اسلاموفوبیاکاسامناکرنے کےباوجودزہران ممدانی میئرکیسےبنے؟

مئیر کے عہدے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بعد سے مسلسل اسلاموفوبیا کا سامنا کرنے والے ظہران ممدانی بالآخر نیویارک کے پہلے مسلمان مئیر بننے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ نیویارک میں حالیہ مئیر کے الیکشن میں بطور مسلمان سیاستدان ظہران ممدانی کو اسلاموفوبیا اور امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑا مسلمان ہونے کی وجہ سے نہ صرف ان پر دہشتگردی اور شدت پسندی کے الزامات عائد کئے گئے بلکہ انھیں مسلمان جنونی تک قرار دیا گیا تاہم عوامی حمایت، عزمِ مصمم اور ثابت قدمی کے باعث وہ اپنے مدمقابل ارب پتی امیدواروں کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ظہران ممدانی کی کامیابی نہ صرف ان کی سیاسی جدوجہد کی علامت ہے بلکہ امریکی معاشرے میں تنوع اور برداشت کی بڑھتی ہوئی قبولیت کی عکاس بھی ہے۔ ظہران ممدانی کی جیت ان لاکھوں مسلمانوں کے لیے امید کی کرن ہے جو امریکی معاشرے میں اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ مبصرین کے مطابق ظہران ممدانی طویل عرصے سے نیویارک میں سماجی انصاف، مساوات، سستے رہائشی منصوبوں اور تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ ان کی انتخابی مہم کا مرکزی نعرہ بھی“روٹی، کپڑا اور مکان اور سب کے لیے نیویارک” تھا، جس نے مختلف نسلوں اور برادریوں کے ووٹروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ انتخابی عمل کے دوران ممدانی کو کئی بار سوشل میڈیا اور عوامی تقریبات میں اسلام مخالف تبصروں، سیاسی حملوں اور نفرت انگیز رویوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ہر موقع پر صبر و تحمل اور مثبت مکالمے کے ذریعے اپنی پالیسیوں پر توجہ مرکوز رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ “میں اپنی شناخت چھپانے نہیں آیا، بلکہ یہ دکھانے آیا ہوں کہ مسلمان بھی اس شہر کی خدمت کر سکتے ہیں۔”

انتخابی مہم کے دوران ممدانی کو سوشل میڈیا پر دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑنے کی کوششیں کی گئیں۔ بعض حلقوں نے 11 ستمبر کے واقعات کی تصاویر شیئر کر کے عوامی خوف کو ابھارنے کی کوشش کی، جبکہ کچھ نے ان کے فلسطین کے حامی مؤقف کو یہود دشمنی سے تعبیر کیا۔ حتیٰ کہ عوامی تقریبات اور مباحثوں میں بھی ان کے مذہب کو ہدف بنایا گیا۔ ان کے مخالف امیدوار اینڈریو کومو کے حامیوں نے 9/11 کی تباہ شدہ عمارتوں کی تصاویر کے ساتھ اشتہارات شائع کیے جن میں لکھا گیا: “کبھی نہ بھولنا، ووٹ دو اینڈریو کومو کو اور شہر کو بچاؤ۔”

دوسری جانب اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ نے ممدانی کو دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے سخت سرخیوں کا استعمال کیا، جیسے ’حماس کا تباہی کا ہتھیار۔‘ اسی طرح ممدانی کے مدمقابل امیدوار کومو نے خود ایک انٹرویو میں پوچھا کہ ’کیا ایک اور نائن الیون کے ہونے پر کوئی ممدانی کو میئر کے عہدے پر تصور کر سکتا ہے؟‘

اسی طرح انتخابی مہم کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو ظہران ممدانی پر نکتہ چینی کی انتہا کر دی اور انھیں شدت پسند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممدانی ایک کمیونسٹ ہے۔ ممدانی کا انتخاب نیویارک کے لیے بہت بُری بات ہے۔ صدرٹرمپ کے اس بیان کو وسیع پیمانے پر اسلاموفوبک اور امتیازی قرار دیا گیا۔ تاہم ممدانی نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ حملے ان کے مذہب یا پس منظر پر نہیں بلکہ اس لیے ہو رہے ہیں کہ وہ عام لوگوں، مزدور طبقے اور پسماندہ کمیونٹیز کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود ممدانی نیویارک کا مئیر کیسے بنا؟

ظہران ممدانی کی ٹیم میں درجنوں مسلمان شامل ہیں، جنہوں نے نفرت کا سامنا کیا۔ اس کی ایک وجہ ممدانی کا فلسطین کا حامی ہونا ہے۔ تاہم ممدانی کے ناقدین نے انہیں نہ صرف یہود دشمن قرار بلکہ بل ایکمین اور مائیکل بلومبرگ جیسے ممتاز ارب پتیوں نے ان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اپنے وسائل مختص کر دئیے۔ اسی طرح پرائمری الیکشن کے دوران پرو-کومو گروپ نے ممدانی کی داڑھی کو گہرا اور گھنا کرنے والی میمز بنائیں۔ یہاں تک کے مد مقابل امیدواروں نے ٹی وی مباحثوں کے دوران ان پر مسلمان ہونے کی وجہ سے دہشت گردی کی حمایت تک کے الزام لگائے۔ تاہم اپنی کامیابی کے بعد ممدانی کا ایک مسجد کے باہر مسلمانوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ وہ ہر اس شخص کے لیے کھڑے ہوں گے جسے تعصب کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 9/11 کے بعد وہ خود نسلی پروفائلنگ کا شکار ہوئے تھے، ان کی ایک رشتہ دار نے حجاب پہننے سے خوف محسوس کیا، یہاں تک کہ ان کی ٹیم کے رکن کے گھر کے باہر “دہشت گرد” کے الفاظ اسپرے پینٹ سے لکھے گئے۔ ممدانی کے مطابق:“اگر آپ نیویارک میں مسلمان ہیں، تو آپ کو بے عزتی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوتا ہے۔ لیکن یہی برداشت اور صبر ہماری اصل طاقت ہے۔”

مبصرین کے مطابق نیویارک میں مسلم امیدوار کے طور پر ظہران ممدانی کی کوششوں اور ان پر ہونے والے حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ اسلاموفوبیا ایک حقیقی اور مستقل چیلنج بن چکا ہے، ایسے میں ممدانی کی جیت کو نیویارک میں مقیم لاکھوں مسلمان اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ تاہم بعض دیگر مبصرین کے بقول ممدانی کی فتح حقیقت میں امریکہ میں بڑھتی ہوئی مذہبی برداشت اور تنوع کی قبولیت کا مظہر ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، ممدانی کی کامیابی نیویارک کی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات ہے جہاں نسل، مذہب اور ثقافت سے بالاتر ہو کر عوامی خدمت کو اصل معیار سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ظہران ممدانی کا انتخاب امریکہ میں مسلم کمیونٹی کی سیاسی نمائندگی کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، جو مستقبل میں دوسرے شہروں اور ریاستوں میں بھی اثر انداز ہوگا۔

 

Back to top button