تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی کا موقع کیسے گنوا دیا؟

اڈیالہ جیل میں بند عمران خان کے جنونی ساتھی اور معروف گلوکار سلمان احمد کو صدر ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کا دعوت نامہ تو مل گیا تھا لیکن عین موقع پر انہیں بشری بی بی کی شان میں گستاخی کرنے پر پارٹی سے نکال دیا گیا، ورنہ شاید وہ ٹرمپ کو قائل کر کے عمران خان کی رہائی کی روبکار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں معروف لکھاری اور صحافی نصرت جاوید یہ خبر بریک کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے غریب اور پسماندہ عوام کو ”حقیقی آزادی“ اور ”جمہوری حقوق“ دلوانے ان دنوں کچھ لوگ امریکہ میں پناہ گزین ہوئے سوشل میڈیا کے محاذ پر جارحانہ پیش قدمیوں میں مصروف ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں سلمان احمد نامی ایک شخص بھی شامل ہے جو خود کو ”صوفی“ قرار دیتا ہے۔ سلمان جوانی میں کسی میوزک بینڈ میں بھی شامل تھا جس نے بڑے غلام علی خان، پٹیالہ گھرانے کے استاد امانت علی وفتح علی خان کے علاوہ شام چوراسی کے گھرانے کی متعارف کردہ روایات کے ہوتے ہوئے بھی ہم ”اجڈ“ لوگوں کو ”جدید موسیقی“ سے روشناس کروانے کی کوشش کی تھی۔ دیسی کو انگریزی کے ساتھ ملانے کے اس عمل کو ”فیوژن“ پکارا گیا۔ اس کی بدولت بلھے شاہ جیسے نادرِ روزگار صوفی شاعروں کو جس انداز میں ذبح کیا گیا وہ اپنی جگہ ایک دلخراش داستان ہے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ”جذبہ اور جنون“ کی یہ علامتیں ہمارے متوسط طبقے کے ”کاٹھے انگریزوں“ کو بہت ذیادہ بھائیں۔ قومی سلامتی کے بارے میں متفکر چند ادارے بھی ان کے فن سے قوم میں جذبہ حب الوطنی اجاگر کرنے کو مجبور ہوئے۔ دوکان کھل گئی سودا مگر اس کا ریاضتوں کے بغیر تیار ہوا تھا۔ اسی لئے زیادہ دنوں تک چل نہ پائی۔ لیکن سلمان احمد بے سرے گویے سے ”صوفی“ ہونے کے بعد پوری قوم میں جنون پھیلانے کے لئے تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ عمران خان کے لئے موصوف نے کیا خدمات سرانجام دیں اس حوالے سے جتنے منہ اتنی ہی باتیں ہوتی ہیں۔ اپریل 2022ء میں عمران حکومت کی تحریک عدم اعتماد کے ہاتھوں فراغت کے بعد مگر یہ ”صوفی“ انقلابی ہو گیا۔ لیکن اسے شاہ حسین جیسے ملامتی کی طرح اپنے ہی وطن میں رہتے ہوئے گلیوں میں دھمال ڈالنے کی ہمت نہ ہوئی۔ نہ ہی اسے بلھے شاہ کی طرح برسرعام ناچتے ہوئے ”یار“ منانے کی جرات نصیب ہوئی۔ سلمان احمد موقع ملتے ہی پاکستان چھوڑ کر سات سمندر پار چلے گئے۔ اب موصعف وہاں مقیم ہیں اور سوشل میڈیا پر دندناتے پھرتے ہیں۔ وہ پاکستان کو غلاموں کا ملک قرار دیتے ہوئے ہم جیسے ملنگوں کو آقاﺅں کا نمک خوار ہونے کے طعنے دیتے ہیں۔ ربّ کریم انہیں شاد رکھے۔
نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ ان دنوں موصوف بہت خوش ہیں۔ انہوں نے ایلون مسک کے خریدے ٹویٹر پر جسے اب X کہا جاتا ہے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ انہیں امریکہ کے نومنتخب صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت ملی ہے۔ یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس تقریب کے لئے چینی صدر کو مدعو کرنا چاہ رہے تھے حالانکہ امریکی تاریخ میں کسی صدر کی تقریبِ حلف برداری میں کسی غیر ملکی کو کبھی شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ لیکن ٹرمپ روایت شکن آدمی ہے۔ چینی صدر کو مدعو کرلیا اور اپنی جانب سے بھیجی دعوت کی تصدیق بھی نیویارک سٹاک ایکس چینج کی ایک تقریب کے دوران فراہم کردی۔ دوسرئ جانب چینی صدر نے شرکت سے معذوری کا پیغام بھجوا دیا ہے۔ غالباً چینی صدر کی معذرت سے ٹرمپ کا دل ٹوٹ گیا ہو گا۔ اسی لئے دکھ کی گھڑی میں دورِ حاضر کے ”تان سین“ یعنی لگڑ بگے صوفی سلمان احمد کو مدعو کر لیا۔ امریکی صدر کا حلف اٹھا لینے کے بعد وہ ہمارے ”صوفی“ سے شاہ حسین کی ”درد وچھوڑے دا حال“ والی کافی سننے کی فرمائش بھی کر سکتے ہیں۔
نصرت جاوید کے بقول وہ فرمائش کریں یا نہیں ”حقیقی آزادی“ کا یہ علم بردار گلے میں ڈھول ڈالے دنیا کو بتائے چلے جا رہا ہے کہ اسے ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں مدعو کیا گیا ہے۔ اس نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ مذکورہ تقریب میں شرکت کے دوران وہ ایک سیلفی بھی بنائے گا۔ ہو سکتا ہے یہ سیلفی وہ نئے امریکی صدر کے ساتھ بنوائے۔ وہ سیلفی بن گئی تو نجانے کون طے کرے گا کہ وہ کس کے لئے باعث فخر ہے۔ ہمارے ”صوفی“ کے لئے یا دنیا کی واحد سپر طاقت کہلواتے ملک کے نو منتخب صدر کے لئے۔
نصرت کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں سے مفرور ہوئے ”صوفی“ کی امریکی صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا پتہ یوں چلا کہ گزرے ہفتے میں نہایت توجہ سے امریکہ میں مقیم ”انقلابیوں“ کی سوشل میڈیا کے لئے اختیار کردہ حکمت عملی کا مشاہدہ کرتا رہا ہوں۔ چند ایک سے دل بہلانے کو جان بوجھ کر پنگا بھی لیتا رہا۔ وجہ اس کی بنیادی طورپر رچرڈ گرنیل ہے۔ اس ریٹائرڈ کرنل کو ٹرمپ نے اپنا خصوصی سفیر تعینات کیا ہے۔ موصوف کی تعیناتی کا اعلان کرتے ہوئے نو منتخب صدر نے دو ملکوں کا خصوصاً ذکر کیا- وینزویلا اور شمالی کوریا- ان ممالک کے ساتھ امریکہ کیسے ڈیل کرے اسے طے کرنے کی ذمہ داری گرنیل کے سپرد کر دی۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امریکہ میں قیام پذیر ہو کر پاکستان میں ”حقیقی آزادی“ کے خواہاں یہ فرض کر بیٹھے ہیں کہ نو منتخب امریکی صدر نے گرنیل کو پاکستان ”ٹھیک“ کرنے کا فرض بھی سونپا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ موصوف اکثر عمران خان کی رہائی کے لئے بیان دیتے رہتے ہیں۔ جب سے ان کی نامزدگی ہوئی ہے موصوف تقریباً جنون کے عالم میں ”عمران خان کو رہا کرو“ والا پیغام X پر دہرائے چلے جا رہے ہیں۔ ان کے بارے میں منفی بات لکھو تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان وقت کا طویل فرق ہونے کے باوجود ترنت جواب دیتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گویا گرنیل صاحب ایک لمحے کو بھی نہیں سوتے۔ دن کے 24 گھنٹے عمران خان کی رہائی کے بارے میں سوچتے اور متحرک رہتے ہیں۔ ایسا مشینی مداح تو خان صاحب کو پاکستانیوں میں سے بھی نصیب نہیں ہوا ہو گا۔ ان کے ہوتے ہوئے بانی تحریک انصاف کی زندگی میں آسانی اور راحت آ جائے تو ذاتی طور پر مجھے خوشی ہو گی۔
کیا 2025 پی ٹی آئی کے لیے کوئی اچھی خبر لائے گا؟
نصر جاوید کہتے ہیں کہ وہ عمران کی سیاست کے بارے میں ہزاروں تحفظات کے باوجود اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے کہ ان دنوں وہ ملک کے مقبول ترین سیاستدان ہیں۔ جیل مگر جیل ہوتی ہے اس سے رہائی مل جائے تو مزید مقبول ہو جائیں گے۔ شاید رہا ہونے کے چند ماہ بعد وزارت عظمیٰ کے منصب پر دو تہائی اکثریت کے ساتھ لوٹ آئیں اور پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں خان کی سیاست کے بارے میں اپنے تحفظات کے باوجود ان کے لئے بھلے اور خیر کی دعا مانگتا ہوں۔ لیکن ان کے امریکہ میں مقیم حامیوں کا رویہ یہ سوچنے کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ بانی تحریک انصاف کی زندگی آسان بنانے کے بجائے ان کے لئے مزید مشکلات کے انبار کھڑا کررہے ہیں۔ اس حقیقت کو فی الحال سمجھانا مگر ناممکن ہے۔ ٹرمپ کی حلف برداری کا انتظار کر لیتے ہیں۔ شاید اس میں شرکت کے بعد وہاں مقیم دو نمبر کا ”صوفی“ اپنے ہاتھ میں ان کی رہائی کا پروانہ لے کر وائٹ ہاﺅس سے لوٹے۔ وہ پروانہ بھی لیکن اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہائی کی ”روبکار“ کی صورت کیسے اختیار کرے گا؟ اس سوال کا جواب فی الوقت میرے کند ذہن میں آ نہیں رہا۔
