پاکستان میں بنگلہ دیش کا سیاسی ماڈل آنے کا کتنا امکان ہے؟

پاکستان میں الیکشن 2024 سے قبل بنگلہ دیش کے سیاسی ماڈل کو اپنانے کی سنجیدہ کوششیں کی گئیں، تاہم ڈھاکہ میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں نے یہ منصوبہ الٹا کر رکھ دیا۔ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں یہ دعوی کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جنرل فیض حمید کی زیر قیادت سابق انٹیلی جنس قیادت پاکستان میں ’بنگلہ دیشی ماڈل‘ لانے کی خواہاں تھی، مگر جس طرح بنگلہ دیش نے خود حسینہ واجد ماڈل کو ختم کر کے نئی سمت اختیار کی، اس نے اسلام آباد میں موجود سوچ کو بھی متاثر کیا۔
سہیل وڑائچ کے بقول، 2024ء میں پاکستان میں جو سیاسی غلطی عسکری فیصلہ سازوں سے سرزد ہوئی، بنگلہ دیش نے اسے دہرانے سے گریز کیا اور انتخابی حکمت عملی مختلف انداز میں ترتیب دی۔ بنگلہ دیش کو پاکستان سے الگ ہوئے 55 برس بیت چکے، مگر دونوں ملکوں کے سیاسی اور نفسیاتی تعلقات آج بھی قائم ہیں۔ سہیل وڑائج کے مطابق ڈھاکہ میں آنے والی ہر بڑی سیاسی و سماجی تبدیلی پاکستان کے پالیسی سازوں اور رائے عامہ پر اثرانداز ہوتی ہے۔ انکے مطابق غیر جانبدار نگران حکومت کا تصور بھی دراصل ڈھاکہ کے تجربے سے متاثر ہو کر پاکستان آیا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بنگلہ دیش اس ماڈل سے دستبردار ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں یہ نظام آئینی طور پر تاحال موجود ہے، اور آئندہ مجوزہ ترامیم میں 1973ء کا اصل پارلیمانی نظام بحال کرنے پر غور کی اطلاعات ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق پاکستان میں الیکشن 2024 میں سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کے امیدواروں کو انتخابی نشان کے بغیر الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی، لیکن اسکے باوجود انتخابی نتائج فوجی فیصلہ سازوں کے اندازوں سے مختلف نکلے اور سیاسی صورت حال پیچیدہ ہو گئی۔
اسکے برعکس بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر پابندی لگا کر انتخابات کروائے گئے اور خالدہ ضیا کی جماعت کو کامیابی دلوا کر سیاسی بحران کو قابو میں رکھا گیا۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے حالیہ الیکشن کو وہاں جمہوریت کی بحالی قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ 2018 اور 2024 کے پاکستانی انتخابات کی طرح قبولیت اور مقبولیت کا تنازع سامنے نہیں آیا، تاہم سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے نتائج پر وہی اعتراضات اٹھائے جو پاکستان میں تحریک انصاف نے 2024ء کے الیکشن کے بعد کیے تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بنگلہ دیش میں جمہوری و معاشی توازن برقرار رکھنا نئی قیادت کے لیے بڑا امتحان ہوگا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد نے ملکی معیشت کو چلانے کے لیے جمہوری روایات کو پس پشت ڈال دیا اور اپوزیشن رہنماؤں کو عدالتی کارروائیوں کے ذریعے سخت سزائیں دلوائیں، مگر تاریخ میں انتقام کا پہیہ ہمیشہ گھوم کر واپس آتا ہے۔ آج حسینہ واجد الیکشن 26 کے نتیجے میں خالدہ ضیا کی جماعت کے برسر اقتدار آ جانے سے اسی پہیے کی زد میں آ چکی ہیں اور ان کے مخالفین اقتدار میں ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی تاریخ کا تقابل کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک میں سیاسی انتقام کی روایت میں زیادہ فرق دکھائی نہیں دیتا۔ کبھی شیخ مجیب الرحمٰن اور ان کی جماعت کو اسلام آباد میں پٹ سن کی خوشبو سے تعبیر کیا جاتا تھا، مگر آج نہ وہ معاشی دور باقی رہا اور نہ وہ باہمی سرمایہ کاری۔ اسلام آباد میں حسین شہید سہروردی اور فضل الحق جیسے بنگالی رہنماؤں کی یادگاریں آج بھی موجود ہیں، جبکہ ڈھاکہ میں پاکستان سے وابستہ نام و نشان تقریباً مٹا دیے گئے ہیں۔
سینیئر اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں عالمی معیشت کا نقشہ بدل چکا ہے۔ کبھی پٹ سن مشرقی پاکستان کی شناخت تھا، آج کپاس اور ٹیکسٹائل صنعت مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل اور کاٹن انجینئرز بڑی تعداد میں بنگلہ دیش میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کی کپاس سے تیار ہونے والا کپڑا بنگلہ دیش کے ذریعے یورپ اور امریکا کو برآمد ہو رہا ہے، جو دونوں ملکوں کے درمیان ایک عملی معاشی ربط کی نشاندہی کرتا ہے۔ سہیل وڑائج کے مطابق بیرون ملک مقیم بنگالیوں کے پاکستان کے بارے میں خیالات میں حالیہ برسوں میں مثبت تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اس تبدیلی کی وجوہات میں خطے کی بدلتی سیاست اور بنگلہ دیش میں بھارت کی مداخلت بھی شامل سمجھی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیشی الیکشن جیتنے والی BNPکا مودی سرکار کو بڑا جھٹکا
سہیل وڑائچ نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربرا اور خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان وزیراعظم بن جاتے ہیں تو یہ پاکستانی خارجہ پالیسی کی ایک بہت بڑی فتح ہوگی۔ ان کے مطابق 1971ء کے زخموں کے تناظر میں یہ تبدیلی بھارت کے لیے سفارتی دھچکا ہے اور پاکستان کے لیے علاقائی سطح پر نئی سفارتی گنجائش پیدا کر سکتی ہے۔ سہیل وڑائج کا مؤقف ہے کہ یہ وقت جذباتی بیانات کے بجائے دانشمندانہ حکمت عملی کا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کو باہمی زخموں پر مرہم رکھنے اور مشترکات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش میں تیز رفتار سیاسی تبدیلیاں اس خطے میں پاکستان کے لیے ایک نئی سفارتی کھڑکی کھول سکتی ہیں بشرطیکہ دونوں ممالک ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کی شراکت داری کی طرف بڑھیں۔
