پاکستانی نوجوان مسافر ایف آئی اے کے ریڈار پر کیسے آئے؟

 

 

 

وزارتِ داخلہ کی ہدایات پر ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام اور ایجنٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے ملک بھر کے ائیرپورٹس پر سختیاں مزید بڑھا دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یورپی اور خلیجی ممالک کی جانب سے انسانی سمگلنگ کے بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث بیرونِ ملک سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کی سخت اسکروٹنی شروع کر دی گئی ہے۔ جس کے بعد لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت مختلف ہوائی اڈوں سے روزانہ سینکڑوں مشکوک پاکستانی مسافروں کی آف لوڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق خاص طور پر پنجاب کے پانچ اضلاع سے تعلق رکھنے والے 20 سے 25 برس کے نوجوانوں کو ایف آئی اے امیگریشن کے آئی بی ایم ایس کے رسک اینالیسز مینجمنٹ سسٹم میں شامل کر لیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بالخصوص کراچی اور لاہور ایئرپورٹ پر آف لوڈنگ کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیرِ داخلہ حسن نقوی کے ائیرپورٹس کے ہنگامی دورے اور مسافروں کی دستاویزات کی خود جانچ پڑتال بھی اسی دباؤ کا تسلسل ہے، تاکہ امیگریشن عملہ مکمل طور پر الرٹ رہے۔

 

خیال رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کے مختلف ائیر پورٹس پر امیگریشن چیکنگ میں غیر معمولی سختی اور نوجوان مسافروں کی بڑی تعداد کی آف لوڈنگ نے ملک بھر میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ بظاہر یہ کارروائیاں وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اچانک دوروں اور امیگریشن ڈیسک پر براہِ راست نگرانی کے نتیجے میں سامنے آئی ہیں، تاہم ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز کے باخبر ذرائع اس پورے عمل کے پس منظر میں سنگین سفارتی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ دباؤ صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں بلکہ یورپ اور بعض افریقی ریاستوں نے بھی اسلام آباد پر سخت اقدامات کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ گزشتہ برسوں میں غیر قانونی پاکستانی مسافروں کے بڑھتے ہوئے واقعات، بحیرہ روم میں کشتیوں کے ہولناک حادثات اور یورپ و افریقہ میں غیر قانونی داخلوں کے بعد ہزاروں پاکستانیوں کی جبری ملک بدریوں نے عالمی سطح پر پاکستان کے امیگریشن اور نگرانی کے نظام کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔

 

اسی پس منظر میں مختلف ممالک نے اپنی شکایات سفارتی سطح پر تحریری طور پر پاکستان کے ساتھ شیئر کیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق سمیت کم از کم ایک درجن خلیجی و مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے پاکستان کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ عمرہ، حج، زیارت یا وزٹ ویزوں پر آنے والے کئی پاکستانی ان کے ملکوں میں "سلپ” ہو کر گداگری، غیر قانونی مزدوری یا دیگر مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف ان ممالک کے داخلی نظم و نسق کو متاثر کیا ہے بلکہ یہ صورتحال پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا باعث بھی بنی۔

 

ان تسلسل سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد وزارتِ داخلہ نے گزشتہ دو برس میں ایف آئی اے امیگریشن ونگ کو متعدد سخت ہدایات جاری کیں۔ ان میں سفری دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ پڑتال، وزٹ ویزوں پر سفر کرنے والے نوجوانوں کی خصوصی نگرانی، اور امیگریشن کے آئی بی ایم ایس میں رسک مینجمنٹ سسٹم کی ازسرِنو تشکیل شامل ہے۔ ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی اہم میٹنگز میں فیصلہ کیا گیا کہ جن ممالک میں پاکستانی مسافر سب سے زیادہ "سلپ” ہوتے ہیں، ان کے لیے ہائی رسک پروفائلز تیار کیے جائیں۔ اسی تناظر میں پنجاب کے اضلاع منڈی بہاؤالدین، گجرات، جہلم، میرپور، گوجرانوالہ اور ملحقہ علاقوں کے 20 سے 25 سال عمر کے وزٹ ویزا ہولڈرز کے لیے سخت ترین سکروٹنی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ جس کے بعد گزشتہ چند مہینوں میں خاص طور پر لاہور اور کراچی ایئرپورٹس سے بڑی تعداد میں ایسے نوجوان مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا جن کی سفری دستاویزات بظاہر درست تھیں، مگر امیگریشن حکام کے مطابق ان کے بیرون ملک سلپ ہونے کے خدشات موجود تھے جس کے بعد ایسے مشکوک مسافروں کو بیرون ملک سفر سے روکا جا رہا ہے۔

آئینی عدالت میں بھاری تنخواہوں پر خلاف قانون تعیناتیاں

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ جعلی یا غیر مصدقہ سفری دستاویزات پر سفر کرنے والے افراد نہ صرف پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ہمارے لیے نئے مسائل پیدا کرتے ہیں ۔ ایجنٹ مافیا پیسوں کے لالچ میں معصوم نوجوانوں کے مستقبل سے کھیل رہا ہے، ایسے عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی ۔ ذرائع کے بقول وزیر داخلہ نے ایئر پورٹ پر موجود تمام اداروں کو ہدایت کی کہ مسافروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے، تاہم غیر قانونی یا مشکوک دستاویزات رکھنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس برقرار رکھی جائے۔

مبصرین کے مطابق ائیرپورٹس پر بڑھتی ہوئی سختیوں کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ خلیجی و یورپی ممالک کے دباؤ کے نتیجے میں پاکستان نے جو سخت اقدامات شروع کیے ہیں، کیا یہ واقعی انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی سفر کو روکنے میں موثر ثابت ہوں گے یا پھر یہ سختیاں ایک نئے سماجی اور انتظامی فساد کو جنم دیں گی جہاں ہزاروں قانونی مسافر بھی بلا وجہ رکاوٹوں کا شکار ہوں گے۔ مبصرین کے بقول حکومت کو انسانی اسمگلنگ کے خلاف سختی ضرور کرنی چاہیے لیکن اس عمل کو شفاف ، یکساں اور غیر امتیازی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ بصورت دیگر ایسے اقدامات ملک کے اندر ہی نئے تضادات کو جنم دے سکتے ہیں۔

 

Back to top button