کنٹینرز کے بعد پاکستانی تاجر بھی افغان سرحد پر پھنس گئے

پاک افغانستان کشیدگی کے بعد سرحدوں کی بندش کی وجہ سے سینکڑوں ٹرکوں اور کنٹینرز کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے 3ہزار سے زائد تاجر اور مزدور بھی سرحدوں پر پھنس گئے۔ پاک افغانستان تجارت کی بندش کی وجہ سے جہاں سرمایہ کاروں کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے وہیں دونوں ممالک کے تاجر سرحدوں علاقوں میں بے یار ومددگار شب وروز گزارنے پر مجبور ہیں سرحدوں پر پھنسے تاجروں اور مزدوروں کے ویزے ختم ہو چکے ہیں، خوراک، علاج اور رہائش جیسے بنیادی مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں، جبکہ سرحدی بندش کے باعث وہ اپنے اہلِ خانہ تک واپس پہنچنے سے بھی محروم ہیں۔ تاہم اس ساری صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ انسانی بحران جنم لینے کے باوجود اس حوالے سے دونوں ممالک کی متعلقہ اتھارٹیز کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر اور مربوط اقدام سامنے نہیں آ سکا، جس کا خمیازہ نہ صرف تاجر برادری بلکہ پورے خطے کی معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سرحد جہاں مکمل طور پر تجارت کے لیے بند ہے، وہیں سینکڑوں ٹرکوں اور کنٹینرز کے ساتھ ساتھ دونوں جانب کے تاجر اور مزدور بھی سرحدی علاقوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ سرحدی بندش نے محض تجارتی سرگرمیوں کو نہیں روکا بلکہ ہزاروں افراد کو ایک غیر یقینی اور کربناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ سرحدوں پر پھنسے ہوئے تاجروں کی واپسی کے لیے بظاہر کوششیں تو جاری ہیں، تاہم عملی پیش رفت نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتی ہے۔ اسی تناظر میں چمن چیمبر آف کامرس کا ایک وفد ان دنوں اسلام آباد کے دورے پر ہے، جبکہ دوسری جانب چمن کے قبائلی عمائدین اور تاجروں پر مشتمل جرگہ صوبائی سطح پر دروازے کھٹکھٹا رہا ہے۔ اس کے باوجود سرحد پر موجود ہزاروں افراد کی مشکلات جوں کی توں برقرار ہیں۔
اندازوں کے مطابق دونوں جانب تقریباً تین ہزار تاجر پھنسے ہوئے ہیں، جن میں لگ بھگ بارہ سو پاکستانی اور اٹھارہ سو افغان شہری شامل ہیں۔ ان افراد کے ویزے ختم ہو چکے ہیں، روزگار معطل ہے جبکہ ان افراد کی اپنے گھروں تک واپسی بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہی ہے،تاہم اس انسانی مسئلے پر حکومتی سطح پر کوئی ہنگامی لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ سرحدی بندش کے نتیجے میں نہ صرف پاک افغان تجارت مفلوج ہو چکی ہے بلکہ پاکستان کی وسطی ایشیا تک رسائی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے، جس کے اثرات براہِ راست ملکی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔
طورخم اور چمن جیسے اہم تجارتی راستوں کی بندش کے باعث دونوں اطراف سامان سے بھرے کنٹینرز کھڑے ہیں، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں شدید خلل پیدا ہو چکا ہے۔ وزارت تجارت کے حکام کے مطابق پاکستان کی بندرگاہوں پر وسطی ایشیائی ممالک کے کنٹینرز بھی رکے ہوئے ہیں، جنہیں متبادل طور پر ایران یا چین کے راستے منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ بعض ممالک کو ہوائی راستے کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلے وقتی حل تو ہو سکتے ہیں مگر خطے میں پاکستان کی تجارتی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
چمن چیمبر آف کامرس کا دس رکنی وفد سرحدی بندش، تجارتی تعطل اور ہزاروں افراد کی بے روزگاری کے مسئلے پر اسلام آباد، لاہور اور پشاور کے دوروں میں مصروف ہے۔ وفد کے صدر عبدالنافع ادوزئی نے بتایا کہ سرحدی جھڑپوں اور اس کے نتیجے میں مسلسل بندش نے نہ صرف تاجروں بلکہ قومی معیشت کو بھی اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کی بندش کے باعث ہزاروں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ پاکستانی تاجروں کو بھی بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
کیا جسٹس جہانگیری کی جعلی ڈگری اصلی بھی ثابت ہو سکتی ہے؟
عبدالنافع ادوزئی کے مطابق سرحدی بندش نے پاکستانی صنعت کو بھی شدید متاثر کیا ہے، خصوصاً کیلا، کینو، مالٹا اور چاول جیسی زرعی مصنوعات کے ساتھ سیمنٹ، پلاسٹک مصنوعات اور فارماسیوٹیکل سیکٹر کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تقریباً تین ہزار افغان اور پاکستانی تاجر قانونی طور پر پاسپورٹ اور ویزے پر ایک دوسرے کے ملک آئے تھے، مگر بارڈر بند ہونے کے باعث دونوں جانب پھنس گئے ہیں اور ان کے ویزے بھی ختم ہو چکے ہیں۔ وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان افراد کی فوری واپسی کے لیے ہنگامی اور خصوصی اقدامات کیے جائیں۔عبدالنافع ادوزئی نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے لچک اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے کیونکہ جنگ اور تصادم مسائل کا حل نہیں، مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، بصورت دیگر اس کا خمیازہ دونوں ممالک کی معیشتوں کو طویل عرصے تک بھگتنا پڑے گا۔
