی راہ ہموار کر دی ہے۔ آن لائن سہولت، خواتین کے لیے خودمختاری، اور بچوں کے بائیومیٹرک ریکارڈ کے نئے تقاضے اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان کا شناختی نظام جدید خطوط پر استوار ہو رہا ہے۔ نام کی تبدیلی یا درستی بارے نادرا کا موجودہ نظام اور پالیسی اپ ڈیٹس تمام پاکستانیوں کو ایک مربوط، شفاف اور سہل عمل فراہم کرتے ہیں، یہ اصلاحات قومی شناختی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے اور عوامی سہولت کو فروغ دینے کی جانب ایک نمایاں پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ جس نے عوام کوبڑی خواری اور وقت کے ضیاع سے بچا لیا ہے۔
