آئی ایم ایف کا سستا قرض عوام کو کتنا مہنگا پڑنے والا ہے؟

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے 7 ارب ڈالر سستے قرض کی منظوری جلد عوام کو مہنگی پڑنے والی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف نے قرض کی منظوری کے ساتھ حکومت سے ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے گیس اور بجلی پر سبسڈی ختم کرنے اور قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کر دیا ہے جس کے بعد 7 ارب ڈالر سے معیشت کا سنبھلنا تو کجا عوام کو مہنگائی کے نئے طوفان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے بدھ کو ہونے والے بورڈ کے اجلاس میں پاکستان سے ہونے والے سٹاف لیول ایگریمنٹ کی منظوری دی گئى ہے۔آئی ایم ایف کے 37 ماہ کے اس نئے قرض پروگرام میں پاکستان کو مجموعی طور پر 5 فیصد سے کم شرح سود پر سات ارب ڈالر ملیں گے۔اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے گورنر کے مطابق ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط جلد پاکستان کو موصول ہو جائے گی۔ جبکہ معاہدے سے دوست ممالک کی جانب سے بھی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر قرض سے ملکی معیشت مستحکم  ہو سکتی ہے؟ کیا پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھا پائے گا؟

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض انتہائی کڑی شرائط پر ملا ہے۔ آمدنی بڑھانے کے لیے آئى ایم ایف پہلے ہی پاکستان کو زراعت، ریٹیل اور ایکسپورٹ کے شعبوں کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانےکاکہہ چکا ہے۔ جبکہ قرض کی منظوری کے بعد مزید شرائط سامنے آنے والی ہیں جو مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کا جوس نکال دینگی۔ماہرین کے مطابق پاکستان کو 24 واں آئی ایم ایف پروگرام ملنے سے ایک اور موقع مل رہا ہے کہ وہ اپنے پرانے اور دائمی معاشی مسائل کو اصلاحات کے ذریعے حل کرے۔ معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پاکستان کو معیشت کے تمام شعبوں خصوصاً محصولات کی وصولی اور اخراجات میں کفایت شعاری اختیار کرنے، توانائی، پینشن اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں میں اصلاحات متعارف کرانے کا ایک بار پھر موقع مل رہا ہے پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

معاشی ماہرین کے بقول حکومت کو ٹیکس اہداف کے حصول میں مسلسل ناکامی کا سامنا ہے ایسے میں آئی ایم ایف کی جانب سے آمدن بڑھانے کے حوالے سے حکومت پر دباو مزید بڑھ گیا ہے۔ اس لئے ٹیکس ہدف پورا نہ کرنے کی صورت میں حکومت منی بجٹ متعارف کروا سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس سے عام پاکستانیوں کی زندگی اور بھی مشکل ہو جائے گی۔ماہرین معیشت کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے بجلی، گیس کی قیمتیں بڑھنے کے علاوہ حکومت اپنا خسارہ پورا کرنے کے لیے مزید ٹیکس بھی عائد کرسکتی ہے۔تاہم اگر آئی ایم ایف پروگرام پر من و عن عمل درآمد کیا جائے تو اس کے مثبت اثرات آنے والے وقت میں ملک کو معاشی استحکام بھی دلا سکتے ہیں۔

Back to top button