تحریک انصاف کے لفنگوں اور شوہدوں کا مستقبل تاریک کیوں ہے ؟

سینیئر اینکر پرسن اور صحافی سہیل وڑائچ نے تحریک انصاف کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں آج کل بد تہذیب، لفنگے اور شوہدے عناصر چھائے نظر آتے ہیں۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ لفنگے اور شوہدے عقل و فہم سے عاری ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے جذبات کے غلام ہوتے ہیں اور اکثر ہذیان بکتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ زبان کو خنجر بنا کر انسانوں کے جذبات کا قتل کرتے ہیں، معاشرے میں نفرت پھیلاتے ہیں اور محبت دشمنی ان کا شیوہ ہوتی ہے، لہذا ناکامی ان کا مقدر ہے چاہے یہ جو مرضی کر لیں۔ اگر ہمارے معاشرے نے آگے بڑھنا ہے اور ترقی کرنی ہے تو اس سے مہذب بننا ہوگا، لہٰذا لفنگوں اور شوہدوں کا مستقبل تاریک ہے۔
سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ انسان نے جب کبھی شائستگی، تہذیب اور لطافت سیکھی ہو گی تب ہی اس میں بدتمیزی، بدتہذیبی اور کثافت آگئی ہو گی۔ کسی بھی معاشرے، جماعت یا زمانے کو جب مہذب، شائستہ اور لطیف کہا جاتا ہے تا اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس معاشرے کی اکثریت ایسے ہی افراد پر مشتمل ہو گی وگرنہ سارے لوگ تو اچھے نہیں ہوتے، اسی طرح جب کسی معاشرے، دور یا جماعت کو بدتمیز، گالی گلوچ کا شائق اور اخلاق باختہ کہا جاتا ہے تو اس کے سب لوگوں کا ذکر نہیں کیا جا رہا ہوتا، ایسے معاشرے میں بھی کچھ لوگ شائستہ اور مہذب ہوتے ہیں لیکن وہ قدرے دبے ہوئے ہوتے ہیں اور انکی آواز اس اجتماعی دھارے میں سنائی نہیں دیتی۔
سہیل وڑائچ کے بقول تاریخ کی کہانی تو بہت قدیم ہے، ہر زمانے میں شریف بدمعاش، اچھے برے، شائستہ بدتمیز، شیریں بیاں اور تلخ زبان، نرم لہجے والے اور گالیاں دینے والے موجود رہے ہیں، لیکن یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ یہاں کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال نے اکثریت کے دہن کو بگاڑ دیا ہے
وہ لوگ جو غنچہ دہن تھے یا جن کے دانتوں میں دندل پڑی رہتی تھے وہ بھی اب چیختے چنگھاڑتے اور اونچا اونچا بولتے نظر آتے ہیں۔ اگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ معاشرتی حالات نےان کا توازن بگاڑ دیا ہے اور وہ بس اسی عدم توازن کی وجہ سے لڑکھڑا رہے ہیں۔ جسم تو لڑکھڑا ہی رہا ہے، ان کی زبان میں بھی اونچ نیچ آ رہی ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ تاریخ کے اوراق کو الٹیں تو پتہ چلتا ہے کہ جب غدر کے دوران دلی کو لوٹا گیا تو شہر کے تلنگے ہر شریف اور عزت دار شخص کو ذلیل بھی کرتے اور اسے لوٹ کر دین دین کے نعرے لگا کر خوشی کا اظہار بھی کرتے تھے۔ لکھنؤ کی شاعرانہ تہذیب میں پیر بخاری کی شوہدن کا ذکر ملتا ہے۔ لکھنؤ کے شرفاء آپس میں لڑ بھی پڑتے تو بھی گالیوں اور طعنوں جیسی ذلیل حرکت کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے اس لیے لکھنؤ کے علاقہ پیر بخاری میں کرائے کی شوہدنیں ملتی تھیں جو شرفا ءکی لڑائی میں ان کی ہم رکاب ہو کر فریق مخالف کو گالیاں اور طعنے دیتی تھیں۔ یہ خواتین اپنے فن میں اس قدر طاق تھیں کہ شرفاء زیادہ سے زیادہ کرائے پر انہیں لاتے تھے کیونکہ جتنا زیادہ کرایہ ہوتا تھا، اتنی کراری گالیاں میسر آتیں۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ آج کے گردوپیش کو دیکھیں تو ا یسا لگتا ہے ہر طرف بدتہذیبی اور بدتمیزی کا راج ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جو خود بدتمیزی نہیں کرتے وہ دوسروں کے ساتھ ہونیوالی بدتہذیبی کا مزا لیتے ہیں، آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا مواد بھی ایسا ہی ہوتا ہے، لوگ کسی کی بدتمیزی کا مزے لے کر لطف اندوز ہوتے ہیں، یعنی کسی کی بے عزتی دیکھ کر لوگ ذہنی سکون محسوس کرتے ہیں، گویا اب کتھارسس غموں کو محسوس کر کے ہوئے آنسو بہانے اور سکون پانے کا نام نہیں رہا، اب کتھارسس کسی کا ٹھٹہ اڑانے کا نام ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ تاریخ و تہذیب کے درمیان تعلق کا جائزہ لیں تو یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ بدتہذیبی اور بدتمیزی کو عروج پُرفتن ماحول میں ملتا ہے، گویا بد تمیزی ہر معاشرے میں کہیں نہ کہیں ڈھکی چھپی موجود ہوتی ہے لیکن اس کو بڑھاوا پُرفتن دور میں ہی ملتا ہے۔ دراصل انارکی اور بدتہذیبی ایکدوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔ لفنگوں اور شوہدوں کو انارکی، لڑالی جھگڑا، مخاصمت اور گرما گرمی بہت ذیادہ راس آتی ہے۔ جونہی مصالحت،امن اور سکون معاشرے پر چھاتے ہیں لفنگے اور شوہدے غائب ہو کر کونوں کھدروں میں جا چھپتے ہیں۔
سہیل وڑائچ سوال کرتے ہیں کہ آج کے لفنگے اور شوہدے کون ہیں؟ وہ بتاتے ہیں کہ آج کے لفنگے وہی ہیں جو مصالحت کے نام پر بھڑک اٹھتے ہیں، جو معاشرے میں انارکی کو فروغ دیتے ہیں، جنکے چہرے ہر وقت تنے ہوتے ہیں، ان کی آنکھوں میں خون اور زبان پر گالی ہوتی ہے، انکے ہاتھوں سے کسی کی عزت محفوظ نہیں، یہ ہر کسی کو بے عزت کرتے ہیں تا کہ جیسے بے توقیر یہ خود ہیں، ویسے ہی دوسرے بھی ہو جائیں۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ لفنگے اور کرائے کی شوہدن ہر وہ شخص یا عورت ہے جو الزام ،دشنام اور بدزبانی پر یقین رکھتے ہوئے شر پھیلاتا یا پھیلاتی ہے۔ ہر ایک سے بدگمانی، ہر ایک پر شک، ہر کسی کو گالی، ہر ایک کا مذاق اڑانا، لفنگوں اور شہدوں کا معمول ہوتا ہے، جو بھی ان لفنگوں اور شوہدوں کا شریک کار ہوتا ہے یا ان کے ساتھ مل کر تالیاں بجاتا ہے وہ بھی لفنگا اور شوہدا ہی کہلاتاہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق تاریخ کے اوراق پلٹیں یا لغات میں تلاش کریں تو پتہ چلتا ہے کہ لفنگے اور شوہدے عقل سے عاری وہ لوگ ہوتے ہیں جن پر جذبات طاری رہتے ہیں جو زبان کی مٹھاس پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ زبان کو خنجر بنا کر انسان قتل کرتے ہیں۔ یہ وہ بد تہذیب کردار ہیں جو معاشرے میں نفرت پھیلاتے ہیں اور محبت کے دشمن بن جاتے ہیں، لہذا ناکامی ان جیسوں کا مقدر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی بحران آتا ہے تو لفنگوں اور شوہدوں کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔ وہ کبھی سڑکوں پر نعرے بازی کرتے ہیں اور کبھی سوشل میڈیا پر گند مچا کر لائکس حاصل کرتے ہیں، کبھی انکے طنز اور مذاق وائرل ہو جاتے ہیں تو کبھی انکے Hits آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں، لیکن وہ تاریخ کا یہ سبق بھول جاتے ہیں کہ جب روشنی آتی ہے تو اندھیرا بھاگ جاتا ہے، جب امن آتا ہے تو بدامنی فرار ہو جاتی ہے، جب شائستگی آتی ہے تو بد زبانی اور بد تہذیبی زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اگر پاکستانی معاشرے نے آگے بڑھنا اور اقوام عالم میں ترقی کرنا ہے تو لفنگوں اور شوہدوں سے چھٹکارا حاصل کرنا لازمی ہو چکا ہے۔
