اسلام آباد کے سیف سٹی کیمرے سیکیورٹی رسک کیسے بن گئے؟

اسلام آباد کے سیف سٹی کیمروں میں اسرائیلی کمپنیوں کے تیارکردہ سافٹ ویئر کے استعمال کے انکشاف نے سنگین سیکیورٹی خدشات پیدا کر دئیے ہیں۔ ناقدین کے مطابق سیف سٹی کیمروں میں استعمال ہونے والے متعدد سافٹ ویئرزاسرائیلی کمپنیوں سے منسلک ہیں جو نہ صرف حساس معلومات کے تحفظ بلکہ وی وی آئی پیز کی نقل و حرکت کے حوالے سے بھی ممکنہ سیکیورٹی خطرہ بن سکتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے اس اہم ترین سیکیورٹی نظام میں غیر ملکی اور متنازعہ کمپنیوں کے سافٹ ویئر کے استعمال نے قومی سلامتی کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ سیف سٹی کیمروں کا نظام مکمل طورپر محفوظ ہے، سائبر حملوں سے بچاؤ کیلئے جدید فائر وال نصب ہے جبکہ وی وی آئی پیز کی نقل و حرکت کیلئے الگ سیکیورٹی پروٹوکولز بھی موجود ہیں، اس لئے اسلام آباد سیف سٹی کے کیمروں کو سیکیورٹی رسک قرار دینا درست نہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد سیف سٹی منصوبہ 2009 میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں نگرانی کے جدید نظام کے ذریعے جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں شہر کے مختلف علاقوں میں 1300 سے زائد کیمرے نصب کئے گئے تھے جو ٹریفک مینجمنٹ، جرائم کی نگرانی اور حساس مقامات کی سیکیورٹی کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نظام میں مزید جدید سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی شامل کی گئی، تاہم اب ان سافٹ ویئرز کی اصل اسرائیلی کمپنیوں اور ان کے ممکنہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سیف سٹی کیمروں کو سیکیورٹی رسک قرار دینے کا معاملہ پارلیمنٹ میں بھی پہنچ گیا ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے بھی اسلام آباد سیف سٹی منصوبے کی سیکیورٹی پر سخت سوالات اٹھادئیے ہیں کمیٹی کے ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ سیف سٹی نظام میں استعمال ہونے والے متعدد سافٹ ویئر اسرائیلی کمپنیوں سے منسلک ہیں جو وی وی آئی پیز کی نقل و حرکت کیلئے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ کے مطابق سیف سٹی کیمروں میں استعمال ہونے والے کئی سافٹ ویئر اسرائیل کے بنائے ہوئے ہیں اور ایسی صورت میں حساس معلومات کے تحفظ پر سوالات پیدا ہوتے ہیں، اس لئے نظام میں فزیکل ہارڈ ویئر سسٹم لانے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں تحقیقات کے دوران معلوم ہوا تھا کہ سیف سٹی منصوبے سے منسلک ایک کمپنی بظاہر ترکیہ میں قائم تھی مگر دراصل اسرائیلی تھی اور اس دوران سیکیورٹی حکام نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ ڈپلومیٹک انکلیو سے وزیر اعظم ہاؤس کی مانیٹرنگ ہو رہی تھی۔ اس موقع پر ڈی جی سیف سٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ کیمروں کا نظام محفوظ ہے اور سائبر حملوں سے بچاؤ کیلئے فائر وال نصب ہے جبکہ وی وی آئی پیز کی نقل و حرکت کیلئے الگ سیکیورٹی پروٹوکولز موجود ہیں۔ تاہم کمیٹی نے سیف سٹی میں نصب تمام سافٹ ویئرز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے تکنیکی ٹیم سے بریفنگ بھی مانگ لی ہے۔

دوسری جانب سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق حساس سیکیورٹی نظام میں غیر ملکی سافٹ ویئر کے استعمال کے ہمیشہ کچھ نہ کچھ خطرات موجود رہتے ہیں۔ اگر کسی سافٹ ویئر کے سورس کوڈ یا اس کی اپ ڈیٹس بیرونی کمپنیوں کے کنٹرول میں ہوں تو نظریاتی طور پر متعلقہ کمپنیاں اس کے ذریعے معلومات تک رسائی کے ساتھ ساتھ سسٹم کو متاثر بھی کر سکتی ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید نگرانی کے نظام اکثر مختلف عالمی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی پر مشتمل ہوتے ہیں، اس لئے مکمل طور پر مقامی ٹیکنالوجی کا استعمال ہر ملک کیلئے آسان نہیں ہوتا، تاہم حساس نظاموں میں سخت سائبر سیکیورٹی آڈٹ اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ حالیہ عرصے میں دنیا کے مختلف ممالک میں نگرانی کے نظام اور ٹریفک کیمروں پر سائبر حملوں کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں جس کے بعد ایسے نظاموں کی سیکیورٹی پر بحث میں اضافہ ہوا ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانے کیلئے صرف ہارڈ ویئر ہی نہیں بلکہ سافٹ ویئر کے ماخذ، ڈیٹا کے تحفظ اور نیٹ ورک سیکیورٹی کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔

ایران کے بعد اسرائیل کا اگلا ٹارگٹ پاکستان کیوں ہوسکتا ہے؟

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سیف سٹی سسٹم کو سائبرحملوں سے محفوظ بنانے کیلئے فائر وال سمیت متعدد حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔ ان کے مطابق وی وی آئی پیز کی نقل و حرکت کے حوالے سے الگ پروٹوکولز اور محدود رسائی کا نظام نافذ ہے، جس کی وجہ سے سیکیورٹی کیمروں کے ذریعے ڈیٹا کی لیکج کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ایسے میں سیف سٹی کیمروں کے ذریعے حساس معلومات کے لیک ہونے یا سیکیورٹی خطرات کے خدشات کو بڑھا چڑھا کرنابعید از قیاس اور لغو بحث ہے۔

تاہم سائبرسیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیف سٹی کیمروں جیسے حساس منصوبوں میں شفافیت، تکنیکی آڈٹ اور پارلیمانی نگرانی انتہائی اہم ہوتی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت شناخت کر کے اسے دور کیا جا سکے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے سیکیورٹی کے نظام بہتر ہوتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کے تحفظ، سافٹ ویئر کے ماخذ اور سائبر دفاعی نظام کو بھی مسلسل مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اسلام آباد سیف سٹی سسٹم کی سیکیورٹی کے حوالے سے جاری بحث نے اس بات کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے کہ جدید نگرانی کے نظام صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، سائبر تحفظ اور عوامی اعتماد سے بھی جڑا ہوا ایک حساس موضوع ہے۔ ایسے میں ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کو اس نظام کی مکمل تکنیکی جانچ، سافٹ ویئر کے ماخذ کی شفاف وضاحت اور سائبر سیکیورٹی کے مضبوط انتظامات کے ذریعے عوام اور اداروں کے خدشات دور کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔

Back to top button