چھلے ہوئے کیلے کی تصویر مصطفیٰ عامر کی موت کی وجہ کیسے بنی؟

کراچی میں دوست کے ہاتھوں قتل ہونے والے مصطفیٰ عامرکے واقعہ نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تاہم اس قتل کے واقعے میں سامنے آنے والے حقائق سے پتا چلتا ہے کہ یہ کہانی بنیادی طور پر نشے، طاقت اور غرور کی ہے جو ایک چھلے ہوئے کیلے کی تصویر سے ایک خطرناک موڑ لیتی ہے اور ایک نوجوان مصطفیٰ عامر کے درد ناک قتل کے ساتھ انجام کو پہنچتی ہے۔تاہم کراچی میں مصطفیٰ کے قتل کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ہر طرف ایک ہی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر اس ہولناک اور بے رحم قتل کی کیا وجہ تھی؟ 3 دوستوں مصطفیٰ، ارمغان اور شیراز کی دوستی کا سفر جانی دشمنی پر کیسے ختم ہوا؟
ذرائع کے مطابق کیس میں انجلین نامی لڑکی کا بنیادی کردار سامنے آ رہا ہے کیونکہ انجلین ہی قاتل ارمغان اور مقتول مصطفیٰ کے مابین اختلافات اور لڑائی کی بنیادی وجہ بنی ذرائع کے مطابق انجلین مصطفیٰ اور ارمغان دونوں کی دوست تھی اور دونوں کے ساتھ اس کے جسمانی تعلقات تھے۔ تاہم انجلین مصطفیٰ کے سامنے ارمغان کے عضو خاص کا مذاق اڑایا کرتی تھی۔اس حوالے سے قاتل ارمغان کے دوست شیراز کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ ارمغان نے مصطفیٰ کو مارپیٹ کی وجہ بارے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نیو ایئر نائٹ پر انجلی یعنی انجلین نے ارمغان کے جسم کے نازک حصے پر اپنے دانتوں سے کاٹ لیا تھا جبکہ اس کے دوسرے روز مصطفیٰ عامر نے ارمغان کو واٹس ایپ کے ذریعے ایک چھلے ہوئے کیلے کی تصویر بھیجی تھی جس پر ارمغان شدید برہم ہوا، اس تصویر کی وجہ سے نہ صرف ارمغان نے انجلی پر تشدد کیا۔ بلکہ مصطفیٰ کو بھی بہانے سے گھر بلا کر نہ صرف اس پر تشددد کیا بلکہ غصے میں اس کے جسم کا نازک حصہ بھی کاٹ دیا جبکہ بعد ازاں اسے حب لے جا کر گاڑی میں زندہ جلا دیا۔
وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق 6 جنوری کو مصطفیٰ اپنے گھر سے دوست ارمغان کے گھر جانے کے لیے نکلا لیکن وہاں جانے کے بعد لاپتا ہوگیا۔ تلاش میں ناکام ہوجانے کے بعد گھر والوں نے 7 جنوری کو مصطفیٰ کے اغوا کا مقدمہ تھانہ درخشاں میں درج کروادیا۔ پولیس نے مصطفیٰ کی تلاش تو شروع کردی۔ وہ اس سے قبل اے این ایف کے ہاتھوں منشیات سپلائی کے مقدمہ میں پکڑا جا چکا تھا لہٰذا اسی بنیاد پر پولیس کو شک تھا کہ مصطفیٰ کا کسی منشیات والوں کے ساتھ جھگڑا ہوا ہوگا اور اسی چکر میں وہ لاپتا ہوگیا ہے۔ پولیس کی تحقیقات چل ہی رہی تھی کہ اچانک مصطفیٰ کی والدہ کو ایک کال آئی جس میں بتایا گیا ہے کہ ہم آپ کے بیٹے سے متعلق آپ کو بتائیں گے کہ وہ کہاں ہے جس کے لیے آپ کو ایک کروڑ روپے دینے پڑیں گے۔ اس کال کے بعد مصطفیٰ کی والدہ نے پولیس کو اطلاع دے دی اور کیس اے وی سی سی منتقل ہوگیا کیونکہ اس بات کی تصدیق ہوچکی تھی کہ یہ اغوا برائے تاوان کا معاملہ ہے۔
تحقیق کا دائرہ بڑھانے کے لیے مصطفیٰ کا 4 دوستوں کو تحقیقات میں شامل کیا گیا جن میں ایک ارمغان بھی تھا۔ 8 فروری کو اے وی سی سی کی ٹیم ارمغان کے گھر پہنچی تو اس نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 2 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تاہم پولیس نے بڑی مشکل سے ارمغان کو حراست میں لے لیا۔تاہم ارمغان نے پولیس کے سامنے کچھ نہیں اگلا۔ جب مصطفیٰ کے حوالے سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ وہ تو میرا دوست تھا اس کے ساتھ میں ایسا کیوں کروں گا۔ اے وی سی سی سے جب بات نہ بن پائی تو پھر باری آئی انٹیلیجنس بیورو یعنی آئی بی کی جس نے کام شروع کیا تو ارمغان کے دوست شیراز کا لنک مل گیا جسے کراچی ایئرپورٹ کے نزدیک واقع فلک ناز پلازا سے حراست میں لے لیا گیا۔ شیراز کا تعلق غریب گھرانے سےتھا وہ پولیس کا دباؤ برداشت نہ کرسکا اور اس نے ساری کہانی کھول کر بیان کردی۔ اس نے بتا دیا کہ ارمغان کے گھر مصطفیٰ آیا تھا جس نے مبینہ طور پر ایک تھیلی میں منشیات ارمغان کو دی اور اس کے بعد ارمغان اشتعال میں آیا اور ان کی آپس میں تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد ارمغان نے لوہے کی سلاخ سے مصطفیٰ کو پیٹنا شروع کردیا۔
شیراز کے مطابق ماشا اور انجلین 2 لڑکیاں تھیں جن کی وجہ سے مصطفیٰ اور ارمغان کے مابین مسائل چل رہے تھے۔ یہ دونوں لڑکیاں ارمغان کے اس کال سینٹر میں کام کرتی تھیں جو ستمبر 2024 میں بند ہو چکا تھا۔ شیراز کے مطابق ارمغان نے نہ صرف مصطفیٰ کو شدید کا نشانہ بنایا بلکہ مار پیٹ کے دوران مصطفیٰ کے منہ پر ٹیپ لگا کرمصطفیٰ کے جسم کا نازک حصہ یعنی عضوئے نتناسل بھی کاٹ دیا جس کی ارمغان نے باقاعدہ تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائیں جو ارمغان کے موبائل کا ڈیٹا ملنے کے بعد سامنے آجائیں گی۔ اس کے بعد مصطفیٰ نیم بے ہوشی کی حالت میں گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب بلوچستان کے علاقے دوریجی لے جایا گیا جہاں شیراز کے مطابق ارمغان نے پیٹرول چھڑک کر مصطفیٰ کو آگ لگا دی۔
شیراز کے اس بیان کے بعدپولیس کو ارمغان کے گھر سے خون کے 2 نمونے ملے جن میں سے ایک کا سیمپل مصطفیٰ کی والدہ جبکہ دوسرا انجلین نامی لڑکی کے خون سے میچ ہوا۔ذرائع کے مطابق انجلین کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اسے ارمغان نے 6 جنوری کو اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور اس کا جنسی استحصال بھی کیا تھا جس کے بعد وہ ہسپتال میں داخل ہوگئی تھی۔ انجلین اور اس کے والد پر ارمغان نے دباؤ ڈالا تھا کہ ہسپتال والوں کو بول دینا کہ حادثہ ہوا تھا جس کے بعد انجلین کو آئن لائن ٹیکسی والے لے کر آئے لہٰذا انجلین کے والد نے اسپتال میں وہی بیان دیا اور بعد میں بیٹی کو لے کر وہاں سے چلے گئے جس کے بعد سے دونوں لاپتا ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ارمغان کے کال سینٹر میں لڑکیاں کام کرتی تھیں جن پر کام کے ساتھ ساتھ ارمغان کا دباؤ ہوتا تھا اور وہ ان میں سے کچھ لڑکیوں کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے میں بھی کامیاب ہوچکا تھا۔ ارمغان کے پاس پیسہ بھی تھا اور منشیات بھی جس کی وجہ سے لوگ اس کے آگے پیچھے گھومتے تھے۔
