بلوچستان میں بیٹیوں کے باپ کب تک لاپتہ کیے جاتے رہیں گے؟

سینیئر اینکر پرسن اور صحافی اور حامد میر نے کہا ہے کہ جب تک بلوچستان میں معصوم بیٹیوں کے باپ لاپتہ کیے جاتے رہیں گے، وہاں ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ جیسی بلوچ مزاحمت پسند بیٹیاں بھی جنم لیتی رہیں گی۔

حامد میر روزنامہ جنگ کے لیے لکھتے ہیں کہ پچھلے ہفتے مجھے سمی دین بلوچ کا پیغام موصول ہوا کہ آج دوپہر ماہ رنگ بلوچ اور اُن کے ساتھیوں کی رہائی کیلئے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاج ہو گا۔ اسلام آباد میں نو آبادیاتی دور کی یادگار دفعہ 144 نافذ ہے۔ اب تو یہ قانون بھی بن گیا ہے کہ انتظامیہ سے تحریری اجازت حاصل کئے بغیر کوئی جلسہ جلوس کرے تو اُسے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے، یہ قانون نافذ ہونے کے بعد سابق سینیٹر مشتاق احمد خان فلسطین کا جھنڈا اٹھا کر سڑک پر آئے تو گرفتار کر لئے گئے ۔ طاہرہ عبد اللّٰہ اسرائیل کے خلاف احتجاج کیلئے سڑک پر آئیں تو گرفتار کر لی گئیں۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ سمی دین بلوچ نے جس مظاہرے کی اطلاع دی ہے اس کیلئے کوئی تحریری اجازت نامہ حاصل کیا گیا ہے یا نہیں لیکن میں نیشنل پریس کلب کے باہر پہنچ گیا ۔ مجھے وہاں کچھ معمر خواتین اور چھوٹی بچیاں نظر آئیں جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں لاپتہ افراد کی تصاویر تھام رکھی تھیں۔ میں یہ مناظر 2006 ء سے دیکھ رہا ہوں جب آمنہ مسعود جنجوعہ اپنے خاوند مسعود جنجوعہ کی تصویر اُٹھا کر پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے گیٹ پر کھڑی نظر آیا کرتی تھیں ۔ اُس زمانے میں عمران خان قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اکلوتے ایم این اے تھے ۔ایک دن وہ آمنہ مسعود جنجوعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر لے گئے اور انہوں نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں جس سے ملک میں آئین اور قانون کمزور ہو رہا ہے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ اس واقعے کو 20 سال گزر گئے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ کا خاوند واپس نہیں آیا۔ لیکن 20 سال بعد پھر کچھ بلوچ خواتین اسلام آباد میں اپنے پیار وں کی تصاویر اُٹھائے ریاست سے انصاف مانگ رہی ہیں۔ ان خواتین اور بچیوں نے سڑک پر مظاہرہ کرنے کی بجائے پریس کلب کے سامنے خالی جگہ پر بیٹھ کر احتجاج کی کوشش کی تا کہ پولیس یہ نہ کہے کہ آپ امن و امان خراب کر رہی ہیں۔ یہ خواتین خالی جگہ پر بیٹھ تو گئیں لیکن انہیں ٹینٹ لگانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے پولیس افسران سے درخواست کی کہ گرمی اور حبس ہے اس لیے خواتین کو سایہ فراہم کرنے کی اجازت دیں لیکن پولیس افسران کا کہنا تھا کہ وہ مجبور ہیں۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ مجھے وہاں ایک بچی نظر آئی جس نے جہاں زیب محمد حسنی کی تصویر اٹھا رکھی تھی ۔ دسمبر 2023 ء میں ماہ رنگ بلوچ بہت سی خواتین اور بچوں کا قافلہ لیکر اسلام آباد آئی تو اس قافلے پر لاٹھی چارج کیا گیا اور پھر قافلے میں شامل عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ ان میں ایک معمر خاتون گل سیما بھی شامل تھی جس نے جہاں زیب محمد حسنی کی تصویر تھام رکھی تھی ۔ گل سیما نے مجھے بتایا تھا کہ اُسکا بیٹا جہاں زیب محمد حسنی درزی کا کام کرتا تھا ۔ 3 مئی 2016 ء کو وہ گھر پر تھا جب اسے گرفتار کیا گیا اور مجھے کہا گیا کہ ایک گھنٹے بعد چھوڑ دیں گے۔ لیکن میرا بیٹا کبھی واپس نہیں آیا۔ اس ماں کا کہنا تھا کہ اگر میرے بیٹے نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کر کے سزا دلواؤ لیکن ایسا نہ کرو، تاہم میرے پاس اُس کے دُکھ کا کوئی علاج نہیں تھا۔

سینیئر صحافی بتاتے ہیں کہ وہ ماں آج مجھے نظر نہیں آ رہی تھی لیکن اُس کے بیٹے کی تصویر ایک ننھی بچی کے ہاتھ میں دیکھ کر تجسس پیدا ہوا کہ یہ بچی کون ہے؟ میں اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ بیٹی تم کون ہو ؟ اُس نے کہا میں جہاں زیب محمد حسنی کی بیٹی سیرت ہوں۔ یہ سُن کر مجھے محسوس ہوا کہ میں 2009 میں واپس چلا گیا ہوں۔ 16 سال قبل اسی جگہ پریس کلب کے باہر مجھے ڈاکٹر دین بلوچ کی بیٹی سمی دین بلوچ اور اسکی بہن مہلب بلوچ اپنے باپ کی تصویر ہاتھ میں اُٹھائے ملی تھی۔ وہ بھی اس وقت چھوٹی سی بچی تھی۔ میں جہاں زیب محمد حسنی کی بیٹی سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔اس نے کچھ دور بیٹھی ایک عورت کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ جب ابو کو اُٹھایا گیا تو میں اپنی ماں کے پیٹ میں تھی اب میری عمر 9 سال ہے، میں پانچویں جماعت میں پڑھتی ہوں میں اپنے ابو کو کبھی نہیں ملی۔ یہ سن کر میرے دل سے دعا نکلی کہ یا اللّٰہ اس بیٹی کو اسکے باپ سے ملوا دے ۔

میں اس بچی کے ساتھ بیٹھ گیا، پھر بہت سے کیمرے اور مائیک میرے سامنے آ گئے۔ سوالات پوچھے جانے لگے۔ مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ میں کیا بول رہا ہوں ۔ بہت سال پہلے ماہ رنگ بلوچ بھی اپنے لاپتہ باپ کی بازیابی کیلئے شہر شہر مظاہرے کرتی تھی ۔ پھر اُسے باپ کی گولیوں سے چھلنی لاش دی گئی ۔ آج ریاست ماہ رنگ بلوچ کو دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیتی ہے ۔ اب تو وہ ریاست کی قید میں ہے تو پھر اس کے خلاف دہشت گردی کے ثبوت عدالت میں پیش کیوں نہیں کیے جاتے؟ کچھ سال بعد جہاں زیب محمد حسنی کی بیٹی کو بھی دہشت گرد قرار دیدیا جائے گا ۔

تحریک انصاف کے لفنگوں اور شوہدوں کا مستقبل تاریک کیوں ہے ؟

حامد میر کہتے ہیں کہ کیا کسی بیٹی سے اُسکا باپ چھین کر اُسے دہشت گرد قرار دینا کسی مسئلے کا حل ہے؟ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ نواز شریف نے اپنے آخری دور میں 2013 ء سے 2017 ءکے دوران اور عمران خان نے 2018سے 2022 کے دوران جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن دونوں ناکام رہے ۔ میں جب بھی کسی بیٹی سے اُسکا باپ چھیننے کی پالیسی پر تنقید کرتا ہوں تو مجھے بھی دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیا جاتا ہے ۔ جب سے میں نے جہاں زیب محمد حسنی کی نو سالہ بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُسے انصاف دینے کا مطالبہ کیا ہے تو سوشل میڈیاپر گالیوں اور الزامات کا ایک طوفان ہے ۔ کسی نے مجھے بھارتی ایجنٹ تو کسی نے اجمل قصاب کا ساتھی قرار دیا ۔ کسی نے کہا کہ یہ ملک ریاض سے پیسے اور پلاٹ لینے والا ہے تو کسی نے کہا یہ امریکی ایجنٹ ہے۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ میں کئی سال سے انواع واقسام کے الزامات کا سامنا کر رہا ہوں۔ عرض یہ ہے کہ ان الزامات کو عدالت میں لائیے اور ثابت کیجئے۔ آجکل کی عدالتوں میں الزامات ثابت کرنے کا چیلنج دینا خطرے سے خالی نہیں لیکن کچھ تو کیجئے۔ آخر میں وزیر اعظم شہباز شریف سے گزارش ہے کہ جہاں زیب محمد حسنی کی نو سالہ بیٹی سیرت کو صرف یہ بتا دیں کہ اُسکا باپ کہاں رکھا گیا ہے؟ خدارا ایک اور بیٹی کو ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ نہ بنائیں۔

Back to top button