ٹرمپ کے پاگل پن نے پاکستانی عوام کی چیخیں کیسے نکلوائیں؟

 

 

 

امن کا نوبل انعام جیتنے کے خواہش مند ٹرمپ کی ایران مخالف مہم جوئی کے نتیجے میں دنیا بھر کی طرح تیل کے بحران کے اثرات پاکستان بھی پہنچ گئے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث حکومت پاکستان نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55، 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں عوام شدید پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔

 

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اتنے بڑے اضافے نے مہنگائی کے ستائے پاکستانی عوام کی چیخیں نکال دی ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کیا جا رہا ہے۔

 

اس اضافے کے بعد ملک میں پیٹرول کی نئی قیمت 321.17 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق جو آگ پاکستان کے پڑوس میں بھڑکی تھی وہ اب پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اور اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ علی پرویز ملک نے یقین دہانی کرائی کہ جیسے ہی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی حکومت اس اضافے پر نظرِ ثانی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں ردوبدل کر کے عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کا تقریباً 28 روز کا ذخیرہ موجود ہے تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ بحران کب تک جاری رہے گا۔ ان کے مطابق حکومت اور عوام دونوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے توانائی کے استعمال میں احتیاط برتنا ہو گی۔

 

یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں حملوں کے بعد تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، وہاں کئی آئل ٹینکرز رکے ہوئے ہیں جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق ملک کی توانائی کی زیادہ تر درآمدات اسی آبی راستے کے ذریعے ہوتی ہیں۔ تاہم سعودی عرب نے پاکستان کے لیے متبادل راستوں کے ذریعے تین آئل ٹینکر بھیجنے کا انتظام کیا ہے تاکہ سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔

 

حکومت نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو پیٹرول پمپ مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ملوث پایا جائے اس کا لائسنس فوری منسوخ کر کے اسے بند کر دیا جائے۔

ادھر وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بتایا کہ توانائی کی کھپت کم کرنے کے لیے حکومت مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اجلاسوں کو محدود کیا جائے گا، غیر ضروری سرکاری سفر کم کیے جائیں گے جبکہ بعض سرکاری اداروں میں ورک فرام ہوم کی سہولت بھی متعارف کروانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں اور دفاتر میں ہفتے کے تین یا چار دن ورک فرام ہوم کی پالیسی بھی زیر غور ہے جبکہ سرکاری میٹنگز کو آن لائن منتقل کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات توانائی کی بچت کے لیے ہوں گے تاہم معیشت کو بند نہیں کیا جائے گا۔

 

دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ توانائی کی مصنوعات کا پاکستان کی معیشت سے براہ راست تعلق ہے اور حکومت اس کے مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور دیگر معاشی شعبوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں توانائی کے استعمال کا بہتر انتظام کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

 

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن یاسر گلزار کا کہنا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں معمول کے مطابق پیٹرول پمپس کو سپلائی فراہم کر رہی ہیں تاہم غیر یقینی صورتحال کے باعث لوگ ضرورت سے زیادہ پیٹرول اور ڈیزل خرید رہے ہیں جس سے بعض مقامات پر دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق جو موٹر سائیکل سوار پہلے سو روپے کا پیٹرول ڈلواتا تھا وہ اب پانچ سو روپے کا ڈلوا رہا ہے جبکہ گاڑی مالکان بھی ٹینک فل کروا رہے ہیں جس سے مارکیٹ میں طلب بڑھ گئی ہے۔

اسرائیل ایران جنگ کی وجہ سے بلوچستان میں پیٹرول کی قیمت ڈبل ہو گئی

انرجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ طویل ہو گئی اور آبنائے ہرمز سے تجارت متاثر رہی تو پاکستان کو آئندہ مہینوں میں تیل کی رسد کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک سعودی عرب اور قطر پر انحصار کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والے تیل کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ سعودی عرب سے آتا ہے جبکہ کچھ مقدار کویت اور ابو ظہبی سے درآمد کی جاتی ہے۔ اگر سپلائی میں خلل پیدا ہوا تو متبادل ذرائع سے تیل درآمد کرنا ممکن تو ہے مگر اس کی قیمت زیادہ ہو گی جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑے گا۔ معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ملک میں مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ پاکستان میں تیل کی تقریباً 80 فیصد کھپت ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کرایوں، اشیائے خورونوش کی ترسیل، صنعتی پیداوار اور دیگر اقتصادی سرگرمیوں کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 

انکا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو پاکستان میں مہنگائی کا دباؤ مزید شدید ہونے کا خدشہ ہے اور عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Back to top button