برف پگھلنے لگی،وزیراعظم نے اچکزئی کو اہم پیغام بھجوا دیا

پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھولتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو ملاقات کا پیغام بھجوا دیا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، انتخابی معاملات اور پارلیمانی تنازعات کے درمیان اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے بھیجے گئے پیغام میں اپوزیشن کے ساتھ بامقصد سیاسی مکالمے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے تاکہ موجودہ سیاسی تناؤ کو کم کیا جا سکے اور اہم قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔ تاہم محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم ہاؤس یا وزیراعظم آفس میں ملاقات سے معذرت کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ بات چیت کسی غیر جانبدار مقام پر ہونی چاہیے تاکہ مذاکرات کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر محمود خان اچکزئی نے وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ کی رہائشگاہ پر ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس ممکنہ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری سمیت کئی اہم آئینی اور سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق حکومت اس وقت اپوزیشن کے ساتھ محاذ آرائی کم کر کے ایک نسبتاً مفاہمتی ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے، کیونکہ ملک کو درپیش معاشی، سیاسی اور انتظامی چیلنجز میں مسلسل کشیدگی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن بھی پارلیمانی قوت کو منظم رکھنے اور آئینی معاملات پر اپنا مؤقف مضبوط کرنے کیلئے رابطوں میں تیزی لا رہی ہے۔
اسی تناظر میں محمود خان اچکزئی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس کی لابی میں ہونے والی ملاقات کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ملک کی سیاسی صورتحال، پارلیمانی حکمت عملی، اپوزیشن اتحاد اور قومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس کے معاملات پر تفصیلی مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ حکومت کے مقابلے میں ایک مشترکہ اور مضبوط حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے حکومتی طرزِ عمل، پارلیمانی کارروائی اور آئندہ سیاسی منظرنامے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اس بات کا اشارہ ہے کہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اپوزیشن بھی مکمل محاذ آرائی کے بجائے سیاسی مفاہمت کے راستے کھلے رکھنا چاہتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن ممبران کی تقرری جیسے حساس معاملات میں سیاسی اتفاقِ رائے نہ ہونے کی صورت میں ایک نیا آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اب سب کی نظریں وزیر اعظم شہباز شریف کی اپوزیشن لیڈر سے اس ممکنہ ملاقات پر مرکوز ہیں کہ آیا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ رابطے واقعی کسی بڑی سیاسی مفاہمت میں تبدیل ہوں گے یا یہ صرف وقتی سیاسی دباؤ کم کرنے کی کوشش ثابت ہوں گے۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ پاکستان کی سیاست ایک بار پھر مذاکرات، رابطوں اور بیک ڈور ڈپلومیسی کے نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
