بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے حملوں کے لیے زندہ کیسے ہو جاتے ہیں؟

بلوچستان سے لاپتا ہونے والے افراد کا مسئلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین تر ہوتا چلا جا رہا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سارے لوگ ایسے ہیں جنہیں پہلے لاپتا قرار دیا جاتا ہے لیکن بعد میں وہ سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔
گزشتہ 10 برس سے مسلسل انسانی حقوق کے ادارے، بلوچ سیاسی قیادت اور لاپتہ افراد کے خاندان ریاستی اداروں پر بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کے الزامات عائد کرتے آ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف حکومت اور سکیورٹی ادارے اس مسئلے کو سکیورٹی تناظر میں دیکھنے پر زور دیتے آ رہے ہیں۔ حال ہی میں لاہور میں منعقدہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما اختر مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایک سنگین سیاسی بحران سے گزر رہا ہے اور لاپتا افراد کا مسئلہ اس کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے اپنے بھائی اسد اللہ مینگل کی دہائیوں پرانی گمشدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کیس کی اب تک ریاستی سطح پر شفاف تحقیقات نہیں ہو سکیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ دو دہائیوں سے زیر بحث ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق متعدد افراد کو سکیورٹی فورسز یا خفیہ اداروں کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے کے بعد عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا اور اہل خانہ کو بھی آگاہ نہیں کیا جاتا۔ اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ ان کے پیارے سیاسی کارکن یا طلبہ تھے جنہیں بغیر قانونی کارروائی کے اٹھایا گیا۔ مختلف احتجاجی کیمپ، لانگ مارچ اور عدالتوں میں درخواستیں اسی پس منظر میں دائر کی جاتی رہی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا مؤقف یہ ہے کہ بلوچستان میں مسلح علیحدگی پسند تنظیمیں سرگرم ہیں، جن میں سرفہرست بلوچ لبریشن آرمی شامل ہے۔ حکومت کے مطابق متعدد ایسے کیس سامنے آئے ہیں جہاں کسی فرد کو اہل خانہ کی جانب سے ’’لاپتا‘‘ قرار دیا گیا، مگر بعد ازاں وہ عسکریت پسند تنظیموں میں شامل پایا گیا۔
اس دوران کچھ مشہور کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں ابتدا میں لاپتہ قرار دیے گے افراد بعد میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث پائے گئے۔ مثال کے طور پر طیب بلوچ اپریل 2024 میں لاپتا قرار دیا گیا مگر اگست میں بیلا میں ایف سی کیمپ پر خود کش حملے میں ملوث نکلا۔ اسی طرح ایک اور لاپتہ شخص کریم جان نے مارچ 2024 میں گوادر پورٹ اتھارٹی پر حملہ کیا، اسی طرح لاپتہ قرار دیے گے عبدالودود سٹکزی نے جنوری 2024 میں مچھ شہر پر حملے میں حصہ لیا۔ یہ سب ایسے افراد تھے جنہیں ابتدا میں انکے خاندانوں کی جانب سے گمشدہ قرار دیا گیا تھا مگر بعد میں عسکریت پسندی میں ملوث پایا گیا۔
حکومتی بیانیے کے مطابق بعض بلوچ قوم پرست خود زیر زمین چلے جاتے ہیں اور مسلح گروہوں میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں، اور جب سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو جاتے ہیں تو ان کی شناخت لاپتا افراد کے طور پر ہوتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کچھ لوگ دراصل غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے، اور بعد میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں سامنے آئے۔ لاپتا افراد کے مسئلے کی تحقیقات کے لیے وفاقی سطح پر کمیشن بھی قائم کیا جا چکا ہے، جس کا مقصد جبری گمشدگیوں کی شکایات کی جانچ اور ممکنہ بازیابی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ کمیشن کی کارکردگی محدود ہے اور شفافیت کا فقدان ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ہزاروں کیسوں میں بڑی تعداد کو ٹریس کیا جا چکا ہے اور کچھ کیس ایسے بھی ہیں جہاں افراد افغانستان یا دیگر علاقوں میں مسلح سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔
تحریک طالبان کی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن کیوں نہیں ہو پایا؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں لاپتا افراد کا معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ ایک طرف متاثرہ خاندان انصاف اور معلومات کا مطالبہ کرتے ہیں، تو دوسری طرف ریاست اسے قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس مسئلے کا پائیدار حل شفاف تحقیقات، پارلیمانی نگرانی، اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ممکن ہے۔ جب تک ریاستی بیانیہ اور متاثرہ خاندانوں کے مؤقف کے درمیان خلیج کم نہیں ہوتی، بلوچستان میں بداعتمادی کی فضا برقرار رہنے کا خدشہ رہے گا۔
